سابق چیئرمین

ڈیپارٹمنٹ آف میڈیا اینڈ کمیونیکیشن سٹڈیز ،اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور

پاکستان اور افغانستان کے درمیان سرحدی جھڑپوں اور محدود فضائی حملوں کے بعد دوحہ قطر میں منعقد ہونے والے طویل مذاکرات کے نتیجے میں مستقل جنگ بندی کا معاہدہ طے پاگیا۔اس معاہدہ میں قطر اور ترکیہ نے ثالثی کا کردار ادا کیا۔

معاہدے کی تفصیلات اور مکینیزم طے کرنے کیلئے مذاکرات کو جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا ہے۔دوحہ مذاکرات میں پاکستان کی طرف سے وزیر دفاع خواجہ محمد آصف اور آئی ایس آئی کے سربراہ و مشیر قومی سلامتی لیفٹننٹ جنرل عاصم ملک اور افغانستان کی طرف سے وزیر دفاع ملا یعقوب مجاہد اور انٹیلیجنس سربراہ عبد الحق واسع نے شرکت کی۔

سعودی عرب، قطر،ترکیہ ،چین نے اس معاہدے کو خوش آئند قرار دیا ہے جبکہ امریکہ، روس ،انڈیا اور دیگر یورپی ممالک کی طرف سے تاحال کوئی ردعمل نہیں آیا۔امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ ضرور کہا ہے کہ مجھے پاک افغان جنگ کے بارے میں معلوم ہوا ہے اس کو رکوانا میرے لئے بہت آسان ہے۔

اس معاہدہ کی خصوصیت یہ ہے کہ افغان گروپس کے مابین ماضی کے زبانی معاہدوں کے برعکس یہ ایک تحریری معاہدہ ہے جس میں سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ افغانستان نے اپنے حالیہ سابق موقف کے بر عکس پاکستان کے مطالبے پر کسی گروپ کو اپنی سر زمین کو پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کی اجازت نہ دینے کی یقین دھانی کرائی ہے۔

یہ نکتہ پاکستان کے اس موقف کی تائید کرتا ہے کہ ٹی ایل پی اور دیگر گروپ پاکستان کے خلاف کاروائیوں میں افغانستان کی سرزمین کو استعمال کررہے ہیں۔یقینا یہ پاکستان کی ایک سفارتی کامیابی ہے کہ برادر اسلامی ممالک نے پاکستان کے موقف کی تائید کرتے ہوئے افغانستان کو یہ یقین دھانی دینے پر رضا مند کیا۔ اور پہلی بار کسی معاہدے میں برادر اسلامی و دوست ممالک ثالث کا کردار ادا کرتے ہوئے معاہدے کے بعد دونوں ممالک کے اقدامات کو مانیٹر بھی کریں گے اور کسی خلاف ورزی کے حوالے سے شواہد کے مطابق فیصلہ بھی کریں گے۔

تاہم ماضی کے ریکارڈ کے پیش نظر اس یقین دہانی پر عملدرآمد کے بارے میں بہت سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں کیونکہ ایک تو افغان حکومت مختلف الخیال گروہوں پر مشتمل ہے اور دوسری طرف افغانستان میں ٹی ٹی پی کے علاؤہ کئی دہشت گروہ سرگرم عمل ہیں جن پر طالبان کا کنٹرول بوجوہ نظر نہیں آتا اور وہ اپنے تئیں کہیں بھی کوئی کاروائی کر سکتے ہیں۔اس لئے پاکستان کو اس سلسلے میں اندرون ملک اور تمام سرحدوں پر سخت مانیٹرنگ جاری رکھنی ہوگی۔انڈیا بھی اس معاہدے کو سبوتاژ کرنے کی کوشش کرسکتا ہے۔

