بنگلہ دیش سی آئی ڈی کی کارروائی، انسانی اسمگلنگ کا خطرناک ملزم گرفتار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
بنگلہ دیش بنگلہ دیش کی کرمنل انویسٹی گیشن ڈپارٹمنٹ (سی آئی ڈی) نے ایک مبینہ رکن کو گرفتار کیا ہے جو ایک بین الاقوامی انسانی اسمگلنگ رِنگ سے منسلک ہے۔ اس گروہ پر الزام ہے کہ یہ بنگلہ دیشی نوجوانوں کو یونان میں اعلیٰ تنخواہ والی ملازمت کے وعدوں کے ذریعے بہلا کر لیبیا منتقل کرتا تھا، جہاں انہیں جسمانی تشدد کا نشانہ بنایا جاتا اور ان کے اہل خانہ سے تاوان وصول کیا جاتا۔
یہ بھی پڑھیں: انسانی اسمگلروں کے جھانسے میں آنے والے 170 افراد کی لیبیا سے بنگلہ دیش واپسی
گرفتار ملزم محمد نذیر حسین، 55، ضلع سنامگنج سے، 10 دسمبر کو ڈھاکہ کے حضرت شاہ جلال انٹرنیشنل ایئرپورٹ کے قریب حراست میں لیا گیا۔ سی آئی ڈی کے مطابق نذیر انسانی اسمگلنگ کے 2 کیسز میں ملوث ہے اور کئی سالوں سے اس نیٹ ورک میں سرگرم رہا ہے۔
اسمگلنگ کا منصوبہسی آئی ڈی کے تفتیش کاروں کے مطابق گروہ کا یونان میں مقیم رکن 36 سالہ شریف الدین، نے 2024 میں بنگلہ دیش کا دورہ کیا اور 2 نوجوانوں کو یونان میں پرکشش ملازمت کی پیشکش کی۔ ہر متاثرہ شخص نے 2 لاکھ بنگلہ دیشی ٹکا پیشگی ادا کیے اور اپنے پاسپورٹ گروہ کے حوالے کیے، کل معاہدے کے تحت ہر شخص پر 1.
جولائی 2025 میں دونوں متاثرین بنگلہ دیش سے دبئی، پھر مصر، اور آخر کار لیبیا پہنچائے گئے، جہاں گروہ کے ساتھیوں نے انہیں مجرمانہ گروہوں کے حوالے کردیا۔ ان کا سامان ضبط کیا گیا اور انہیں تشدد کا نشانہ بنایا گیا، جبکہ نذیر کی نگرانی میں بنگلہ دیش سے اہلخانہ سے تاوان وصول کیا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: جعلی کرنسی کی اسمگلنگ روکنے کے لیے بارڈر گارڈ بنگلہ دیش کی سرحدی کارروائیاں تیز
سی آئی ڈی کے مطابق ایک متاثرہ خاندان نے 2.18 ملین بی ڈی ٹی جبکہ دوسرے نے 1.6 ملین بی ڈی ٹی ادا کیے، پھر بھی متاثرین کو رہا نہیں کیا گیا۔ انہیں لیبیا کی پولیس کے حوالے کیا گیا اور 45 دن قید میں رکھا گیا، بعد میں انٹرنیشنل آرگنائزیشن فار مائیگریشن (آئی او ایم) کی مدد سے 29 اگست 2025 کو واپس بنگلہ دیش لایا گیا۔
مزید کیسز اور متاثرینتفتیش کے دوران ملزم نذیر نے اعتراف کیا کہ اس رِنگ نے کم از کم 19 افراد کو اسمگل کیا اور تقریباً 35 ملین بی ڈی ٹی فراڈ کے ذریعے وصول کیے۔ ان میں سے 9 متاثرین آئی او ایم کی مدد سے بنگلہ دیش واپس آئے جبکہ دیگر اب بھی لیبیا میں ملیشیاؤں کے قبضے میں ہیں۔
نذیر ایک اور سی آئی ڈی کیس سے بھی منسلک ہے جو دیمرا ماڈل پولیس اسٹیشن میں درج ہے، جہاں ایک متاثرہ شخص نے 8 لاکھ بی ڈی ٹی ادا کی اور بعد میں 1.1 ملین بی ڈی ٹی مزید وصول کیے گئے، متاثرہ شخص کو صحرا میں چھوڑ دیا گیا اور بعد میں اسے لیبیا کی حکام نے حراست میں لیا۔ گرفاری کے بعد اسے 25 اگست 2025 کو واپس بنگلہ دیش پہنچایا گیا۔
