عوام کیلیے خوشخبری، پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے کی بڑی کمی کا امکان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
پاکستانیوں کیلیے خوشخبری یہ ہے کہ چار روز بعد پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 11 روپے تک بڑی کمی کا امکان ہے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق 16 دسمبر سے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتیں 11 روپے فی لیٹر تک کم ہونے کا امکان ہے۔ ذرائع کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی سے متعلق متعلقہ محکمے نے ابتدائی ورکنگ تیار کرلی ہے۔
ذرائع کے مطابق پٹرول 36 پیسے فی لیٹر اور ڈیزل 11 روپے 85 پیسے فی لیٹر سستا ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ مٹی کا تیل 11 روپے 70 پیسے اور لائٹ ڈیزل 10 روپے 1 پیسے فی لیٹر تک سستا ہونے کا امکان ہے۔
آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی کی جانب سے قیمتوں کی سمری 15 دسمبر کو منظوری کیلیے ارسال کی جائے گی جس پر وزیراعظم کی منظوری کے بعد پیٹرولیم ڈویژن نئی قیمتوں کا نوٹی فکیشن جاری کرے گا۔
اگر تجویز کردہ کمی ہوئی تو اُس کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 263 روپے نو پیسے،ہائی اسپیڈ ذیزل کی نئی قیمت 270 روپے 80 پیسے ہو جائے گی۔
اس کے علاوہ مجوزہ کمی کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت 181 روپے 16 پیسے فی لیٹر ہو جائے گی جبکہ لائٹ ڈیزل کی نئی قیمت 153 روپے 76 پیسے فی لیٹر ہوجائے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: پیسے فی لیٹر کا امکان ہے مصنوعات کی کی قیمت
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