اس معاہدے کی بڑی کمزوری ہے کہ فی الحال اس کے مکمل خدو خال واضح نہیں ہیں جس کا فائدہ اٹھاتے ہو ئے افغانی وزراء معاہدے کے بعد اپنی مرضی کے مطابق بیان بازی کرتے دکھائی دیتے ہیں۔انکے وزیر دفاع نے معاہدہ کے بعد کابل میں کی جانے والی پریس کانفرنس میں ڈیورنڈ لائن کے حوالے سے کئے جانے والے سوال پر اسے فرضی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس پر دوحہ میں کوئی بات نہیں ہوئی۔اس کے علاوہ انہوں نے الجزیرہ کو انٹرویو دیتے ہوئے ٹی ٹی پی کے حوالے سے سوال پر کہا ہے کہ پاکستان کا مسئلہ یہ ہے اس کی پالیسیوں سے جو بھی اختلاف کرتا ہے وہ اسے دہشت گرد قرار دے دیتاہے۔

اسی طرح یہ امر اہم ہے کہ افغانستان کے اصرار پر قطر نے معاہدے کے حوالے سے جاری پریس ریلیز سے بارڈر کا لفظ ایڈیٹ کرکے اسے دوبارہ جاری کیا ہے جسے طالبان اپنی بڑی کامیابی قرار دے رہے ہیں۔اس سے ظاہر ہوتا ہے کہ طالبان ڈیورنڈ لائن کو بارڈر نہ مان کر پاکستان کے خلاف ایک کارڈ کے طور پر استعمال کرنا چاہتے ہیں۔ جبکہ پاکستان نے تجارتی راہداریاں بند کرکے افغانستان پر دباؤ بڑھایا ہے۔تمام راہداریاں گزشتہ کئی روذ سے بند ہیں جس کی وجہ سے سینکڑوں مال بردار ٹرک اور گاڑ یاں دونوں طرف پھنسی ہوئی ہیں۔

دوسری طرف ا فغانستان نے انڈیا اور آئی سی سی کے زیر اثر اپنی کرکٹ ٹیم کو پاکستان میں منعقد ہونے والی ٹرائنگولر سیریز میں شرکت کرنے سے روک دیا ہے اور پاکستانی بمباری کے نتیجے میں 3 کلب کرکٹرز کی ہلاکت کا الزام بھی لگایا ہے۔جسکی پاکستان نے تردید کی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ افغانستان کی سر زمین سے ہونے والی دہشت گردی کے حوالے سے گزشتہ چار برسوں کے دوران پاکستان نے سفارتی سطح پر وہ تمام راستے اختیار کیے جو کسی ہمسایہ ملک سے تنازع کے حل کے لیے ممکن ہوتے ہیں۔

کابل میں پاکستانی سفارتخانے نے 180 سے زیادہ مرتبہ تحریری احتجاجی مراسلے افغان حکومت کے سپرد کیے۔ دس مرتبہ مشترکہ رابطہ کمیٹی کے اجلاسوں میں معاملہ اٹھایا۔ دو سو سے زیادہ بار آئی ایس آئی کے نمائندوں نے کابل جا کر افغان حکام سے بات چیت کی۔آٹھ سو سے زائد بار سفارتی سطح پر باضابطہ احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ تین مرتبہ چین کی ثالثی میں مذاکرات ہوئے۔ پانچ مرتبہ پاکستانی وزرائے خارجہ کابل جا کر اعلیٰ حکام سے ملے۔

پاکستان کا ایک ہی مطالبہ تھا کہ طالبان حکومت ٹی ٹی پی کو پناہ نہ دے اور افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر دہشت گرد حملوں سے روکے۔ اس کے جواب میں افغان حکام مختلف موقف اختیار کرتے ہوئے اس مطالبے کو پورا کرنے کی یقین دھانی دینے سے گریز کرتے رہے۔اپنی حکومت کے آغاز میں تو وہ اپنی سر زمین کو کسی کے خلاف استعمال نہ ہونے دینے کے عزم کا اظہار کرتے رہے لیکن بعدازاں موقف تبدیل کرتے ہوئے کبھی کہا گیا کہ ہم ان پر قدغن نہیں لگا سکتے کیونکہ وہ ہمارے کنٹرول میں نہیں ہیں۔کبھی کہا گیا کہ ٹی ٹی پی کا وجود تو افغانستان میں ہے ہی نہیں، کبھی کہا گیا کہ یہ پاکستان اور ٹی ٹی پی کا اندرونی معاملہ ہے۔ اور اسی دوران چار برسوں میں افغانستان کی سرزمین سے پاکستان پر ایک ہزار سے زائد دہشت گرد حملے ہوئے۔ جن میں 3800 سے زیادہ پاکستانی شہری اور اہلکار شہید ہوئے۔

