ترک وفد کی وفاقی وزیرِ تجارت سے ملاقات، صنعتی و ٹیکنالوجیکل تعاون بڑھانے پر اتفاق
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ترکیہ کے اعلیٰ سطحی وفد کی وفاقی وزیرِ تجارت جام کمال خان سے ملاقات ہوئی جس میں ایوی ایشن، ڈیفنس مینوفیکچرنگ اور ہائی ٹیک صنعتوں میں تعاون پر تبادلہ خیال کیا گیا۔
تفصیلات کے مطابق ترکیہ کے وفد نے پاکستان میں جوائنٹ وینچرز اور ٹیکنالوجی ٹرانسفر میں گہری دلچسپی دکھائی جبکہ ترک کمپنیوں نے پاکستان میں مینوفیکچرنگ صلاحیتیں قائم کرنے میں بھی دلچسپی کا اظہار کیا گیا۔
جام کمال خان نے دوطرفہ صنعتی و اقتصادی تعلقات مزید مضبوط بنانے پر زور دیا۔ وزیرِ تجارت نے ایرو اسپیس، ڈیفنس پروڈکشن، منرلز اور ڈوئل یوز مینوفیکچرنگ میں تعاون کے وسیع امکانات اجاگر کیے۔
پاکستان نے ترک کمپنیوں کو خطے کی مارکیٹوں کیلئے اسٹریٹجک پروڈکشن پارٹنر بنانے کا مشورہ دیا جبکہ ترکیہ کے وفد نے پاکستان کے اسٹریٹجک ویژن کی تعریف اور طویل المدتی تعاون کی خواہش کا اظہار کیا۔
دونوں فریقین کا B2B روابط، سرمایہ کاری پر مبنی صنعتی شراکت داری اور ٹیکنالوجیکل تعاون بڑھانے پر بھی اتفاق ہوا۔
ذریعہ
ذریعہ: Express News
پڑھیں:
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل کا اہم اجلاس
اسلام آباد (اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین - اے پی پی۔ 02 جون2026ء) وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال کی زیرِ صدارت پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل (پی ایم ڈی سی) کا اہم اجلاس منعقد ہوا ،جس میں انڈونیشیا میں پاکستان کے سفیر زاہد چوہدری نے ویڈیو لنک کے ذریعے شرکت کی۔ اجلاس میں پی ایم ڈی سی کے صدر ڈاکٹر رضوان تاج اور رجسٹرار سمیت دیگر متعلقہ حکام بھی شریک ہوئے۔اجلاس میں انڈونیشیا کے میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے طبی تعلیمی اداروں میں داخلے دینے سے متعلق امور کا تفصیلی جائزہ لیا گیا۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ انڈونیشیا کی حکومت نے درخواست کی ہے کہ اس کے انڈرگریجویٹ اور پوسٹ گریجویٹ میڈیکل طلبہ کو پاکستان کے معیاری میڈیکل اور ڈینٹل کالجوں میں تعلیم کے مواقع فراہم کئے جائیں۔(جاری ہے)
وفاقی وزیرِ صحت مصطفیٰ کمال نے کہا کہ ان طلبہ کے تعلیمی اور رہائشی اخراجات انڈونیشیا کی حکومت برداشت کرے گی جبکہ انہیں پاکستان کے بہترین طبی تعلیمی اداروں میں مکمل شفافیت اور میرٹ کی بنیاد پر داخلے دیئے جائیں گے۔
انہوں نے کہا کہ اس اقدام کے تحت تقریباً 200 انڈونیشین میڈیکل اور ڈینٹل طلبہ کو عالمی معیار کی تعلیمی اور تربیتی سہولیات فراہم کی جائیں گی جس سے دونوں ممالک کے درمیان طبی تعلیم کے شعبے میں تعاون کو مزید فروغ حاصل ہوگا۔وزیرِ صحت نے کہا کہ یہ امر خوش آئند ہے کہ انڈونیشیا کی حکومت نے اپنے طلبہ کی طبی تعلیم کے لئے پاکستان کے اداروں پر اعتماد کا اظہار کرتے ہوئے انہیں ترجیح دی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پیشرفت سے نہ صرف پاکستان اور انڈونیشیا کے دوطرفہ تعلقات مزید مضبوط ہوں گے بلکہ عالمی سطح پر پاکستان کے طبی تعلیمی نظام اور وقار کو بھی تقویت ملے گی۔مصطفیٰ کمال نے کہا کہ پاکستانی ڈاکٹرز دنیا بھر میں اپنی پیشہ وارانہ صلاحیتوں اور خدمات کے ذریعے ملک کا نام روشن کر رہے ہیں اور یہ اقدام پاکستان کے طبی شعبے پر بین الاقوامی اعتماد کا مظہر ہے۔