ایک 19سالہ ماحولیاتی محقق کو انٹارکٹیکا میں مکمرڈو اسٹیشن پر 6 ماہ کے ریسرچ کنٹریکٹ کی پیشکش ہوئی ہے، جس پر وہ اپنی ذاتی زندگی اور 3 سالہ تعلق داری کے باعث تذبذب کا شکار ہیں۔

پیشکش کے مطابق محقق کو 6 ماہ کے دوران تقریباً ایک لاکھ 45 ہزار امریکی ڈالر معاوضہ ملے گا، جو پاکستانی کرنسی میں تقریباً 4 کروڑ 4 لاکھ روپے بنتا ہے، جبکہ کمپنی خوراک، رہائش، سفری اخراجات اور دیگر ضروری سہولیات بھی فراہم کرے گی۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا میں شاہی پینگوئن کی آبادی میں خطرناک حد تک کمی کا سبب کیا ہے؟

محقق نے آن لائن فورم پر لکھا کہ انٹارکٹیکا میں رہتے ہوئے ان کے تقریباً کوئی اخراجات نہیں ہوں گے، اس لیے پوری تنخواہ جمع کی جاسکتی ہے، تاہم 6 ماہ کی طویل دوری ان کی ذاتی زندگی کے لیے بڑا امتحان بن سکتی ہے۔

Posts from the fire
community on Reddit

ان کے مطابق گرل فرینڈ اسپورٹ کرتی ہیں لیکن طویل جدائی انہیں پریشان کررہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ ان کی موجودہ بچت تقریباً ایک لاکھ اسی ہزار امریکی ڈالر کے برابر ہے، اس ملازمت کے بعد ریٹائرمنٹ کے ہدف کے قریب پہنچنے میں مدد ملے گی۔

محقق نے کہا کہ انٹارکٹیکا جیسے دور افتادہ مقام پر رہنا مشکل ہوسکتا ہے، اگرچہ سائنسی تجربات ان کے کیریئر کو نئی سمت دے سکتے ہیں۔ انہوں نے لکھا کہ مسلسل سوچ ان کے لیے مشکل ہورہی ہے کہ آیا وہ 6 ماہ کی تنہائی، الگ تھلگ ماحول اور نارمل زندگی سے دوری برداشت کرپائیں گے یا نہیں۔

یہ بھی پڑھیں: انٹارکٹیکا کے پینگوئنز بھی ٹرمپ ٹیرف متاثرین میں شامل

آن لائن فورم پر ہزاروں افراد نے اس معاملے پر رائے دی اور اکثریت نے مشورہ دیا کہ انہیں یہ پیشکش قبول کرنی چاہیے۔ ایک صارف نے لکھا کہ اتنی کم مدت میں اپنی دولت دگنی کرنے کا موقع کبھی کبھار ملتا ہے۔

ایک اور صارف نے کہا کہ وہ خود انٹارکٹیکا جاچکے ہیں، مکمرڈو اسٹیشن وقت گزرنے کے ساتھ بورنگ ہو جاتا ہے لیکن ریسرچ کے مواقع زندگی بدلنے والے ہوتے ہیں، اگرچہ یہ رشتہ ضرور آزمائش میں ڈال سکتا ہے۔

ایک اور رائے میں کہا گیا کہ یہ زندگی میں ایک بار ملنے والا تجربہ ہے، جبکہ مالی فائدہ بھی غیر معمولی ہے۔ متعدد صارفین نے کہا کہ 6 ماہ کا عرصہ اتنا زیادہ نہیں کہ اس کی وجہ سے زندگی کے بڑے مواقع ضائع کر دیے جائیں۔

یہ بھی پڑھیں: فریش گریجویٹس کے لیے ملازمت کی دنیا میں اینٹری مشکل ترین کام، وجوہات کیا ہیں؟

ایک رائے کے مطابق مکمرڈو اسٹیشن بڑا بیس ہے جہاں نسبتاً زیادہ افراد رہتے ہیں، اس لیے مکمل تنہائی کا احساس کم ہوتا ہے۔

یہ معاملہ آن لائن تیزی سے وائرل ہو رہا ہے اور بیشتر صارفین اس پیشکش کو قبول کرنے کے حق میں ہیں، تاہم محقق اب بھی اس تذبذب میں مبتلا ہیں کہ آیا کیریئر اور مالی فائدہ ذاتی زندگی پر ممکنہ اثرات کے مقابلے میں زیادہ اہم ہے یا نہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: انٹارکٹیکا میں کے لیے

پڑھیں:

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی

لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز

لاہور(آئی پی ایس )لاہور ہائی کورٹ نے ایک اہم فیصلے میں واضح کیا ہے کہ ہاسنگ سوسائٹیوں میں اسکول، پارک، مسجد، ہسپتال اور دیگر عوامی سہولیات (Amenity Sites) کے لیے مختص زمین عوام کی امانت ہے۔ اگرچہ ایسی زمین کا قانونی ٹائٹل بعض حالات میں لاہور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (LDA) کے پاس منتقل ہو سکتا ہے، لیکن LDA اسے اپنی ملکیت سمجھ کر کمرشل مقاصد کے لیے فروخت یا نیلام نہیں کر سکتی۔