تاہم پاکستان کے حالیہ فضائی حملوں اور سخت دفاعی اقدامات کے بعد بالآخر طالبان حکومت کو مجبوراً 48 گھنٹے کی جنگ بندی کی اپیل کرنی پڑی۔پاکستان نے اپنی جوابی کاروائی پوری کرنے کے بعد جنگ بندی پر رضامندی ظاہر کردی جس کے بعد دوحہ قطر میں ہونے والے مذاکرات میں طالبان رجیم نے پاکستان کے خلاف دہشت گردی میں ملوث گروہوں کو روکنے کا وعدہ کیا۔

معاہدے میں مزید طے پایا ہے کہ سرحدی علاقوں میں مکمل امن قائم رکھا جائے گا اور دونوں ممالک براہِ راست رابطے کے لیے مشترکہ سرحدی دفتر قائم کریں گے۔ معاہدے کے مطابق چمن، تورخم اور غلام خان جیسے حساس سرحدی علاقوں میں فائرنگ، دراندازی اور اشتعال انگیزی کو فوری طور پر بند کیا جائے گا۔ ایک مشترکہ رابطہ مرکز (Joint Border Coordination Office) دونوں ممالک کے فوجی افسران کے درمیان رابطے کا ذریعہ بنے گا تاکہ کسی بھی واقعے کو فوری طور پر حل کیا جا سکے۔

طالبان حکومت نے یقین دہانی کرائی ہے کہ افغانستان کی سرزمین کسی ایسے گروہ کے لیے استعمال نہیں ہونے دی جائے گی جو پاکستان کے خلاف کارروائی کرے۔ انہوں نے ٹی ٹی پی اور دیگر دہشت گرد عناصر کے خلاف پاکستان کے ساتھ معلومات کے تبادلے اور مشترکہ کارروائی کی بھی حامی بھری ہے۔

ساتھ ہی طالبان نے پاکستان سے یہ درخواست بھی کی ہے کہ وہ افغان مہاجرین کے ساتھ انسانی اور اسلامی اصولوں کے مطابق تعاون جاری رکھے۔ چمن اور تورخم پر تجارت کے لیے علیحدہ امن کاریڈور (Peace Corridor) قائم کیا جائے گا تاکہ عوامی آمد و رفت اور تجارتی سرگرمیاں محفوظ رہ سکیں۔ پاکستان عام شہریوں، تاجروں اور مریضوں کے لیے خصوصی پاس نظام متعارف کروائے گا جس پر پاکستان نے رضامندی ظاہر کی ہے۔

معاہدے کے مطابق دونوں ممالک کے سرکاری ترجمان اور میڈیا ادارے ایک دوسرے کے خلاف اشتعال انگیز بیانات سے گریز کریں گے اور اسلامی اخوت و باہمی احترام پر مبنی بیانات کو ترجیح دیں گے۔ اس معاہدے کی میزبانی اور نگرانی ریاستِ قطر کرے گی جبکہ چین اور ایران بطور ضامن ممالک اس کی حمایت کریں گے۔ ہر تین ماہ بعد ایک جائزہ اجلاس (Review Meeting) دوحہ میں منعقد ہوگا تاکہ معاہدے پر عملدرآمد کا جائزہ لیا جا سکے۔ یہ معاہدہ دستخط کے دن سے نافذ العمل ہوگا اور ابتدائی طور پر دو سال کے لیے قابلِ عمل رہے گا۔

یہ وہی مقصد ہے جس کے لیے پاکستان نے چار برس تک مسلسل کوششیں کیں کہ امن، استحکام اور سفارت کاری کے ذریعے تنازع حل ہو جائے۔ لیکن بالخصوص قندھاری گروپ کی ضد، دوغلی پالیسی اور ٹی ٹی پی کو کھلی چھوٹ نے پاکستان کو مجبور کر دیا کہ وہ اپنی دفاعی حکمتِ عملی میں سختی لائے اور "خارجی جہاں سے آئیں گے وہیں ان کے ٹھکانوں کو نشانہ بنایا جائے گا" کی پالیسی اپنائے۔

