پاکستان کے خلاف کسی کی بھی ہرزہ سرائی اور سازش برداشت اور قابل قبول نہیں، سینیٹر عبدالکریم
اشاعت کی تاریخ: 2nd, November 2025 GMT
ملتام میں حلف بردراری کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے مرکزی جمعیت اہلحدیث کے سربراہ کا کہنا تھا کہ ملکی استحکام کیلئے ہم ملکی اداروں کے شانہ بشانہ ہیں امت کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے ہم پرامن جہدوجہد کے قائل ہیں، ہم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ تھے ہیں اور رہیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ مرکزی جمعیت اہل حدیث پاکستان کے سربراہ سینیٹر ڈاکٹر حافظ عبد الکریم نے کہا ہے کہ ملک مزید کسی انتشار وخلفشار کا متحمل نہیں، ملکی استحکام کیلئے ہم ملکی اداروں کے شانہ بشانہ ہیں امت کا اتحاد وقت کی ضرورت ہے ہم پرامن جہدوجہد کے قائل ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے مرکزی جمعیت اہل حدیث جنوبی پنجاب کی تقریب حلف برداری سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ مرکزی جمعیت اہل حدیث کا جنوبی پنجاب میں علیحدہ نظم خوش آئند امر ہے، اس سے جماعت کے نظم کو مزید تقویت ملے گی۔ پاکستان کے خلاف کسی کی بھی ہرزہ سرائی اور سازش برداشت اور قابل قبول نہیں، ہم افواجِ پاکستان کے شانہ بشانہ تھے ہیں اور رہیں گے۔ اس موقع پر مرکزی ناظم اعلی مولانا عبد الرشید حجازی کا کہنا تھا کہ ہم نے نفاذ اسلام کیلئے ہمیشہ پرامن جہدوجہد کی اور کوشاں رہیں گے، تحفظ ختم نبوت، تحفظ ناموس رسالت، تحفظ ناموس صحابہ اور شعائر اسلام کیلئے اپنی جہدوجہد جاری رکھیں گے۔ اس موقع شیخ محمد شریف چنگوانی، امیر جنوبی پنجاب پروفیسر ڈاکٹر عبدالرحمن شارق، ناظم جنوبی پنجاب حافظ غلام اللہ، مولانا ظفر اللہ، قاری سیف اللہ عابد، علامہ عبدالرحیم گجر، علامہ عنایت اللہ رحمانی و دیگر نے خطاب کیا۔ سینیٹر حافظ عبدالکریم نے نومنتخب عہدیداران سے حلف لیا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: کے شانہ بشانہ مرکزی جمعیت پاکستان کے
پڑھیں:
کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
پریس کلب کوئٹہ میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے سکھ برادری کے رہنماؤں نے کہا کہ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر انکی عبادتگاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔ اسلام ٹائمز۔ کوئٹہ میں سکھ برادری کے رہنماء سردار جسبیر سنگھ اور کنزیومر سول سوسائٹی بلوچستان کے رہنماء خیر محمد شاہین نے کہا ہے کہ آرچر روڈ پر موجود سکھوں کا قدیمی گردوارہ 1953ء سے سینٹ گیبریل سکول قائم تھا، جسے مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانے کا کام شروع کیا گیا ہے، جس کی مذمت کرتے ہیں۔ یہ گردوارہ سکھ برادری نے تعلیمی سرگرمیوں کے لئے سینٹ گیبرل سکول کو دے رکھا تھا۔ انہوں نے وزیراعظم پاکستان اور دیگر اعلیٰ حکام سے مطالبہ کیا ہے کہ گزشتہ دنوں نامعلوم افراد کی جانب سے سکھوں کے مقدس گردوارے کی 90 سالہ پرانی عمارت کو مسمار کرنے کا نوٹس لیکر گردوارے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے کوئٹہ پریس کلب میں پریس کانفرنس کے دوران کیا۔
انہوں نے کہا کہ ملک بھر میں سکھ برادری کی ہزاروں ایکڑ اراضیات، مقدس مقامات بدستور لینڈ مافیا کے قبضے میں ہیں۔ حکومت کی جانب سے ان کی واگزاری کے لئے کوششیں بار آور ثابت نہیں ہو رہی ہے۔ آرچر روڈ پر واقع گردوارہ کو شری سنگھ بنیاد گرودت سنگھ نے تعمیر کیا تھا اور پرانے بندوبست کے ریکارڈ میں فرد انتقالات انہی کے نام سے اب بھی موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ وہی گرودت سنگھ ہے۔ جنہوں نے گورنمنٹ اسپیشل ہائی اسکول جو خالصہ کہلاتی تھی کی بنیاد رکھی تھی اور جاتے ہوئے اسکول کی 20 ایکڑ اراضی مقامی بچوں کی تعلیمی مقاصد کے لئے وقف کر دی تھی۔ یہ عمارت سینٹ گیبرل اسکول یا محکمہ اوقاف کی نہیں، بلکہ سکھوں کی مذہبی عبادت گاہ گردوارہ سکھ سبھا کی ملکیت ہے۔ سکھ برادری کو اعتماد میں لئے بغیر ان کی عبادت گاہ کی عمارت کو منہدم کر دیا گیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ مبینہ طور پر کہا جا رہا ہے کہ محکمہ اوقاف نے تجارتی مقاصد کے لئے عمارت کی زمین تجارتی بنیادوں پر فروخت کر دی ہے، اگر یہ درست ہے تو انتہائی تشویش کی بات ہے کہ محکمہ اوقاف متروکہ عمارت کی نگران ہوتی ہے مالک نہیں۔ محکمہ اوقاف سکھوں کے نمائندوں کی موجودگی میں سکھوں کی متراکہ املاک کو کس طرح قانون کے تحت فروخت کرنے کی مجاز ہے۔ 2014ء میں سپریم کورٹ نے واضح فیصلہ دیا تھا کہ پاکستان میں سکھوں کے تمام مقدس مقامات پر جائیدادوں کو حکومت پاکستان کی جانب سے مکمل تحفظ فراہم رہے گا۔ اس کے علاوہ آئین میں تمام اقلیتوں کے مذہبی عمارات کو تحفظ کا حق حاصل ہے۔ ہم وزیراعظم پاکستان اور اعلیٰ حکام سے مطالبہ کرتے ہیں کہ آرچر روڈ کے منہدم مذکورہ گردوارے کو فی الفور اس کی اصل حالت میں بحال کرکے اسے سکھ برادری کے حوالے کیا جائے تاکہ انصاف کے تقاضے پورے ہوسکیں۔