فیض حمید کے خلاف فیصلہ تاریخی اور غیر قانونی کام کرنے والوں کو پیغام ہے، بلاول
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
چینیوٹ: پیپلزپارٹی کے چیئرمین بلاول زرداری نے سابق ڈی جی آئی ایس آئی لیفٹیننٹ جنرل (ر) فیض حمید کے خلاف فوجی عدالت کے فیصلے کو تاریخی قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ آج کا فیصلہ واضح پیغام ہے کہ فیض حمید غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث تھے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے بلاول زرداری نے کہا کہ فیض حمید کے خلاف مزید ٹرائل جاری ہے اور ان کے پاس اپیل کے لیے متعلقہ فورمز موجود ہیں،خیبرپختونخوا میں گورنر راج پر کوئی باضابطہ ڈسکشن نہیں ہوئی، گورنر راج آئینی آپشن کے تحت ممکن ہے، اور پی ٹی آئی کے رویے سے وفاق پر دباؤ بڑھ رہا ہے۔
بلاول نے کہا کہ پی ٹی آئی کے دور میں سابقہ سیاسی مخالفین جیسے مریم نواز اور فریال تالپور کو ٹارگٹ کیا گیا، اور اب بانی پی ٹی آئی خود جیل میں ہیں، یہ مکافات عمل ہے، بانی پی ٹی آئی نے سیاست میں غلط روایات ڈالیں اور نفرت و انتشار کی سیاست کو پروان چڑھایا۔
چیئرمین پی پی پی نے اس بات پر زور دیا کہ پیپلزپارٹی نے آئینی عدالت کا قیام کر کے اپنے نظریے اور منشور کی کامیابی حاصل کی ہے اور سب کو مل کر وفاق کی مشکلات دور کرنے کی کوشش کرنی چاہیے، وفاق کی مالی مشکلات صوبوں کے اختیارات کم کیے بغیر حل کی جا سکتی ہیں اور اس سلسلے میں پی پی پی تعاون جاری رکھے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
گوگل کی مالک کمپنی الفابیٹ کا اے آئی پر 80 ارب ڈالر خرچ کرنے کا بڑا فیصلہ
اسلام آباد: مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی سے متعلق سوشل میڈیا پر گردش کرنے والے دعوؤں کی حقیقت سامنے آگئی ہے۔ مختلف پلیٹ فارمز پر یہ خبریں وائرل ہو رہی تھیں کہ عیدالاضحیٰ سے قبل مری میں غیر شادی شدہ مردوں یا بیچلرز کے داخلے پر مکمل پابندی عائد کر دی گئی ہے، تاہم سرکاری وضاحت نے ان دعوؤں کو غلط قرار دے دیا ہے۔
سوشل میڈیا پوسٹس میں دعویٰ کیا جا رہا تھا کہ دفعہ 144 کے نفاذ کے بعد مری شہر میں صرف فیملیز کو داخلے کی اجازت ہوگی جبکہ بیچلرز کو مکمل طور پر روک دیا گیا ہے۔ تاہم ضلعی انتظامیہ کے مطابق ایسی کوئی پابندی پورے مری شہر پر نافذ نہیں کی گئی۔
انتظامیہ کا کہنا ہے کہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص حصے تک محدود تھی، جہاں سیاحوں کے رش اور نظم و ضبط کو برقرار رکھنے کے لیے اکیلے آنے والے مردوں اور بیچلرز گروپس کے داخلے پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی۔ فیملیز کو معمول کے مطابق مال روڈ جانے کی اجازت دی گئی تھی۔
ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر (جنرل) مری کامران صغیر کے مطابق دفعہ 144 کا اطلاق صرف مال روڈ تک محدود تھا اور 31 مئی تک نافذ رہی۔ ان کا کہنا تھا کہ مری شہر میں آنے والے تمام سیاحوں کے لیے راستے کھلے تھے اور بیچلرز کے شہر میں داخلے پر کوئی مکمل پابندی نہیں تھی۔
ضلعی انتظامیہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن میں بھی واضح کیا گیا تھا کہ یہ اقدام صرف سیاحتی سہولیات بہتر بنانے اور ہجوم کو منظم رکھنے کے لیے کیا گیا تھا۔
اس طرح مری میں بیچلرز کے داخلے پر پابندی کے حوالے سے وائرل ہونے والا دعویٰ حقیقت کے برعکس ثابت ہوا۔ مری بدستور تمام سیاحوں کے لیے کھلا ہے جبکہ پابندی صرف مال روڈ کے مخصوص علاقے تک محدود رہی۔