اس معاہدے کے حوالے سے اب یہ اہم سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ کیا طالبان حکومت اس معاہدے پر عملدرآمد کرے گی یا ماضی کی طرح اس بار بھی وعدہ خلافی کرتے ہوئے پاکستان کے خلاف دہشت گردی اور سازشیں جاری رکھے گی؟۔کہیں طالبان اس معاہدے کے ذریعے انڈین مدد کے ساتھ پاکستانی کے فضائی حملوں کا جواب دینے کی تیاری کیلئے مہلت حاصل کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا تو نہیں ؟۔ کیا طالبان حکومت ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کو دہشت گرد کاروائیوں سے روک سکے گی؟۔کیا طالبان حکومت بھارت کی طرف سے حاصل ہونے والے مفادات کے زیر اثر پاکستان کے خلاف بھارتی پراکسی کے طور پر کام کرنے سے گریز کرے گی؟۔کیا ترکیہ اور قطر ثالث کے طور پر طالبان کو اس معاہدے پر عملدرآمد کرانے کی اخلاقی و سفارتی طاقت رکھتے ہیں؟۔

ان سوالات کے جوابات تلاش کرنے کی کوشش کرتے ہوئے ہم دیکھتے ہیں کہ معاہدوں کی پاسداری کے حوالے سے طالبان کا ماضی کا ریکارڈ اچھا نہیں ہے۔ لہذا اس حوالے سے مایوس کن تصویر سامنے آتی ہے۔ تاہم اس بار پاکستان کی طرف سے طالبان پر کئے جانے والے براہ راست کاری وار اور برادر اسلامی ممالک کی پاکستان کے موقف کی تائید اور ثالثی کا کردار ایک مثبت پہلو ہے جبکہ طالبان کی بھارت سے قربت اور ٹی ٹی پی کی افغان طالبان کے ساتھ نظریاتی وابستگی اور جہادی تعلق معاہدے پر عملدرآمد کے حوالے سے ایک منفی پہلو ہے۔

ان حالات میں مطلوبہ نتائج حاصل کرنے کے لیے پاکستان کو ایک طرف تو طالبان پر سخت دفاعی کاروائی اور تجارتی حوالے سے دباؤ برقرار رکھنا ہوگا اور دوسری طرف دوست ممالک اور علاقائی طاقتوں کی مدد سے انتہائی کامیاب سفارت کاری کے ذریعے طالبان کو ٹی ٹی پی اور دیگر گروپوں کو پاکستان میں دہشت گرد کاروائیوں سے اور بھارت کی پراکسی بننے سے روکنے پر مجبور کرنا ہوگا۔اس سلسلے میں افغانستان کے معاشی ڈونر ہونے کے ناطے قطر اور سعودی عرب موثر ثابت ہو سکتے ہیں۔اس کے علاوہ طالبان پر اثر رسوخ رکھنے والے پاکستانی علماء کرام اور سیاستدانوں کو بھی طالبان قائدین کو قائل کرنے کیلئے استعمال کرنے کی ایک اور کوشش کی جا سکتی ہے اور طالبان میں پاکستان کے موقف کے حامی طالبان کو بھی اس سلسلے میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

اس لائحہ عمل کے مطابق پاکستان کی طرف سے دہشت گردی کے جواب میں اندرون افغانستان بھرپور طاقت کے استعمال کا خوف تجارتی دباؤ اور کامیاب سفارت کاری کے ذریعے اس مسئلے کو حل کرنے کی ایک کامیاب کوشش کی جاسکتی ہے۔قطر،سعودی عرب اور امریکہ افغان حکومت کو معاشی طور سہارا دینے والے اہم ممالک ہیں، لہذا پاکستان کو ضرورت پڑنے پر بھرپور طریقے سے اس ہتھیار کو بھی استعمال کرنا چاہیے۔

اس حوالے سے یہ پہلو بھی اہمیت کا حامل ہے کہ پاکستان کی وفاقی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ کو بلخصوص خیبرپختونخوا حکومت اور اس معاملے پر ان کے موقف سے اختلاف رکھنے والے تمام دیگرطبقات کو قائل کرکے آن بورڈ لینا ہوگا تاکہ اندرونی اور بیرونی طور پر مثبت پیغام جائے۔اور دہشت گردی کے خلاف وفاقی اور صوبائی اشتراک سے مشترکہ مؤثر کاروائی ممکن ہو۔