یہ بھی پڑھیں: ایف آئی اے کی بڑی کارروائی: غیر قانونی بارڈر کراسنگ کی کوشش ناکام، 20 بنگلہ دیشی باشندے گرفتار
سی آئی ڈی کے مطابق نذیر 2021 میں ایک فراڈ کیس میں بھی چارج شیٹڈ ملزم ہے جو پینل کوڈ کی متعدد دفعات کے تحت درج ہے۔
تفتیش جاریسی آئی ڈی کی ٹریفکنگ ان ہیومن بیئنگز (ٹی ایچ بی) یونٹ باقی بین الاقوامی گروہ کے ارکان کی شناخت اور گرفتاری کے لیے کارروائی جاری رکھے ہوئے ہے۔ نذیر نے دونوں فعال کیسز میں ملوث ہونے کا اعتراف کیا اور اسے عدالت میں پیش کیا گیا جس میں ریمانڈ کی درخواست کی گئی ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
we news انسانی اسمگلنگ بنگلہ دیش سی آئی ڈی لیبیا ملازمت ملزم گرفتار یورپ یونان
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: انسانی اسمگلنگ بنگلہ دیش سی ا ئی ڈی لیبیا ملازمت ملزم گرفتار یورپ یونان انسانی اسمگلنگ ملین بی ڈی ٹی سی آئی ڈی کے بنگلہ دیش کے مطابق کیا گیا
پڑھیں:
چیزیئس سے 40 لاکھ روپے کی ریکوری، فروخت کے اعداد و شمار میں فرق سامنے آگیا
اسلام آباد: چیزیئس ٹیکس ریکوری کا معاملہ اس وقت توجہ کا مرکز بن گیا ہے جب ریجنل ٹیکس آفس (آر ٹی او) ساہیوال نے ایک کارروائی کے دوران معروف فوڈ چین سے 40 لاکھ روپے قومی خزانے میں جمع کروائے۔
محکمہ ریونیو کی جانب سے جاری کردہ تفصیلات کے مطابق کارروائی انکم ٹیکس آرڈیننس 2001 کی دفعہ 175 سی کے تحت کی گئی۔ حکام کا کہنا ہے کہ نگرانی کے دوران کمپنی کی جانب سے ظاہر کردہ فروخت اور زمینی حقائق میں نمایاں فرق سامنے آیا تھا جس کے بعد تحقیقات کا آغاز کیا گیا۔
ذرائع کے مطابق آر ٹی او ساہیوال کی خصوصی ٹیم نے کاروباری مقام پر فروخت کی سرگرمیوں کا جائزہ لیا۔ اس دوران حاصل ہونے والے اعداد و شمار سے معلوم ہوا کہ ریکارڈ میں درج فروخت اور حقیقی کاروباری حجم میں فرق موجود ہے۔
ابتدائی جانچ مکمل ہونے کے بعد متعلقہ ادارے نے قانونی کارروائی شروع کی اور کمپنی کو واجب الادا رقم جمع کرانے کی ہدایت کی گئی۔ بعد ازاں 40 لاکھ روپے کی رقم قومی خزانے میں جمع کرا دی گئی۔
ماہرین کے مطابق اس نوعیت کی کارروائیاں ٹیکس نظام میں شفافیت بڑھانے اور کاروباری اداروں کو درست مالی ریکارڈ برقرار رکھنے کی ترغیب دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ ٹیکس قوانین پر عمل درآمد سے نہ صرف سرکاری آمدنی میں اضافہ ہوتا ہے بلکہ معیشت کی دستاویزی شکل کو بھی فروغ ملتا ہے۔
حکام نے واضح کیا ہے کہ چیزیئس ٹیکس ریکوری سمیت تمام ایسے معاملات میں قانون کے مطابق کارروائی جاری رکھی جائے گی تاکہ ٹیکس نظام کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