پاکستان کی ترکمانستان کو کراچی اور گوادر بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251212-01-15
اشک آباد(مانیٹر نگ ڈ یسک )وزیراعظم نے ترکمانستان کو کراچی اور گوادر بندرگاہیں استعمال کرنے کی پیشکش کردی۔وزیرِاعظم محمد شہباز شریف ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف کی دعوت پر اپنے دو روزہ سرکاری دورے پر اشک آباد ترکمانستان پہنچ گئے۔اشک آباد انٹرنیشنل ائیر پورٹ پہنچنے پر ترکمانستان کی کابینہ کے نائب چیئرمین اور ٹرانسپورٹ و مواصلات کے سربراہ محمد خان چیکیئف نے وزیرِ اعظم و پاکستانی وفد کا استقبال کیا۔بعدازاں وزیراعظم نے ترکمانستان کے صدر سردار بردی محمدوف سے دوطرفہ ملاقات کی۔ ملاقات کے دوران وزیراعظم نے ترکمانستان کی مستقل غیر جانب داری کی 30 ویں سالگرہ اور اقوام متحدہ کی جانب سے 2025 کو امن اور اعتماد کا بین الاقوامی سال قرار دینے پر ترکمان صدر کو مبارکباد دی۔پاکستان اور ترکمانستان کے درمیان تاریخی اور برادرانہ تعلقات کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے وزیراعظم نے دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات بالخصوص تجارتی اور اقتصادی روابط کو مضبوط بنانے کے عزم کا اظہار کیا۔وزیراعظم نے رواں برس کے آغاز پر ایران اسرائیل جنگ کے دوران پاکستانی شہریوں کو ایران سے بحفاظت نکالنے کے لیے فراہم کی جانے والے تعاون پر ترکمان قیادت اور حکومت کا تہہ دل سے شکریہ ادا کیا۔وزیراعظم نے ترکمانستان کے ساتھ زمینی اور سمندری راستوں کے ذریعے روابط بڑھانے کی پاکستان کی خواہش کا اعادہ کیا اور کہا کہ کراچی اور گوادر کی بندرگاہوں کا جغرافیہ مثالی ہے جسے ترکمانستان جنوبی ایشیاء اور اس سے باہر اپنی رسائی کو بڑھانے کے لیے استعمال بروئے کار لاسکتا ہے۔ترکمانستان کی جانب سے پاکستانی وفد کی شاندار مہمان نوازی پر ترکمان صدر کا شکریہ ادا کرتے ہوئے، وزیراعظم نے ترکمانستان کے عوام کے قومی رہنما گربنگولی بردی محمدوف کیلئے نیک خواہشات کا اظہار کیا۔وزیرِ اعظم ترکمانستان کی عوام کے قومی رہنما اور صدر سردار بردی محمدوف کو آئندہ برس پاکستان کے سرکاری دورے کرنے کی دعوت کا اعادہ کیا۔ترکمانستان کے صدر نے وزیر اعظم کے دورے اور امن و اعتماد کے بین الاقوامی فورم میں شرکت پر شکریہ ادا کیا اور یقین کہا کہ ترکمانستان پاکستان کے ساتھ باہمی دلچسپی کے متعدد شعبوں میں دوطرفہ تعاون کو بڑھانے کا خواہاں ہے۔وزیر اعظم اشک آباد میں 12 دسمبر 2025 تک امن اور اعتماد کے عالمی سال (2025)، غیر جانبداری کے بین الاقوامی دن اور ترکمانستان کی مستقل غیرجانبداری کی 30 ویں سالگرہ کے موقع پر منائے جانے والے بین الاقوامی فورم میں شرکت کے لیے ترکمانستان کے دو روزہ سرکاری دورے پر ہیں۔نائب وزیر اعظم و وزیرِ خارجہ سینیٹر اسحاق ڈار، وفاقی وزیر بجلی سردار اویس خان لغاری، وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، معاونین خصوصی طارق فاطمی اور طلحہ برکی بھی وزیرِ اعظم کے ہمراہ ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: وزیراعظم نے ترکمانستان ترکمانستان کی ترکمانستان کے بین الاقوامی بردی محمدوف
پڑھیں:
سعودی عرب کے ساتھ دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور اس کی پاسداری کریں گے: پاکستان
پاکستان نے یمن کے حوثی گروپ کی جانب سے سعودی آئل ٹینکر پر حملے اور بحیرہ احمر میں تجارتی جہاز رانی کو درپیش خطرات کی پرزور الفاظ میں مذمت کی ہے اور سعودی عرب کی سلامتی و خودمختاری کے لیے اپنی مکمل حمایت کا اعادہ کیا ہے۔وزیراعظم شہباز شریف نے جمعرات کو سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان سے ٹیلی فونک رابطہ کر کے بحرِ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حوثی ملیشیا کے حملے کی شدید الفاظ میں مذمت کی۔وزیراعظم نے حملے کو بزدلانہ اقدام قرار دیتے ہوئے کہا کہ ”ایسے اقدامات قطعی ناقابلِ قبول ہیں. یہ بین الاقوامی قانون کی صریح خلاف ورزی ہیں، جہاز رانی اور تجارتی نقل و حمل کی آزادی کے لیے خطرہ ہیں اور علاقائی امن، سلامتی اور استحکام کو نقصان پہنچاتے ہیں“۔