یہ معاہدہ یقیناً طالبان سرکار کے لیے بھی ایک امتحان ہے۔ اگر انہوں نے اس بار بھی وعدہ خلافی کی تو اسلامی برادر ممالک اور خاص طور پر ثالث ممالک قطر اور ترکیہ سے اس کے تعلقات میں خرابی پیدا ہوسکتی ہے۔ دوسری طرف اسے پاکستان کی طرف سے تباہ کن جواب کا سامنا کرنا ہوگا کیونکہ پاکستان واضح پیغام دے چکا ہے کہ وہ دہشت گردوں اور اس کے سہولت کاروں کے ٹھکانوں پر ہر جگہ حملے کر کے جواب دے گا۔ لیکن اس تنازع کا اس حد تک جانا یقیناً علاقائی امن اور دونوں ممالک کیلئے بھی مثبت نتائج کا حامل نہیں ہوگا۔ اس لئے افغانستان اور پاکستانی قیادت کو اپنی پرانی غلطیوں سے سیکھ کر دوسروں کی جنگیں اپنی سرزمین پر لڑنے کے بجائے اپنی عوام اور ملک کے مفاد میں فیصلے کرنے ہوں گے۔پْرامن ہمسائے کے طور پر ایک دوسرے کی خود مختاری کا احترام کرتے ہوئے اپنی ملکی ترقی کیلئے راستہ ہموار کرنا ہوگا۔

پاکستان ،ایران ،چین ،روس ،افغانستان ،ازبکستان ملکر اس خطے میں معاشی و سیاسی انقلاب برپا کرسکتے ہیں۔افغانستان کی 70 فیصد تجارتی اشیاء پاکستان ٹرانزٹ ٹریڈ سے جاتی ہیں اور امریکہ کی طرف سے بھارت سے چاہ بہار کے حوالے سے رعایت واپس لینے کے بعد افغانستان کے لئے وہ دروازہ بھی بند ہو گیا ہے۔اسی لئے افغانستان کی طرف سے چیک پوسٹوں کی واپسی کے بعد دوسرا مطالبہ ٹرانزٹ ٹریڈ کی بحالی ہے۔

یہ امر قابل ذکر ہے کہ حکومت پاکستان کے اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2024-25 کے دوران افغانستان کو پاکستان کی برآمدات گزشتہ مالی سال کے مقابلے میں 36.

68 فیصد بڑھ کر 77 کروڑ 38 لاکھ تک پہنچ چکی ہیں جو گزشتہ مالی سال کے دوران 55 کروڑ 80 لاکھ تھیں۔

ان حقائق کو ذہن میں رکھ کر افغان قیادت کو ایک ذمہ دار ریاست کی حیثیت سے اپنی خارجہ و داخلہ پالیسی کو زمینی و علاقائی حقائق و حالات اور بین الاقوامی قوانین کے مطابق ڈھالنا ہوگا اور اس تاریخی حقیقت کو سمجھنا ہوگا کہ اپنے ملک میں دہشت پسند گروپوں کو جگہ دینے پروان چڑھانے اور دوسرے ممالک کے خلاف کاروائیوں کی اجازت دینے کی پالیسی جہاں اسے دنیا میں تنہا کر دے گی وہیں یہ گروپ کسی وقت خود ان کی ریاست اور بین القوامی امن کیلئے خطرہ بن سکتے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان ایک بار پھر بڑی طاقتوں کا نشانہ بن سکتا ہے اور انہیں یاد رکھنا ہو گا کہ اس بار ماضی کی طرح پاکستان ان کے ساتھ کھڑا نہیں ہوگا۔ جس کی مدد سے انہوں نے عالمی طاقتوں کے خلاف جنگوں میں کامیابی حاصل کی تھی۔

