اسلام آباد (خبر نگار خصوصی+ نوائے وقت رپورٹ) وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گوادر پورٹ سٹی میں بجلی کی فراہمی میں درپیش مسائل کے حل کے لیے جامع منصوبہ پر فوری عملدرآمد کی منظوری دیتے ہوئے ہدایت کی ہے کہ 100میگا واٹ سولر پراجیکٹ سے گلگت بلتستان میں ماحولیاتی اعتبار سے صاف بجلی کی بلا تعطل اور مستحکم فراہمی کو یقینی بنایا جائے،گلگت بلتستان کے عوام کی فلاح و بہبود اور معاشی ترقی وفاقی حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔پیرکو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق انہوں نے یہ ہدایت بجلی کے شعبے میں جاری اصلاحات سے متعلق جائزہ اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کی۔ اجلاس میں نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ محمد اسحاق ڈار، وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب، وفاقی وزیربجلی سردار اویس احمد خان لغاری، وفاقی وزیراطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ، وفاقی وزیر اقتصادی امور احد خان چیمہ، وفاقی وزیر پٹرولیم علی پرویز ملک اور دیگر متعلقہ سرکاری عہدیداران نے شرکت کی۔ وزیراعظم نے ہدایت کی کہ تیار کردہ جامع حکمت عملی میں شامل فوری، قلیل مدتی اور طویل مدتی پراجیکٹس پر وزارت توانائی مؤثر عمل درآمد کو یقینی بنایا جائے، گوادر میں بجلی کی بلا تعطل فراہمی، ملکی معاشی سرگرمیوں اور سرمایہ کاری میں ترقی کو یقینی طور پر بڑھانے کا سبب بنے گی، صنعتوں اور سرمایہ کاروں کے لیے پاکستان میں قائم کردہ صنعتوں کے لئے بجلی کی فراہمی کو علاقائی اور بین الاقوامی معیار کے مطابق کیا جائے۔ انہوں نے کہا کہ بجلی کی بلا تعطل فراہمی اور دیگر سہولیات سے گوادر کی بندرگاہ دنیا کی بہترین بندرگاہ اور مستقبل میں معاشی سرگرمیوں کا مرکز بن جائے گی۔ اجلاس میں وزیراعظم کو وفاقی وزیر پاورڈویژن سردار اویس احمد خان لغاری نے پاور سیکٹر میں جاری منصوبوں پر بریفنگ کے دوران بتایا کہ گوادر میں وزارت توانائی کی طرف سے فوری اقدامات کی وجہ سے بجلی کی فراہمی میں تعطل کو 42 فیصد پہلے ہی کم کیا جا چکا ہے، بجلی کی فراہمی میں تعطل ختم کرنے کے بعد آئندہ 6 ماہ میں گوادر میں فراہم کردہ بجلی کی وولٹیج کو مستحکم کرنے کے لیے بھی جامع پلان ترتیب دیا جا چکا ہے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے بدعنوانی کے انسداد کیلئے حکومتی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانا حکومت کی ترجیحات میں شامل ہے۔ انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر اپنے پیغام میں وزیر اعظم نے کہا کہ آج پاکستان اقوام عالم کے ساتھ ہم آواز ہو کر انسداد بدعنوانی کے عالمی دن پر بدعنوانی کو ختم کرنے کے لئے جاری اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کے عزم کی تجدید کرتا ہے۔ وزیر اعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق وزیراعظم نے کہا کہ 2025ء میں یہ دن "نوجوانوں کے ساتھ مل کر بدعنوانی کے خلاف: ایماندار، باعزت مستقبل کی بنیاد" کے عنوان کے تحت منایا جا رہا ہے، یہ عنوان ہمہ جہتی اور  ہر عمر کی آبادی کی شمولیت سے اس برائی کے خاتمہ کرنیکی اہمیت کو اجاگر کر رہا ہے۔ بدعنوانی نہ صرف ملکی انتظامیہ کو کمزور کرتی ہے بلکہ عوام کی روزمرہ زندگی، معاشرتی انصاف و مساوات، معاشی ترقی اور فلاحی ریاست کے بنیادی اصولوں کو بھی متاثر کرتی ہے۔ انہوں نے مالی بدعنوانی کے خلاف ٹھوس اقدامات اٹھانے کو حکومت کی ترجیح قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس ضمن میں قومی احتساب بیورو (نیب) اور تمام متعلقہ ادارے بھرپور  طریقے اور بڑی تندہی سے کارروائی کر رہے ہیں۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اہمیت کے اہم منصوبوں کی شفافیت کے ساتھ بر وقت تکمیل حکومت کی ترجیح ہے، وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سٹیک ہولڈرز کی سٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت خود کروں گا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے پیر کو اپنی زیر صدارت ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے لائحہ عمل پر اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔ وزیر اعظم نے ترقیاتی منصوبوں کے مختلف مراحل میں اصلاحات کے حوالے سے جامع حکمت عملی ترتیب دینے کی ہدایت کرتے ہوئے کہا کہ ترقیاتی منصوبوں میں اصلاحات کے حوالے سے وفاقی اور صوبائی حکومتوں کے سٹیک ہولڈرز کی سٹیئرنگ کمیٹی کی صدارت وہ خود کریں گے۔ اجلاس کو عالمی بنک اور ایشیائی ترقیاتی بنک کی جانب سے ترقیاتی منصوبوں کی بروقت تکمیل کے حوالے سے تجاویز پیش کی گئیں۔ اجلاس کو بریفنگ میں بتایا گیا کہ ترقیاتی منصوبوں کے لئے انسانی وسائل کو منصوبوں کے مقاصد کے ساتھ ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل کو پی ایس ڈی پی اور اے ڈی پی کے مقاصد اور امنگوں سے ہم آہنگ کرنے کی ضرورت ہے،  بروقت پروکیورمنٹ نہ ہونا ترقیاتی منصوبوں میں تاخیر کی بنیادی وجہ ہے۔ اجلاس کو بتایا گیا کہ ای-پروکیورمنٹ اور پراجیکٹ ریڈی نیس کی سہولیات کی فراہمی سے پروکیورمنٹ کو تیز رفتار بنایا جا سکتا ہے، ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل میں منظوری کے کئی مراحل شامل ہوتے ہیں جن کو سہل بنانے کی ضرورت ہے۔ اجلاس میں اصلاحات کے حوالے سے چار ورکنگ گروپس بنانے کی تجویز زیر غور آئی، پہلا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے منظوری کے مراحل اور تیاری کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا، دوسرا ورکنگ گروپ پروکیورمنٹ کو جدید اور شفاف خطوط پر استوار کرنے کے حوالے سے اصلاحات پر اور تیسرا ورکنگ گروپ منصوبوں کے لئے زمین کے حصول اور ری-سیٹیلمنٹ کے معاملات میں اصلاحات لانے کے حوالے سے ہو گا جبکہ چوتھا ورکنگ گروپ ترقیاتی منصوبوں کے حوالے سے  انسانی وسائل اور سٹاف کی تعیناتی کے حوالے سے اصلاحات پر کام کرے گا ۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے سعودی شہزادہ مشعل بن بدر بن سعود کی والدہ کے انتقال پر اپنے گہرے افسوس کا اظہارکیا ہے۔ امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز نے وزیراعظم محمد شہباز شریف کی قیادت میں پاکستان کے صحت کے شعبہ کی ترقی پر انہیں خراج تحسین پیش کرتے ہوئے پاکستان میں سرمایہ کاری میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ پیرکو وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کی طرف سے جاری بیان کے مطابق ملاقات میں امریکہ میں مقیم پاکستانی نژاد ڈاکٹرز کے وفد نے ملاقات کی۔ وفد میں ڈاکٹر سمیر شفیع کی قیادت میں ڈاکٹر جواد شاہ، ڈاکٹر تجمل حسین، ڈاکٹر نعمان حیدر اور معروف سماجی شخصیت رانا زاہد امیر شامل تھے۔ وزیر اعظم محمد شہباز شریف نے عابد شیر علی کو سینٹ انتخابات میں بلا مقابلہ کامیابی پر مبارکباد دیتے ہوئے ان کے لیے نیک خواہشات کا اظہار کیا ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف نے یو اے ای کے قومی دن ’’عبید الاتحاد‘‘ کے حوالے سے تقریب سے خطاب کرتے کہا ہے کہ یو اے اے ای کے قومی دن کی تقریب میں شرکت باعث اعزاز ہے، یو اے ای  کی موجودہ قیادت نے ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کیا ہے۔ پاکستان کو یو اے ای کے ساتھ سٹریٹجک شراکت داری پر فخر ہے، یو اے ای نے پاکستان کے معاشی استحکام میں اہم کردار ادا کیا۔ 15 لاکھ پاکستانی یو اے ای کی ترقی میں کردار ادا کر رہے ہیں۔ قابل تجدید توانائی، مصنوعی ذہانت اور فن ٹیک میں یو اے ای کی سرمایہ کاری کا خیر مقدم کریں گے۔ وزیراعظم نے یو اے ای کے قومی دن پر اماراتی قیادت اور عوام کو دلی مبارکباد پیش کی۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Nawaiwaqt

