کراچی(رپورٹ/صفدررضوی) میٹرک اور انٹر کے امتحانی فیصلوں کے لیے قائم اتھارٹی اور ملک بھر کے تعلیمی بورڈز کے فورم آئی بی سی سی (انٹر بورڈ کوآرڈینیشن کمیشن ) نے آرٹس گروپ سے میٹرک کرنے والے طلبا کو انٹر سائنس سے کرنے کی اجازت دے دی۔

تفصیلات کے مطابق  ایسے طلبا اب میٹرک آرٹس سے کرنے کے بعد انٹر پری میڈیکل یا پری انجینئرنگ میں داخلے کے اہل ہونگے۔ یہ فیصلہ کیمبرج کی طرز پر کیا گیا ہے جو ملک کی تعلیمی تاریخ میں ایک اہم پیش رفت ہے۔

اس بات کا فیصلہ اور منظوری حال ہی میں کراچی میں منعقدہ آئی بی سی سی کے اجلاس میں ہوئی تھی جس میں سندھ کے ساتوں تعلیمی بورڈز سمیت پورے ملک کے تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز شریک ہوئے تھے۔

منظوری کے بعد جمعہ 12 دسمبر کو آئی بی سی سی نے اس فیصلے کا نوٹیفکیشن جاری کردیا ہے جس  کے مطابق اس اہم فیصلے سے قبل پاکستان انجینئرنگ کونسل، پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ، ہائر ایجوکیشن کمیشن،  نیشنل کریکولم کونسل اور پرووینشل کریکولم اتھارٹیز سے بھی مشاورت کی گئی ہے۔

اعلامیے کے مطابق فیصلہ میں پی ای سی، پی ایم ڈی سی اور ایچ ای سی کی رائے بھی شامل ہے جس کے بعد آئی بی سی سی فورم نے اس کی باقاعدہ اور متفقہ منظوری دی یے

مذکورہ اتھارٹیز یا کمیشنز کی رائے کے ساتھ یہ فیصلہ آنے سے مستقبل میں انٹر کے بعد یونیورسٹیز میں داخلہ لینے والے طلبہ کو آسانی ہوگی۔

نوٹیفکیشن کے مطابق فیصلے کا اطلاق آئندہ سالانہ امتحانات 2026 سے ہوگا۔ لہذا اس ضمن میں متعلقہ تعلیمی ادارے داخلوں کے سلسلے میں اقدامات کرتے ہوئے کم سے کم مارکس/میرٹ تھریش ہولڈ یا  aptitude test رجحان ٹیسٹ بھی لے سکتے ہیں تاکہ یکسانیت برقرار رہ سکے۔

تاہم اس حوالے سے کوئی بھی حتمی فیصلہ متعلقہ بورڈ اپنے بورڈ آف گورنرز یا متعلقہ اتھارٹی کی سطح پر کرسکتا ہے نوٹیفکیشن کی کاپی پورے ملک کے تمام تعلیمی بورڈز کے چیئرمینز کو بھجوادی گئی ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: تعلیمی بورڈز کے مطابق کے بعد

پڑھیں:

گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔

سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔

انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔

ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔

ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔

اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔

متعلقہ مضامین

  • ایران کے شہید سپریم لیڈر علی خامنہ ای کی تدفین مشہد میں ہوگی، تیاریاں شروع
  • کراچی میں شہریوں کی رہنمائی کیلیے روڈ سیفٹی آفیسر یونٹ قائم کرنے کرنا کا فیصلہ
  • دکانیں، بازار، شاپنگ مالز اور عمومی ریٹیل کاروبار رات 9 بجے تک کھلے رکھنے کی اجازت دینے کا فیصلہ
  • کراچی کے سرکاری کالجز میں انٹرسال اول کیلیے داخلے شروع نہ ہوسکے، سوا لاکھ طلبا منتظر
  • سیکیورٹی فورسز کی بلوچستان کے مختلف علاقوں میں کارروائیاں، 17 دہشتگرد ہلاک
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • نیپرا، بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
  • بجلی 1 روپیہ 73 پیسے مہنگی کرنے کی درخواست پر فیصلہ محفوظ
  • گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