طالبان کو اب جنگجو گروہ کے موڈ سے نکل کر یہ سمجھنا ہوگا کہ اب وہ ایک ریاست کے حکمران ہیں لہذا انہیں دنیا کے ساتھ چلنے'اپنا مثبت امیج بنانے' ملک کو جدید خطوط پر استوار کرنے کیلئے جنگجویانہ طرز عمل کو بدل کر سنجیدہ اور مدبرانہ انداز اپنانا ہوگا۔طرز حکمرآنی میں 'تعمیری و فلاحی اقدامات کرنا ہونگے۔ اندرون ملک اور خطے میں امن کے قیام' بین القوامی سطح پر اپنی حکومت کو تسلیم کرانے اور پسماندگی کا شکار افغان عوام کے معاشی حالات کی بہتری کیلئے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری کرتے ہوئے پاکستان سمیت تمام ہمسایہ ممالک اور دنیا کے ساتھ پر امن بقائے باہمی پر مبنی تعلقات قائم کرنا ہوں گے۔ افغانستان کو ایک ذمہ دار'خوشحال' تہذیب یافتہ اور مستحکم ریاست بنانے کا یہی ایک راستہ ہے۔   

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: افغانستان کی سرزمین معاہدے پر عملدرا مد پاکستان کی طرف سے پاکستان کے خلاف ہے کہ افغانستان میں افغانستان طالبان حکومت افغانستان کے دونوں ممالک پی اور دیگر کے حوالے سے ہے کہ افغان کو پاکستان کہ پاکستان نے پاکستان پاکستان کو پاکستان نے ان کے موقف کی پالیسی میں افغان طالبان کو معاہدے کے کرتے ہوئے اس معاہدے کے طور پر سکتے ہیں کے مطابق ممالک کے کے ذریعے انہوں نے ٹی ٹی پی کریں گے جائے گا کرنے کی گا تاکہ کے ساتھ کے جواب کیا جا اور اس کے لیے ہے اور کے بعد گا اور

پڑھیں:

باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟

ایک نئی جنگ شروع ہوتی نظر آرہی ہے۔ یمن کے حوثیوں نے بحیرہ احمر سے باب المندب بند کر دیا ہے۔پہلے امریکا ایران جنگ کی وجہ سے دنیا جنگ کا شکار ہے۔ پوری کوشش کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا۔آبنائے ہرمز کی بندش کی وجہ سے دنیا میں تیل کی قیمتیں اوپر جا رہی ہیں۔ اب باب المندب کی بندش تیل کی قیمتوں کو مزید اوپر لے کر جائے گی۔ جس کی وجہ تیل کی عالمی قیمتوں میں اضافہ اور ایک بحرانی کیفیت بنتی نظر آرہی ہے۔

باب المندب کی بندش کے بعد حوثیوں نے سعودی عرب کے دو تیل کے ٹینکرز کو بھی تباہ کر دیا ہے۔ ایک تیل کے ٹینکر کو میزائیل لگنے کی سعودی عرب نے تصدیق کر دی ہے۔ عالمی منڈی کا رحجان یہی رہا ہے کہ جب تیل کا ایک ٹینکر تباہ ہوتا ہے تو انشورنس ختم ہو جاتی ہے۔

کوئی کمپنی بھی اپنا جہاز وہاں سے گزارنے کے لیے تیار نہیں ہوتی۔ اس لیے حوثیوں کو باب المندب بند کرنے کے لیے دو جہاز ہی تباہ کرنے تھے ۔ باقی جہاز خود ہی آنے سے انکار کر دیں گے۔ اس لیے باب المندب بند ہوگیا ہے۔ اب جب تک یا تو حوثی اس کو کھولنے کا اعلان نہ کریں یا حوثیوں کی اس کو بند کرنے کی صلاحیت ختم نہ ہوجائے تب تک یہ کھل نہیں سکتا۔

حوثیوں کی جانب سے بندش کے اعلان کے بعد پاکستان کے دفتر خارجہ نے بھی ایک شدید سخت بیان جاری کیا تھا۔ جس میں کہا گیا تھا کہ اگر کسی پاکستانی جھنڈے کے حامل جہاز پر حملہ کیا گیا تو اس کا سخت جواب دیا جائے گا۔اس کے علاوہ باب المندب کی بندش کی مذمت بھی کی گئی تھی اور اس کے خلاف سخت رد عمل جاری کیا گیا تھا۔ لیکن اس بیان کے اگلے ہی دن سعودی عرب کے دو جہازوں پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ یہ درست ہے کہ یہ پاکستانی جہاز نہیں تھے۔ لیکن یہ سعودی عرب کے جہاز تھے اور پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ بھی تھا۔