پڑھیں:

پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا

پشاور:

خیبرپختونخوا کے دارالحکومت پشاور سمیت صوبے کے متعدد اضلاع میں بجلی کا طویل اور غیر معمولی بریک ڈاؤن شہریوں کے لیے عذاب بن گیا۔

شدید آندھی اور طوفان کے بعد شام تقریباً 6 بجے اچانک بجلی کی فراہمی معطل ہوئی جو کئی گھنٹے گزرنے کے باوجود مکمل طور پر بحال نہ ہو سکی۔

بجلی کی بندش کے باعث پشاور، مردان، چارسدہ، نوشہرہ اور دیگر متاثرہ علاقوں میں شہری شدید مشکلات کا شکار ہیں۔

گرمی اور حبس کے باعث گھروں میں موجود بچوں، بزرگوں اور مریضوں کو سخت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جبکہ کاروباری سرگرمیاں بھی متاثر ہوئیں۔

مزید پڑھیں

پشاور سے کراچی تک نئی عوام ایکپریس ٹرین سروس شروع

شہریوں کا کہنا ہے کہ آندھی شروع ہوتے ہی بجلی غائب ہوگئی تاہم طوفان کے خاتمے کے کئی گھنٹے بعد بھی بجلی بحال نہ ہونا متعلقہ اداروں کی کارکردگی پر سوالیہ نشان ہے۔ متعدد علاقوں میں لوگ رات گئے تک بجلی کی واپسی کے منتظر رہے۔

دوسری جانب پیسکو حکام کے مطابق طوفانی موسم کے باعث بجلی کے ترسیلی نظام میں فنی خرابی پیدا ہوئی ہے جس کے باعث مختلف فیڈرز متاثر ہوئے۔

حکام کا کہنا ہے کہ تکنیکی ٹیمیں بحالی کے لیے کام کر رہی ہیں اور مرحلہ وار بجلی کی فراہمی بحال کی جا رہی ہے۔

متعلقہ مضامین

  • سندھ میں مٹی کے طوفان نے تباہی مچا دی، 46 گرڈ اسٹیشن بند، درجنوں شہر اندھیرے میں ڈوب گئے
  • پشاور سمیت مختلف اضلاع میں بجلی کا طویل بریک ڈاؤن، شہریوں کو مشکلات کا سامنا
  • شہباز شریف کا کامیاب انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سکیورٹی فورسز کو خراجِ تحسین
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • آزاد کشمیر کے ترقیاتی منصوبوں کیلئے 54 ارب روپے سے زائد فنڈز تجویز
  • وزیراعظم کا سرمایہ کاری اور صنعتی ترقی کیلئے اصلاحات تیز کرنے کا حکم
  • پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
  • برآمدات بڑھانے کیلئے مؤثر اقدامات ترجیح ہیں: وزیرِ اعظم شہباز شریف
  • گلگت بلتستان سی پیک کا مرکز ہے: نواز شریف
  • وزیراعظم کا بی ٹو بی کانفرنس کی پیشرفت کے ماہانہ جائزہ اجلاس کی خود صدارت کا فیصلہ