سونے کی قیمت میں اضافہ، چاندی کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
کراچی:
سونے کی عالمی اور مقامی قیمت میں ایک بار پھر اضافہ ہوا ہے جب کہ چاندی کے نرخ تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئے۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق بین الاقوامی بلین مارکیٹ میں فی اونس سونے کی قیمت 5 ڈالر کے اضافے سے 4 ہزار 212 ڈالر کی سطح پر آنے کے باعث مقامی صرافہ مارکیٹوں میں جمعرات کو بھی 24 قیراط کے حامل فی تولہ سونے کی قیمت 500روپے کے اضافے سے 4لاکھ 43 ہزار 562 روپے کی سطح پر آگئی۔
جس کے بعد فی 10 گرام سونے کی قیمت 428روپے کے اضافے سے 3لاکھ 80ہزار 282 روپے کی سطح پر آگئی۔
اسی طرح فی تولہ چاندی کی قیمت 85روپے کے اضافے سے 6ہزار 452روپے کے ساتھ تاریخ کی نئی بلند ترین سطح پر آگئی جب کہ فی 10 گرام چاندی کی قیمت 73 روپے کے اضافے سے 5 ہزار 531 روپے کی بلند ترین سطح پر آگئی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: روپے کے اضافے سے سونے کی قیمت
پڑھیں:
پائیڈ کی کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش
پاکستان انسٹیٹیوٹ آف ڈویلپمنٹ اکنامکس (Pakistan Institute of Development Economics) نے آئندہ مالی سال 2026-27 کے لیے ملک میں کم از کم ماہانہ اجرت 45 ہزار روپے مقرر کرنے کی سفارش کر دی ہے، جسے موجودہ معاشی حالات اور بڑھتی ہوئی مہنگائی کے تناظر میں ایک اہم پالیسی تجویز قرار دیا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی جانب سے جاری کردہ شواہد پر مبنی فریم ورک کے مطابق کم از کم اجرت میں اضافہ صرف ایک انتظامی فیصلہ نہیں بلکہ ایک وسیع معاشی اور سماجی ضرورت ہے، جو گھریلو سطح پر قوتِ خرید، غربت میں کمی، غیر رسمی روزگار کے رجحانات اور مجموعی معاشی استحکام پر براہ راست اثر انداز ہوتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اگر مالی سال 2026-27 کے لیے کم از کم اجرت 45 ہزار روپے ماہانہ مقرر کی جاتی ہے تو یہ موجودہ 40 ہزار روپے کی سطح کے مقابلے میں 12.5 فیصد اضافہ ہوگا۔ اس اضافے کو محنت کش طبقے کی مالی مشکلات میں کمی اور ان کی معاشی استعداد بہتر بنانے کی ایک کوشش کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔
پائیڈ کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ کم از کم اجرت کی پالیسی کو محض لیبر ڈپارٹمنٹ تک محدود نہیں رکھا جا سکتا، کیونکہ اس کا تعلق براہ راست عام شہریوں کی روزمرہ زندگی، مہنگائی کے دباؤ اور مقامی مارکیٹ کی طلب سے جڑا ہوا ہے۔ رپورٹ کے مطابق اجرت میں مناسب اضافہ نہ صرف مزدور طبقے کے معیارِ زندگی کو بہتر بنا سکتا ہے بلکہ پیداواری عمل میں بھی مثبت اثر ڈال سکتا ہے۔
مزیدپڑھیں:حکومت کا ریئل اسٹیٹ پیکیج تیار، فروخت پر ٹیکس 4.5 فیصد سے 1.5 فیصد تک لانے کی تجویز
اعداد و شمار کے مطابق مالی سال 2026 کے جولائی سے اپریل تک اوسط مہنگائی کی شرح تقریباً 6.19 فیصد رہی، تاہم اپریل 2026 میں سالانہ بنیاد پر مہنگائی بڑھ کر 10.9 فیصد تک پہنچ گئی، جس نے عام شہریوں کی قوتِ خرید کو مزید متاثر کیا۔
موجودہ معاشی صورتحال میں اجرتوں میں اضافہ ایک متوازن پالیسی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے، تاہم اس کے ساتھ ساتھ کاروباری لاگت اور روزگار کے مواقع پر بھی اس کے ممکنہ اثرات کا جائزہ لینا ضروری ہوگا۔
پائیڈ کی سفارش کے بعد اب یہ معاملہ حکومتی سطح پر غور کے لیے پیش کیا جائے گا، جہاں حتمی فیصلہ بجٹ پالیسی کا حصہ بنایا جا سکتا ہے۔