اعلیٰ سطح ترک ایرو اسپیس و دفاعی وفد کا پاکستان انجینئرنگ کونسل کا دورہ
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
اسلام آباد:(نیوزڈیسک) ترک ایرو اسپیس، دفاعی اور صنعتی شعبوں کی نمایاں کمپنیوں پر مشتمل ایک اعلیٰ سطحی وفد نے پاکستان انجینئرنگ کونسل (PEC) کا دورہ کیا۔ وفدکی نمائندگی بورسا ایرو اسپیس اینڈ ڈیفنس کلسٹر ایسوسی ایشن (BASDEC) اور ڈیفنس انڈسٹری ایجنسی آف دی ریپبلک آف ترکیہ کر رہے تھے۔ ترکیہ کی وزارتِ تجارت کی معاونت سے ہونے والا یہ دورہ دو طرفہ انجینئرنگ اور صنعتی تعاون کو مضبوط بنانے کے مقصد کے تحت منعقد ہوا۔
چیئرمین پاکستان انجینئرنگ کونسل، انجینئر وسیم نذیر نے وفد کا خیرمقدم کیا اور انہیں پاکستان انجینئرنگ کونسل کی اصلاحات، ادارہ جاتی مضبوطی، اور کوالٹی اشورنس، بین الاقوامی سرٹیفکیشن، اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز کے شعبوں میں جاری جدید اقدامات پر بریفنگ دی۔ انہوں نے ترکیہ کی صنعتی ترقی کو سراہا اور اس بات پر زور دیا کہ PEC عالمی انجینئرنگ شراکت داریوں کو وسعت دینے کے لیے پُرعزم ہے۔
ترکیہ کی چودہ بڑی کمپنیوں کے نمائندگان نے اس ملاقات میں شرکت کی، جن میں ERFA Torna، Bizpark (Uçaksan)، FTS Tasarım، LEVKA، MFK، Milla Otomotiv، ONS Makine، Stamplast، Coşkunöz Metal Form، Defence Systems، Rena Mekatronik، ETKA-D Otomotiv، COMIT، اور BASDEC شامل ہیں۔ ترک کمپنیوں نے اپنی تکنیکی صلاحیتوں کا تعارف کرایا اور پاکستان میں مشترکہ منصوبوں، تحقیقی تعاون، ٹیکنالوجی کی منتقلی، اور مقامی مینوفیکچرنگ مواقع میں گہری دلچسپی ظاہر کی۔ اس موقع پر PEC نے اپنا ریگولیٹری فریم ورک اور انجینئرنگ تعاون کے ممکنہ شعبے بھی پیش کیے۔
ملاقات کے دوران دونوں اطراف نے اس بات پر اتفاق کیا کہ ہوابازی اور دفاعی شعبوں میں مہارت کے فروغ، اسناد کی فراہمی، اور مشترکہ جدید منصوبوں کے ذریعے منظم تعاون کو آگے بڑھایا جائے گا۔ اس کے علاوہ، تکنیکی تبادلے اور صنعتی اشتراک کو عملی شکل دینے پر بھی اتفاق کیا گیا۔
آخر میں چیئرمین PEC اور ترک وفد نے ادارہ جاتی روابط کو مضبوط بنانے اور پاکستان–ترکیہ انجینئرنگ تعلقات کو مزید وسعت دینے کے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ تعاون کو عملی اقدامات میں ڈھال کر دوطرفہ صنعتی و دفاعی ترقی کے نئے راستے کھولے جائیں گے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: پاکستان انجینئرنگ کونسل
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