Jasarat News:
2026-07-24@03:07:40 GMT

گیس مزید مہنگی ہونے کا امکان

اشاعت کی تاریخ: 28th, October 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی : گیس مہنگی ہونے کا امکان، سردیوں کی آمد پر عوام کو مہنگائی کا نیا تحفہ دینے کی تیاریاں، گیس صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 125روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافہ ہونے کا امکان۔

سردیوں کی آمد پر سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں اضافے کا امکان ہے۔سوئی سدرن گیس کمپنی نے اوگرا میں درخواست جمع کروا دی۔

 سندھ اور بلوچستان کے صارفین کے لیے گیس کی قیمتوں میں 125روپے 41 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو اضافے کی درخواست کی گئی۔

 گیس کی قیمتوں میں اضافے کی درخواست رواں مالی سال کے لیے کی گئی۔ سندھ اور بلوچستان کے لیے گیس کی اوسط قیمت 1783 روپے 96 پیسے فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔

اوگرا 11 نومبر کو کراچی میں عوامی سماعت کرے گا۔ دوسری جانب سوئی ناردرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) نے ملک بھر میں گھریلو گیس کنکشنز پر عائد پابندی ختم کردی۔

 منیجنگ ڈائریکٹ ایس این جی پی ایل عامر طفیل نے میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ ایل این جی کنکشنز کی منظوری دے دی گئی ہے، جس کے باعث اب صارفین کو گھروں میں گیس کی فراہمی دوبارہ ممکن ہوگئی ہے۔

 ایس این جی پی ایل کے ہیڈ آفس میں ایک خصوصی مانیٹرنگ یونٹ قائم کردیا گیا، ریجنل سطح پر بھی مانیٹرنگ یونٹس تشکیل دے دیے گئے ہیں تاکہ صارفین کی درخواستوں پر فوری کارروائی کی جا سکے، اس مقصد کے لیے کمپنی نے ایک ہیلپ لائن نمبر 0800 بھی مختص کردیا۔

ویب ڈیسک Faiz alam babar

.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: گیس کی قیمتوں میں کے لیے گیس کی کی درخواست کا امکان

پڑھیں:

گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست

فیصل کریم کنڈی نے خط میں کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔ اسلام تائمز۔ گورنر خیبر پختونخوا فیصل کریم کنڈی نے وزیراعظم پاکستان کے نام خط لکھ کر ضم شدہ قبائلی اضلاع اور پاٹا کے لیے وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے اور اس میں توسیع کی درخواست کی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وفاقی ٹیکس استثنیٰ بحال کر کے انضمام کے وقت کیے گئے وعدوں کی پاسداری کی جائے۔ گورنر فیصل کریم کنڈی نے خط میں مطالبہ کیا کہ قبائلی اضلاع اور پاٹا میں انکم ٹیکس، سیلز ٹیکس اور دیگر وفاقی محصولات کے نفاذ پر نظرثانی کی جائے۔ انہوں نے کہا کہ صوبائی حکومت ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کے تمام صوبائی ٹیکس ختم کر چکی ہے، تاہم وفاقی ٹیکسز کے خاتمے کے بغیر قبائلی عوام کو مکمل ٹیکس ریلیف نہیں مل سکتا۔

انہوں نے تجویز دی کہ وفاقی اور صوبائی حکومتوں پر مشتمل مشترکہ کمیٹی قائم کر کے قبائلی اضلاع کی معاشی صورتحال کا جائزہ لیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ نئے ٹیکسوں کے نفاذ سے قبل ضم شدہ اضلاع اور پاٹا کی معاشی و مالی صورتحال کا جائزہ لینا ضروری ہے، جبکہ ٹیکسوں کا معاملہ مشترکہ مفادات کونسل یا کسی مناسب آئینی فورم پر فوری طور پر پیش کیا جائے۔

گورنر خیبر پختونخوا نے کہا کہ قبائلی عوام نے پاکستان کے امن، استحکام اور سلامتی کے لیے بے مثال قربانیاں دی ہیں۔ وفاق اور صوبے کی یکساں ٹیکس پالیسی قبائلی عوام کا ریاست پر اعتماد بحال کرنے میں مددگار ثابت ہوگی، جبکہ ٹیکس ریلیف سے ضم شدہ اضلاع کی سماجی و معاشی ترقی اور قومی دھارے میں انضمام کا عمل مزید تیز ہوگا۔

متعلقہ مضامین

  • جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
  • نرس نے نومولود بچی کے ہاتھ کا انگوٹھا کاٹ دیا، والد نے پولیس میں درخواست دے دی
  • حکومت کا مسلسل تین دنوں میں پیٹرولیم مصنوعات مہنگی کرنے کا نیا ریکارڈ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • خیبر پختونخوا میں بلدیاتی انتخابات مرحلہ وار ہونے کا امکان
  • کیا فواد خان نے بھی سرجری کروالی؟ نئی تصاویر پر سوشل میڈیا پر بحث
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • گورنر خیبر پختونخوا کی وزیراعظم سے ضم شدہ اضلاع کیلئے ٹیکس استثنیٰ بحال کرنے کی درخواست
  • یو اے ای ویزا آن ارائیول کی نئی شرائط اور فیس جاری
  • موبائل کال اور انٹرنیٹ پیکجز مہنگے، صارفین پر نیا مالی بوجھ