والد کی موت طبعی نہیں، انھیں قتل کیا گیا؛ ایرانی صدر رفسنجانی کی بیٹی کا حکومت پر الزام
اشاعت کی تاریخ: 30th, October 2025 GMT
ایران کے سابق صدر علی اکبر رفسنجانی کی بیٹی کے ایک حیران کن بیان نے عالمی سطح پر توجہ حاصل کرلی اور ایرانی عدالت نے بھی نوٹس لے لیا۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق ایران کی عدالت نے علی اکبر رفسنجانی کی بیٹی فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو طلب کر لیا۔ ان پر ایک عدالتی اہلکار نے کیس کیا تھا۔
فائزہ ہاشمی رفسنجانی پر یہ کیس اُس بیان کے بعد کیا گیا جس میں انھوں نے حکومت پر اپنے والد سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کو قتل کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔
فائزہ ہاشمی رفسنجانی کو بے بنیاد بیان اور غیر مصدقہ الزام لگانے پر وضاحت کے لیے عدالت طلب کیا گیا ہے۔
سابق صدر کی بیٹی نے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ میرے والد کے قتل کا ذمہ دار کچھ لوگ اسرائیل یا روس کو سمجھتے ہیں لیکن میرے نزدیک قتل میں حکومتی لوگ ملوث تھے۔
فائزہ رفسنجانی نے مزید کہا تھا کہ والد علی اکبر رفسنجانی بعض ملکی اہم شخصیات کی راہ میں بھی رکاوٹ تھے۔ اس لیے اُن افراد نے والد کو راستے سے ہٹا دیا۔
یاد رہے کہ یہ پہلی بار نہیں جب سابق صدر علی اکبر رفسنجانی کے اہل خانہ نے طبعی موت کے بجائے قتل کا الزام لگایا ہو۔
اس سے قبل سابق صدر کے بیٹے محسن رفسنجانی اور ایک اور بہن فاطمہ بھی اپنے والد کی موت کو پُراسرار قرار دیکر طبعی وجہ ہونے سے کو مسترد کرچکے ہیں۔
پاسداران انقلاب کے سابق کمانڈر یحییٰ رحیم صفوی کے بیانات نے بھی اس معاملے پر تنازع کھڑا کر دیا تھا۔
سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی 17 اگست 1989 سے 2 اگست 1997 تک مسلسل دو بار ملک کے صدر رہے اور جنوری 2017 میں شمالی تہران میں انتقال کر گئے تھے۔
خیال رہے کہ 2005 کے صدارتی انتخابات کے بعد اور محمود احمدی نژاد کے اقتدار میں آنے پر علی اکبر رفسنجانی حکومت کے اہم ناقدین میں سے ایک بن گئے تھے۔
علاوہ ازیں 2009 کے انتخابات کے دوران ان کے اختلافات ایران کے سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے ساتھ بھی بڑھ گئے تھے۔
اسی طرح 2013 کے انتخابات میں امیدوار کے طور پر باضابطہ رجسٹریشن کے باوجود آئینی نگہبان کونسل نےانھیں الیکشن لڑنے سے روک دیا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: علی اکبر رفسنجانی سابق صدر علی اکبر ہاشمی رفسنجانی کی بیٹی
پڑھیں:
علی الزیدی کا ایران کا اہم دورہ، دوطرفہ تعلقات بڑھانے پر اتفاق
ایرانی صدر سے ملاقات میں عراقی وزیراعظم کا کہنا تھا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ اسلام ٹائمز۔ امریکا کے دورے کے بعد عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے ایران کا اہم دورہ کیا، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور اعلیٰ ایرانی قیادت سے ملاقاتیں کیں۔خبر ایجنسی کے مطابق ایرانی صدر مسعود پزشکیان اور عراقی وزیراعظم کے درمیان ہونے والے مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون، توانائی، تجارت اور علاقائی سلامتی سمیت مختلف امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں ممالک نے اقتصادی تعاون اور مشترکہ سرمایہ کاری کو فروغ دینے پر اتفاق کیا، جبکہ نقل و حمل اور شہری تعاون سے متعلق نئے معاہدے بھی طے پائے۔
عراقی وزیراعظم علی الزیدی نے اس موقع پر کہا کہ عراق اور ایران کی سلامتی ایک دوسرے سے جڑی ہوئی ہے اور عراق اپنی سرزمین ایران کے خلاف کسی بھی کارروائی کے لیے استعمال نہیں ہونے دے گا۔ ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے کہا کہ ایران اور عراق کے درمیان تاریخی، مذہبی اور ثقافتی رشتے نہایت مضبوط ہیں، جبکہ خطے کا استحکام دونوں ممالک کی ترقی اور خوشحالی کے لیے ناگزیر ہے۔ خبر ایجنسی کے مطابق دورے کے اختتام پر منعقدہ دستخطی تقریب میں ایرانی اور عراقی وزراء نے مختلف تعاون کے معاہدوں کا تبادلہ بھی کیا۔