وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا سہیل آفریدی نے یونیورسٹی آف پشاور کے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کا اچانک اور غیر رسمی دورہ کیا جہاں طلبہ سے براہِ راست گفتگو کی گئی۔

تفصیلات کے مطابق سہیل آفریدی نے جامعہ پشاور کی مالی خودکفالت کے لیے وائس چانسلر کو قابلِ عمل تجاویز پیش کرنے کی ہدایت دیں۔

وزیراعلیٰ نے کہا کہ ملک پر قابض کرپٹ ٹولے نے پاکستان کی معیشت کو تباہی کے دہانے پر پہنچا دیا ہے۔ وفاق میں بیٹھے کرپٹ ٹولے نے 5300 ارب روپے کی تاریخی کرپشن کی ہے۔

انہوں نے کہا کہ این ایچ پی کی مد میں وفاق کے ذمے خیبرپختونخوا کے 2200 ارب روپے سے زائد بقایا ہیں۔ این ایف سی کی مد میں ضم اضلاع کے 1375 ارب روپے وفاق کے ذمے واجب الادا ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ واٹر چارجز کی مد میں بھی اربوں روپے بقایا ہیں۔ یونیورسٹی ہاسٹلز میں مقیم طلبہ کو رعائتی نرخوں پر کھانا فراہم کرنے کے لیے تجاویز طلب کرلی گئی ہیں۔

وزیر اعلی نے اکنامکس ڈیپارٹمنٹ کی کمپیوٹر لیب اپ گریڈ کرنے کا اعلان کیا اور اکنامکس ڈیپارٹمنٹ، پولیٹیکل سائنس اور ائی ایم سٹڈیز کی 5 کروڑ 30 لاکھ روپے کی لاگت سے سولرائزیشن کا بھی اعلان کیا گیا۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Daily Mumtaz

کلیدی لفظ: ارب روپے

پڑھیں:

خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم

پشاور کی احتساب عدالت نے اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل سے 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم جاری کردیا۔

پشاور کی احتساب عدالت کے جج محمد ظفر نے اپرکوہستان مالیاتی اسکینڈل میں کروڑوں روپے کی ضبطگی سے متعلق درخواست پر تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔

احتساب عدالت نے ملزم دوراج خان کی جانب سے دائر پلی بارگین درخواست کے تناظر میں 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے بحق سرکار ضبط کرنے کے احکامات جاری کردیے ہیں۔

فیصلے کے مطابق نیب خیبرپختونخوا اپرکوہستان میں جعلی بلوں اور بوگس دعوؤں کے ذریعے سرکاری فنڈز میں کرپشن کی تحقیقات کر رہا ہے، ملزم کے قریبی رشتہ داروں کے نام پر کھولے گئے بینک اکاؤنٹس میں موجود 21 کروڑ 13 لاکھ 76 ہزار 685 روپے ضبط کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

عدالت نے فیصلے میں کہا ہے کہ ملزم دوراج خان اس مقدمے میں گرفتار ہے اور جوڈیشل ریمانڈ پر جیل میں ہے اور دوران تفتیش انکشاف ہوا کہ ملزم نے مبینہ کرپشن کی رقم چھپانے کےلیے بیشام کے نجی بینک میں قریبی رشتہ داروں کے نام پر اکاؤنٹس کھلوائے۔

فیصلے میں کہا گیا کہ ملزم کے رشتہ داروں محمد اقبال، محمد ایاز، محمد عمر، کریم داد اور سربلند نے عدالت میں رضاکارانہ بیانات قلم بند کرائے اورمؤقف اختیار کیا کہ انہیں اپنے نام پر موجود اکاؤنٹس میں جرائم سے حاصل شدہ رقم کا علم نہیں تھا۔

احتساب عدالت نے کہا ہے کہ ملزم کے رشتہ داروں نے تمام رقوم بحق سرکار ضبط کرنے پر رضامندی ظاہر کی اور رقم پر کسی قسم کا دعویٰ نہ کرنے کا بیان دیا۔

فیصلے میں مزید بتایا گیا کہ عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے ضبط شدہ رقم چیئرمین نیب کے نیشنل بینک آف پاکستان، پی ایم سیکریٹریٹ برانچ اسلام آباد کے اکاؤنٹ میں منتقل کرنے کا حکم دیا ہے۔

عدالتی فیصلے کے مطابق ضبط شدہ رقم ملزم کی پلی بارگین کے تحت واجب الادا رقم میں ایڈجسٹ کی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ حکومت کا مہنگے داموں پاسکو سے گندم خریدنے کا فیصلہ
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  •  صدر آصف علی زرداری سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات
  • صدر مملکت سے بلوچستان کے صوبائی وزراء کی ملاقات، مجموعی صورتحال پر تبادلہ خیال
  • پیپلز پارٹی کا فارم 47 پر حالیہ بیانیہ پی ٹی آئی بیانیے سے مطابقت رکھتا ہے، علی ظفر
  • کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • خیبرپختونخوا؛ کوہستان مالیاتی اسکینڈل، عدالت کا 21 کروڑ 13 لاکھ سے زائد ضبط کرنے کا حکم
  • حیسکو میں ایک ارب 6 کروڑ سے زائد کی کرپشن کا انکشاف