وزیراعظم نے سعودی عرب کے ساتھ پاکستان کی مکمل یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ میں خود، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر اور پوری پاکستانی قوم اس نازک وقت میں سعودی قیادت اور مملکت کے برادر عوام کے ساتھ مضبوطی اور عزم کے ساتھ کھڑے ہیں۔انہوں نے مزید یقین دہانی کرائی کہ پاکستان مملکت سعودی عرب کی سلامتی، خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی مکمل حمایت کرتا ہے اور بحرِ احمر، آبنائے ہرمز اور خطے میں سمندری تجارت کی روانی کو یقینی بنانے کے لیے عالمی برادری اور سعودی عرب کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔گفتگو کے دوران سعودی ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے پاکستان کی اس مستقل حمایت اور دونوں ممالک کے درمیان قائم قریبی برادرانہ تعلقات کی تعریف کی۔ اس موقع پر وزیراعظم پاکستان نے خادمِ حرمین شریفین، شاہ سلمان بن عبدالعزیز آل سعود کے لیے بھی نیک خواہشات اور خیر سگالی کے جذبات کا اظہار کیا۔
دوسری جانب، دفترِ خارجہ کے ترجمان طاہر حسین اندرابی نے ہفتہ وار میڈیا بریفنگ کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ”گزشتہ ہفتے بھی حوثیوں کی جانب سے حملہ کیا گیا تھا. جس کی وزیراعظم پاکستان نے فوری مذمت کرتے ہوئے سعودی عرب کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا تھا“۔طاہر اندرابی نے کہا کہ ہمارے بحری جہازوں پر حملہ ریڈلائن ہوگی. ہم سعودی عرب کے ساتھ باہمی دفاعی معاہدے کے پابند ہیں اور سعودی عرب کے ساتھ تمام معاہدوں کی پاسداری کریں گے۔انہوں نے خبردار کیا کہ یمن کے مسلح گروہوں کی جانب سے سعودی عرب پر ایسے حملے خطے میں پہلے سے موجود کشیدگی کو مزید بڑھا سکتے ہیں، اس لیے پاکستان تمام فریقین سے تحمل کا مظاہرہ کرنے اور مسائل کا پرامن حل سفارتی راستے سے نکالنے کی اپیل کرتا ہے۔خطے میں امن قائم کرنے اور کشیدگی کم کرنے کے لیے پاکستان نے اپنی سفارتی رفت و آمد میں بھی اضافہ کر دیا ہے۔ترجمان کے مطابق حال ہی میں ایران کے وزیر داخلہ اسکندر مومنی نے پاکستان کا دورہ کیا، جہاں انہوں نے وزیراعظم، فیلڈ مارشل اور وفاقی وزیر داخلہ سمیت اعلیٰ قیادت سے ملاقاتیں کیں تاکہ علاقائی سیکیورٹی کی صورتحال پر تبادلہ خیال کیا جا سکے۔اس کے علاوہ پاکستان اور کویت کے وزرائے خارجہ کے درمیان رابطہ ہوا، جبکہ منیلا میں آسیان ریجنل فورم کے موقع پر نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے مصر، عمان، فلپائن، روس اور بنگلہ دیش کے وزرائے خارجہ سے الگ الگ اہم ملاقاتیں کیں۔ان ملاقاتوں کی تفصیل بتاتے ہوئے ترجمان نے کہا کہ ”مصر کے وزیر خارجہ سے ملاقات میں دونوں رہنماؤں نے تمام ممالک کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کے احترام پر زور دیا، جبکہ عمان کے وزیر خارجہ نے خطے میں کشیدگی کے خاتمے اور امن و استحکام کے لیے پاکستان کے سفارتی کردار کو سراہا“۔اس کے ساتھ ساتھ روس کے وزیر خارجہ سرگئی لاوروف اور بنگلہ دیش کے وزیر خارجہ خلیل الرحمان سے بھی باہمی تعلقات اور تعاون کو آگے بڑھانے پر بات چیت کی گئی۔ترجمان دفترِ خارجہ نے مزید بتایا کہ پاکستان کے نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ اسحاق ڈار اب شنگھائی تعاون تنظیم (ایس سی او) کے وزرائے خارجہ کونسل اجلاس میں شرکت کے لیے بشکیک پہنچیں گے. جہاں ان کی کرغزستان کے صدر اور دیگر رکن ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں متوقع ہیں۔ترجمان نے یہ بھی بتایا کہ کینیڈا کی وزیر خارجہ انیتا آنند نے بھی حال ہی میں پاکستان کا دورہ کیا ہے، جو گزشتہ بیس سالوں میں کسی کینیڈین وزیر خارجہ کا پہلا دورہ تھا اور اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دوطرفہ تعلقات کی مضبوطی کے لیے اعلیٰ سطح پر بات چیت کی گئی۔