لاہور کینال میں شپ ریسٹورنٹ کی تیاریاں، منصوبے کی خاص بات کیا ہے؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, November 2025 GMT
شہرِ لاہور، جو بادشاہوں کی یادوں، مغلیہ فنِ تعمیر اور زندہ دل ثقافت کی وجہ سے دنیا بھر میں مشہور ہے، اب سیاحت کے ایک نئے دور میں داخل ہونے جا رہا ہے۔
صوبائی دارالحکومت کی مشہور لاہور کینال، جو مغل دور سے چلی آ رہی ہے اور شہر کی خوبصورتی کا ایک نمایاں حصہ سمجھی جاتی ہے، جلد ایک منفرد شپ ریسٹورنٹ کی میزبانی کرے گی۔
یہ منصوبہ وزیرِ اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی قیادت میں حکومتِ پنجاب کی جانب سے سیاحت کے فروغ کے لیے ایک اہم سنگِ میل قرار دیا جا رہا ہے، جو لاہور کو نہ صرف مقامی بلکہ بین الاقوامی سیاحوں کے لیے بھی مزید پرکشش بنائے گا۔
مزید پڑھیں: پی کے ایل آئی میں جگر کی پیوندکاری کے ایک ہزار آپریشن مکمل، وزیرِ اعظم کا اظہار تشکر
تاریخی لاہور کینال، ماضی اور حال کا امتزاجلاہور کینال، جو دریائے راوی سے نکلتی ہے، مغل بادشاہوں کے دور میں آبپاشی اور تفریح کے مقاصد کے لیے تعمیر کی گئی تھی۔ آج یہ شہر کی لائف لائن کہلاتی ہے، جس کے کناروں پر پارکس، جھولی لال مندر اور جلو کے علاقے میں تفریحی مقامات سیاحوں کی توجہ کا مرکز ہیں۔ تاہم، بڑھتی آبادی اور سیاحت کی صلاحیت کو مدنظر رکھتے ہوئے وزیراعلیٰ مریم نواز نے اس کینال کو جدید تفریحی مرکز میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
وزیر اعلیٰ مریم نواز کی حکومت کا لاہور سیاحت
کے فروغ کیلئے منفرد منصوبہ۔۔۔ pic.
— Government of Punjab (@GovtofPunjabPK) November 4, 2025
یہ منصوبہ پنجاب کابینہ کی منظوری کے بعد پارکس اینڈ ہارٹیکلچر اتھارٹی (پی ایچ اے) لاہور کے سپرد کیا گیا ہے، جو شہر کے سبزہ زاروں اور پارکس کی دیکھ بھال کرتی ہے۔ پی ایچ اے نے منصوبے کے لیے ٹینڈرز طلب کر لیے ہیں اور ہدف رکھا گیا ہے کہ پراجیکٹ رواں مالی سال (2025-26) کے دوران مکمل کیا جائے۔
مزید پڑھیں: سعودی اعلیٰ سطحی وفد کا دورہ پاکستان ملکی معیشت کے لیے اہم کیوں ہے؟
3 منزلہ شپ ریسٹورنٹ کا خاکہڈائریکٹر جنرل پی ایچ اے لاہور راجا منصور احمد کے مطابق شپ ریسٹورنٹ جلو کے قریب لاہور کینال میں تعمیر کیا جائے گا، جہاں پی ایچ اے کی ایک تفریح گاہ پہلے سے موجود ہے۔ یہ شپ 3 منزلہ ہوگا اور بیک وقت 80 افراد کے بیٹھنے کی گنجائش رکھے گا۔ منصوبے میں الگ کچن، پارکنگ اور دیگر سہولیات شامل ہیں۔
ریسٹورنٹ میں داخلہ مفت ہوگا جبکہ کھانے کی قیمت ادا کرنی ہوگی۔ اس کا آپریشن آؤٹ سورس کیا جائے گا اور ترجیح معیاری فوڈ چینز کو دی جائے گی تاکہ کھانے کا معیار برقرار رکھا جا سکے۔
راجا منصور احمد کا کہنا ہے کہ یہ منصوبہ نہ صرف لاہوریوں اور دیگر شہروں سے آنے والے سیاحوں کو معیاری کھانوں کی فراہمی یقینی بنائے گا بلکہ روزگار کے نئے مواقع بھی پیدا کرے گا۔
مزید پڑھیں: پنجاب حکومت کے بروقت اقدامات سے تحصیل فیروزوالہ، شیخوپورہ میں سینکڑوں جانیں بچ گئیں
ان کے مطابق، وزیراعلیٰ مریم نواز کا وژن ہے کہ لاہور کو سیاحت کا عالمی مرکز بنایا جائے۔ یہ شپ ریسٹورنٹ تفریح کے ساتھ ساتھ شہر کی معیشت کو بھی فروغ دے گا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ کینال کے کنارے واکنگ ٹریکس، بوٹنگ ایریاز اور پکنک اسپاٹس بھی بنائے جائیں گے۔ وزیراعلیٰ کی قیادت میں صوبہ پنجاب اس وقت انفراسٹرکچر، تفریح اور سیاحت کے فروغ پر بھرپور توجہ دے رہا ہے۔