مقدمہ AGRICS Cooperative Housing Society اور LDA کے درمیان تھا۔ سوسائٹی نے مقف اختیار کیا کہ وہ Cooperative Societies Act, 1925 کے تحت قائم ہوئی ہے، اس لیے LDA کے بعض قوانین اس پر لاگو نہیں ہوتے، جبکہ LDA کا مقف تھا کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین اس کے نام منتقل کیے بغیر اسکول کا بلڈنگ پلان منظور نہیں کیا جا سکتا۔

لاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا کہ Cooperative Societies Act سوسائٹی کے اندرونی معاملات سے متعلق ہے، جبکہ LDA Act لاہور میں شہری منصوبہ بندی (Urban Planning) اور ہاسنگ اسکیموں کو منظم کرنے والا خصوصی قانون ہے، اس لیے پلاننگ اور ترقیاتی معاملات میں LDA کے قوانین پر عمل کرنا تمام ہاسنگ سوسائٹیوں کے لیے لازم ہے۔

عدالت نے یہ بھی قرار دیا کہ 1990 کی Mortgage Deed اور سوسائٹی کے اپنے سابقہ ریکارڈ سے ثابت ہوتا ہے کہ متعلقہ عوامی سہولیات کی زمین LDA کے نام منتقل ہو چکی تھی، لہذا سوسائٹی کئی دہائیوں بعد اس مقف سے انکار نہیں کر سکتی۔

فیصلے کا سب سے اہم حصہ Doctrine of Public Trust (پبلک ٹرسٹ ڈاکٹرائن) سے متعلق ہے۔ عدالت نے واضح کیا کہ اگرچہ زمین کا قانونی ٹائٹل LDA کے پاس ہے، لیکن وہ اس کا مطلق مالک نہیں بلکہ صرف Trustee (امین) ہے۔ اس لیے اسکول، پارک، مسجد یا دیگر عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کو کسی اور مقصد، خصوصا تجارتی استعمال یا فروخت کے لیے استعمال نہیں کیا جا سکتا۔ ایسی زمین صرف اسی مقصد کے لیے استعمال ہوگی جس کے لیے اسے مختص کیا گیا تھا۔

عدالت نے یہ بھی نوٹ کیا کہ 30 سال سے زائد عرصہ گزرنے کے باوجود اسکول کے لیے مختص پلاٹ پر اسکول تعمیر نہیں کیا گیا، جس سے علاقے کے رہائشیوں کے بنیادی حقوق متاثر ہوئے۔ اسی بنیاد پر لاہور ہائی کورٹ نے LDA کو تین ماہ کے اندر قانونی طریقہ کار کے مطابق اس پلاٹ کو ایسے ادارے یا فریق کے حوالے کرنے کا حکم دیا جو وہاں اسکول تعمیر کرے، اور مقررہ مدت میں تعمیر نہ ہونے کی صورت میں متعلقہ قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔

یہ فیصلہ ہاسنگ سوسائٹیوں کے رہائشیوں کے لیے ایک اہم نظیر ہے، جو اس اصول کو مضبوط کرتا ہے کہ عوامی سہولیات کے لیے مختص زمین کسی بھی سرکاری یا نجی ادارے کی تجارتی ملکیت نہیں بلکہ عوام کی امانت ہے، اور اسے صرف عوامی مفاد کے اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے جس کے لیے وہ مختص کی گئی ہو۔

روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔

WhatsAppFacebookX پچھلی خبروزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال اگلی خبرمقبوضہ کشمیر میں 1989 سے اب تک 96 ہزار 499 شہادتیں، ایک لاکھ 84 ہزار سے زائد گرفتاریاں: رپورٹ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید... صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی TikTokTikTokMail-1MailTwitterTwitterFacebookFacebookYouTubeYouTubeInstagramInstagram

Copyright © 2026, All Rights Reserved

رابطہ کریں ہماری ٹیم

متعلقہ مضامین

  • چینی شہریوں کی سیکیورٹی کیلیے بلٹ پروف لینڈ کروزر خریدنے کا فیصلہ
  • کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
  • سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
  • اداکار شان بیگ اور روما مائیکل رشتۂ ازدواج میں منسلک، مداحوں کو خوشخبری سنا دی
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • لاہور میں موسلا دھار بارش، سڑکیں زیر آب، معمولات زندگی متاثر
  • پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
  • لاہور ہائی کورٹ کا اہم فیصلہ: ہا ئوسنگ سوسائٹیوں کے پارک، اسکول اور مسجد کی زمین فروخت نہیں کی جا سکتی
  • جماعت اسلامی بنگلہ دیش کے رکنِ پارلیمنٹ  کی نوجوان خاتون کے ساتھ نازیبا ویڈیو سامنے آگئی
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