استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی نگرانی مرکزی جنرل سیکرٹری میاں خالد محمود، رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید صمصام بخاری، صدر پنجاب رانا نذیر احمد خان کریں گے۔ اسلام ٹائمز۔ پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کے حوالے سے استحکام پاکستان پارٹی نے تیاریاں شروع کر دی ہیں۔ مرکزی صدر عبدالعلیم خان نے بلدیاتی انتخابات کیلئے لاہور سمیت پنجاب کی قیادت کو ٹاسک سونپ دیئے ہیں۔ استحکام پاکستان پارٹی کے صدر عبدالعلیم خان کی ہدایات کے مطابق پنجاب میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی نگرانی مرکزی جنرل سیکرٹری میاں خالد محمود، رکن پنجاب اسمبلی شعیب صدیقی اور مرکزی سیکرٹری اطلاعات سید صمصام بخاری، صدر پنجاب رانا نذیر احمد خان کریں گے۔
 
لاہور ڈویژن میں بلدیاتی انتخابات کی تیاریوں کی نگرانی آئی پی پی لاہور کے صدر ملک زمان نصیب کریں گے۔ ہدایات کے مطابق کے ہر ڈویژن کے مرکزی عہدیدار اپنے اپنے اضلاع کی نگرانی کریں گے، جبکہ لاہور سمیت پنجاب بھر کے عہدیدار بلدیاتی انتخابات کیلئے امیدواروں کی فہرستیں تیار کر کے پارٹی کی مرکزی قیادت کو پیش کریں گے، امیدواروں کا حتمی فیصلہ مرکزی قیادت کرے گی۔
 
عبدالعلیم خان اور دیگر مرکزی قائدین ڈویژنل اور ضلع کے عہدیداروں کی سفارش پر امیدواروں کا حتمی فیصلہ کریں گے۔ عبدالعلیم خان کی جانب سے جاری کردہ ہدایات میں کہا گیا ہے کہ ایسے امیدوار سامنے لائے جائیں جو ایماندار اور سیاسی اثر و رسوخ رکھتے ہوں، جبکہ ہر یونین کونسل میں سیاسی طور پر مضبوط شخصیات کو پارٹی میں فوری شامل کیا جائے اور تنظیم سازی کے عمل کو بھی تیز کیا جائے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: استحکام پاکستان پارٹی میں بلدیاتی انتخابات بلدیاتی انتخابات کی عبدالعلیم خان کی نگرانی کریں گے

پڑھیں:

اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے

اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں گزشتہ ہفتے کے دوران اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے بعد مرکزی بینک کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 17 ارب 25 کروڑ 86 لاکھ ڈالر تک پہنچ گئے ہیں۔ ماہرین نے اس پیش رفت کو ملکی مالیاتی استحکام اور بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت کے لیے مثبت اشارہ قرار دیا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے ترجمان کی جانب سے جاری اعداد و شمار کے مطابق 18 جولائی کو ختم ہونے والے ہفتے کے دوران مرکزی بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں3 کروڑ 30 لاکھ ڈالر  کا اضافہ ہوا۔ ترجمان کے مطابق یہ اضافہ بیرونی ادائیگیوں کے مؤثر انتظام اور مالیاتی استحکام کے تناظر میں اہم پیش رفت ہے۔

اگرچہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں اضافہ ہوا، تاہم ملک کے مجموعی زرمبادلہ ذخائر معمولی کمی کے بعد 22 ارب 66 کروڑ 96 لاکھ ڈالر کی سطح پر آ گئے ہیں۔

اعداد و شمار کے مطابق کمرشل بینکوں کے پاس موجود غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 5 ارب 41 کروڑ 10 لاکھ ڈالر ریکارڈ کیے گئے، جس کے باعث مجموعی ذخائر میں معمولی کمی دیکھنے میں آئی۔

معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ اسٹیٹ بینک کے ذخائر میں مسلسل اضافہ اس بات کی علامت ہے کہ پاکستان کی بیرونی ادائیگیوں کی صلاحیت بہتر ہو رہی ہے، جبکہ درآمدی بل کی ادائیگی اور روپے کے استحکام کے لیے بھی یہ مثبت پیش رفت سمجھی جا رہی ہے۔

تاہم ماہرین نے اس بات کی بھی نشاندہی کی کہ مجموعی زرمبادلہ ذخائر میں کمی ظاہر کرتی ہے کہ کمرشل بینکوں کے ذخائر میں اتار چڑھاؤ کا سلسلہ برقرار ہے، جس پر مسلسل نظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

اقتصادی ماہرین کے مطابق اگر آنے والے ہفتوں میں ترسیلاتِ زر، بیرونی سرمایہ کاری، برآمدات اور بین الاقوامی مالی معاونت کا سلسلہ برقرار رہا تو پاکستان کے زرمبادلہ ذخائر میں مزید بہتری آنے کا امکان ہے، جس سے ملکی معیشت اور مالیاتی استحکام کو مزید تقویت مل سکتی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • پنجاب میں پہلی بار سیلاب کی پیشگی اطلاع کیلئے ڈرون مانیٹرنگ شروع
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • آزاد کشمیر انتخابات: استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس میں انتخابی اتحاد، سیٹ ایڈجسٹمنٹ پر اتفاق
  • آزاد کشمیر الیکشن، استحکام پاکستان پارٹی اور مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد پر اتفاق
  • استحکام پاکستان پارٹی آزاد کشمیر اور آل جموں و کشمیر مسلم کانفرنس کے درمیان انتخابی اتحاد طے
  • 25 جولائی کو گریٹر اقبال پارک میں پیپلز پارٹی کے جلسہ ؛ بلاول بھٹو ویڈیو لنک سے خطاب کریں گے ؛فیصل میر
  • اسٹیٹ بینک کے زرمبادلہ ذخائر میں اضافہ، مرکزی بینک کے ذخائر 17.25 ارب ڈالر سے تجاوز کر گئے
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • کے پی اسمبلی کا منظور شدہ بلدیاتی حکومت کا نیا ترمیمی بل آئین و قانون سے متصادم ہے، الیکشن کمیشن