باب المندب بند کرنا لگتا ہے ایران کے لیے ناگزیر تھا۔ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کم ہی سہی لیکن ایک مناسب مقدار میں اپنا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کر رہے تھے۔ اس لیے ان کی تیل کی برآمد چل رہی تھی۔ کنویں بند نہیں ہو رہے تھے۔ وہاں کوئی خاص بحران نہیں تھا۔

دنیا کو بھی تیل مل رہا تھا اور ایسی خبریں آرہی تھیں کہ سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات ایسی تیل کی لائنیں بچھا رہے ہیں کہ اگلے دو سال میں ان کا آبنائے ہرمز پر انحصار ختم ہو جائے گا۔ وہ اپنا سارا تیل بحیرہ احمر سے برآمد کرنے کی پوزیشن میں ہونگے۔ یہ تیاری ایران کے آبنائے ہرمز پر کنٹرول رکھنے کی اہمیت کو کم کرنے کے لیے کی جا رہی ہے۔ اس لیے شائد ایران کو بھی سمجھ آگئی ہے کہ اس نے آبنائے ہرمز سے جو بھی فائدہ اٹھانا ہے اس کی مدت کم ہے۔ عرب ممالک بالخصوص سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات متبادل بندوبست تیزی سے کر رہے ہیں۔

شائد اسی لیے ایران نے بھی حوثیوں کی حوصلہ افزائی کی ہے کہ وہ باب المندب بند کر دیں ۔ کیونکہ ایران کے پاس بھی وقت کم ہے۔ویسے بھی چند دن پہلے ایرانی سپریم لیڈر مجتبیٰ خامنہ ای کے مشیر نے ان کی طرف سے یہ بیان دیا تھا کہ اگر امریکا نے ایران پر بمباری بند نہ کی تو ایران جنگ کو وسیع کر دے گا۔ آپ کہہ سکتے ہیں کہ باب المندب بند کرنا جنگ کو وسیع کرنے کی ایک شکل ہے۔ جنگ پھیل گئی ہے۔ ایران جنگ کو پھیلانا چاہتا تھا تو اس نے پھیلا دی ہے۔

باب المندب سے دنیا کے تیل کی سات فیصد ترسیل ہوتی ہے۔ اس لیے سات فیصد کی ترسیل بند ہو گئی ہے۔ لیکن یہ صرف اتنی بات نہیں کئی ماہ سے یو اے ای اور سعودی عرب کے درمیان جاری سرد جنگ بھی یک دم ختم ہوگئی ہے۔ باب المندب بند ہونے کی خبر کیا آئی سعودی عرب اور یو اے ای میں صلح ہوگئی دونوں کے وزراء نے ایک دوسرے کے ساتھ تصویر پوسٹ کر دیں کہ ہم بھائی ہیں۔ آبنائے ہرمز کی بندش تو انھیں اکٹھا نہیں کر سکی لیکن باب المندب کی بندش نے انھیں اکٹھا کر دیا۔ اب آگے کا منظر نامہ کیا ہو سکتا ہے۔ پاکستان اورسعودی عرب کے درمیان ایک دفاعی معاہدہ موجود ہے۔

اگر سعودی عرب باب المندب کھلوانے کے لیے حوثیوں کے ساتھ جنگ شروع کرتا ہے اور جواب میں حوثی سعودی عرب پر حملہ کرتے ہیں تو پاکستان اپنے دفاعی معاہدہ کے تحت سعودی عرب کے ساتھ کھڑے ہونے کا پابند ہوگا۔ کیسے اور کتنا، اس سوال کا ابھی تک کسی کے پاس کوئی جواب نہیں۔ لیکن حوثیوں نے یہ خبردار کیا ہے کہ اگر ان پر کسی بھی قسم کا کوئی بھی حملہ کیا گیا تو وہ سعودی عرب کی تیل اور دیگر تنصیبات کو نشانہ بنائیں گے۔ایک عمومی رائے یہ ہے کہ اتنی سخت بمباری کے باوجود امریکا آبنائے ہرمز نہیں کھلوا سکا تو کیا صرف بمباری سے باب المندب کھلوایا جا سکے گا۔ حوثی بھی جواب میں میزائل ماریں گے۔

