اندرون ملک 6 پروازیں منسوخ، درجنوں تاخیر کا شکار
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
ایئرلائنز کے انتظامی مسائل کے سبب آج ملک بھر میں اندرون ملک 6 پروازیں منسوخ اور 37 دیگر پروازیں تاخیر کا شکار ہو گئی ہیں۔ فلائٹ شیڈول کے مطابق مختلف شہروں کے ایئرپورٹس پر مسافروں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑا ہے۔
یہ بھی پڑھیں:وزیراعظم شہباز شریف کی پی آئی اے نجکاری کا عمل تیز کرنے کی ہدایت
فلائٹ شیڈول کے مطابق کراچی سے گوادر جانے والی قومی ایئر کی 2 پروازیں منسوخ کر دی گئی ہیں۔ اسی طرح کراچی سے سکھر کی 2 پروازیں بھی منسوخ ہو گئی ہیں، جبکہ فیصل آباد سے دبئی جانے والی 2 پروازیں بھی متاثر ہوئی ہیں۔
میڈیا رپورٹ کے مطابق اسلام آباد ایئرپورٹ پر آج 16 پروازیں تاخیر کا شکار ہیں، جبکہ لاہور میں 12 پروازیں روانگی میں دیر کا سامنا کر رہی ہیں۔ کراچی اور پشاور ایئرپورٹس پر بھی پانچ پانچ پروازیں تاخیر کا شکار ہوئیں۔
مسافروں کو ایئرلائنز کی انتظامی مشکلات کے باعث سفر میں دقتوں کا سامنا ہے اور متعلقہ حکام کی طرف سے شیڈول میں تبدیلی کی اطلاعات فراہم کی جا رہی ہیں۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
پاکستان پروازیں منسوخ فلائٹ شیڈول.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: پاکستان پروازیں منسوخ فلائٹ شیڈول پروازیں منسوخ تاخیر کا شکار
پڑھیں:
مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری
فوٹو: فائلکفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی نے مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دے دی گئی۔
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈارکی زیر صدارت کفایت شعاری اقدامات کی نگرانی و عملدرآمد کمیٹی کا اجلاس ہوا، جس میں مارکیٹوں اور دکانوں کے اوقات کار میں توسیع کی منظوری دی گئی۔
اعلامیہ کے مطابق دکانیں، مارکیٹیں، شاپنگ مالز اور جنرل ریٹیل رات 9 بجے تک کھلے رہ سکیں گے جبکہ ریسٹورنٹس رات 11 بجے تک کھلے رہیں گے، ٹیک اوے اور ڈلیوری سروسز مستثنیٰ ہوں گی۔
اعلامیہ کے مطابق شادی ہالز اور تقریباتی مقامات کے اوقات رات 10 بجے تک برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔
اعلامیہ کے مطابق فارمیسی، اسپتال، پیٹرول پمپس، آئی ٹی اور ٹیلی کام سے متعلق ضروری خدمات اوقات کار کی پابندی سے مستثنیٰ ہوں گی۔
صوبائی حکومتوں کو وفاقی اداروں کے تعاون سے نئے اوقات کار پر مؤثر عملدرآمد یقینی بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