سیاحت کو نئی بلندیوں پر لے جانے والا منصوبہیہ منصوبہ لاہور کی سیاحت کو نئی جہت فراہم کرے گا، جہاں کینال کے دلکش مناظر کے درمیان شپ پر کھانے کا تجربہ سیاحوں کے لیے ایک یادگار لمحہ ہوگا۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ ایسے منفرد اور تخلیقی منصوبے شہر کی معیشت کو تقویت دیں گے اور غیر ملکی سیاحوں کی آمد میں اضافہ کریں گے۔
پی ایچ اے کے مطابق، منصوبہ مکمل ہونے کے بعد لاہور کینال کو بین الاقوامی شہرت حاصل ہوگی، اور یہ پراجیکٹ شہر کی ثقافت، جدیدیت اور مہمان نوازی کی علامت بن جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
شپ ریسٹورنٹ شہرِ لاہور لاہور کینال وزیر اعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: شپ ریسٹورنٹ شہر لاہور لاہور کینال وزیر اعلی پنجاب مریم نواز شریف شپ ریسٹورنٹ لاہور کینال یہ منصوبہ مریم نواز پی ایچ اے سیاحت کے لاہور کی کے لیے شہر کی
پڑھیں:
بارشوں کے پانی نے لاہور انتظامیہ کی پول کھول دی‘ اقبال ٹاﺅن اور جوہر ٹاﺅن میں مرکزی شاہراﺅں پر شگاف پڑگئے
لاہور(اردوپوائنٹ اخبارتازہ ترین-انٹرنیشنل پریس ایجنسی۔23 جولائی ۔2026 ) صوبائی دارالحکومت لاہور میں علامہ اقبال ٹاﺅن مین بلیوارڈکی سروس روڈپربھیکے وال کے نزدیک 10فٹ گہرا شگاف پڑگیا ہے‘اسی طرح جوہر ٹاﺅن مصروف ترین شاہراہ خیابان فردوسی پر ایک اورگڑھا پڑ گیاہے گزشتہ تین روز کے دوران مذکورہ سڑک پریہ دوسرا گڑھا پڑا. بارش کے بعد مرکزی شاہراہ پر گڑھنے پڑنے سے حادثات کا خدشہ بڑھ گیا حکام کے مطابق سڑک کی مرمت کا کام شروع ہوگیا گڑھا پڑنے سے ٹریفک کی روانی جزوی طور پر متا ثر ہوئی دوسری جانب اقبال ٹاﺅن میں بھیکے والے موڑ جانب فاروق ہسپتال سروس روڈ پر 10 فٹ گہرا شگاف پڑ گیا.(جاری ہے)
سڑک کے درمیان پڑنے والے گہرے شگاف کے باعث ٹریفک کی روانی متاثر ہو رہی ہے شگاف پڑنے سے کوئی جانی نقصان نہیں ہوا، متعلقہ افسران اور واسا کی ٹیمیں موجود ہیں ٹریفک پولیس کا کہنا ہے کہ متعلقہ محکموں نے سروس روڈ پر شگاف پر کرنے کیلئے کام شروع کردیا. واضح رہے کہ 17جولائی کو ہونے والی بارش سے فیروزپور روڈ پرنشتر کالونی کے قریب سروس روڈ کا ایک حصہ بیٹھ گیا تھا جس کے نتیجے میں وہاں کھڑی تین موٹر سائیکلیں گڑھے میں جا گریں تھیں. شہریوں کا کہنا ہے کہ پورے شہر کے اندر یہی حال ہے بارشوں میںمتوسط آبادیوںکے اندر سڑکوں کے بیٹھ جانے کے واقعات زیادہ ہوتے ہیں مگر انہیں کوریج نہیں ملتی‘نجی یونیورسٹی کے لیکچرار معاذالاسلام سول انجینئرنگ پڑھاتے ہیں ان کا کہنا ہے کہ بدقسمتی سے پاکستان میں سب سے زیادہ بدعنوانی اس شعبے میں ہے ناقص میٹریل اور زمین کی کمپریشن عالمی لیول کی نہیں کی جاتی . ان کا کہنا ہے کہ ٹھیکے دار اب کئی دن مٹی کو کمپریس کرنے میں نہیں لگا اور نہ ہی میٹریل ڈالنے کے بعد ٹھیک طریقے سے اسے کمپریس کیا جاتا ہے ‘مٹی نرم ہونے سے اگر پانی راستہ بنالے تو چند ہفتوں میں ہی اس ایریا کے نیچے زمین کھوکھلی ہوجاتی ہے اور بارشوں کے دوران شگاف پڑنے لگتے ہیں. انہوں نے بتایا کہ لاہور فیصل آباد موٹر وے کو جب تجرباتی طور پرچھوٹی گاڑیوں کے لیے کھولا گیا تھا تو لاہور سے فیصل آباد کے سفر کے دوران انہوں نے نوٹ کیا تھا کہ کئی سو ارب کی لاگت سے بنی اس سڑک میں لیول کا بھی خیال نہیں رکھا تھا اور یہ موٹروے مکمل طور پر ناہموار تھا جس پر انہوں نے کچھ دیگر انجینئرز کے ساتھ مل کر ایک تجزیاتی رپورٹ این ایچ اے اور پنجاب حکومت کو ارسال کی تھی تاہم آج تک ہمیں اس پر کوئی جواب نہیں ملا.