یہ درست ہے کہ ان کے پاس ایران جتنے میزائل نہیںہیں۔ لیکن یہ بھی حقیقت ہے کہ ان کے پاس میزائل ہیں۔ انھوں نے ماضی میں اسرائیل اور سعودی عرب پر میزائیل مارے بھی ہیں۔ شاید حوثیوں کو یہ لگ رہا ہے کہ جیسے ایران کی دیگر پراکسیوں کو ختم کیا جا رہا ہے۔ اگر وہ اس جنگ سے باہر رہتے ہیں تو بعد میں ان کی باری بھی آئے گی۔ اس لیے جنگ میں شامل ہونے کا یہ بہترین وقت ہے۔ باب المندب اور آبنائے ہرمز کا معاملہ اکٹھے طے کیا جائے، مل کر بات کی جائے، اس سے طاقت بڑھ جائے گی۔

اب سوال یہی ہے کہ پاکستان ایران امریکا لڑائی میں تو غیر جانبدار رہا۔ جس کی وجہ سے وہ آج تک ثالث ہے۔ لیکن کیا وہ باب المندب کی بندش اور سعودی عرب اور حوثیوں کی لڑائی میں بھی غیر جانبدار رہے گا۔ عملی طور پر یہ ممکن نظر نہیں آرہا۔ پاکستان کو سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہونا پڑے گا۔ اس کے علاوہ کوئی اور حل نظر نہیں آرہا۔ امریکا ایران میں مصروف ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے باب المندب کھلوانے کے لیے کردار ادا کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لیکن پہلی ترجیح ایران ہی ہوگا۔ ایسے میں یہ لڑائی فی الحال سعودی عرب کو خود ہی لڑنی ہوگی۔ اگر پاکستان اس لڑائی میں شریک ہوتا ہے تو پھر اس کی ثالث کی پوزیشن بھی ختم ہو جائے گی۔ ایران پاکستان کو بھی لڑائی میں فریق سمجھے گا۔ خدشہ ہے کہ پاکستان بھی نہ چاہتے ہوئے لڑائی میں شامل ہو جائے گا۔ ہم پہلے بھی ایران کو بتا چکے ہیں کہ سعودی عرب ہماری ریڈ لائن ہے۔ لیکن شائد حوثی پاکستان کی اس بات کو نہیں سمجھیں گے، وہ سعودی عرب پر حملے کریں گے۔

اس تناظر میں دیکھا جائے تو لڑائی وسیع ہو رہی ہے۔ ایک خطرناک منظر نامہ یہ بھی ہو سکتا ہے کہ حوثیوں کے خلاف لڑائی میں پاکستان سعودی عرب ، یو اے ای ، امریکا اور اسرائیل مل کر لڑ رہے ہوں۔ یہ بھی لڑائی کی کوئی اچھی شکل نہیں ہوگی۔ لیکن اس کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ ممکن ہے۔

متعلقہ مضامین

  • ازبکستان میں پاکستان کے سفیر مدثر ٹیپو نے سفارتی اسناد ازبک وزیر خارجہ کو پیش کردیں
  • باب المندب بند۔ آگے کیا ہوگا؟
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • ایران عرب ممالک پر نہیں بلکہ شیطانی اور دہشتگردی کے اڈوں پر حملے کر رہا ہے، علامہ رمضان توقیر
  • مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال قابو سے باہر، فوری جنگ بندی ضروری ہے، انتونیو گوتریس
  • سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمت 100 ڈالر فی بیرل سے بھی تجاوز کر گئی
  • پاکستان مشرق وسطیٰ میں امن و استحکام کیلئے فعال سفارتی کردار جاری رکھے ہوئے ہے، اسحاق ڈار
  • سعودی عرب کی ابراہیمی معاہدے میں شمولیت تاریخی قدم ہوگا، نیتن یاہو کا ٹرمپ کی شرط پر ردعمل