حالیہ سیاسی صورتحال مسئلہ کشمیر کیلیے سازگار ہے، آئی پی ایس فورم
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
251209-8-3
اسلام آباد (صباح نیوز) مئی 2025 کی پاک بھارت کشیدگی کے بعد کی جغرافیائی سیاسی صورتحال نے اسلام آباد کیلیے تعمیراتی سفارت کاری کے ذریعے کشمیر کے موقف کو آگے بڑھانے کا زیادہ سازگار ماحول پیدا کیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستان کے بڑھتے ہوئے علاقائی قد اور امریکا کے ساتھ مضبوط ہوتے تعلقات کو اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیر کے مسئلے پر عالمی توجہ کو دوبارہ اجاگر کرنے کیلیے بروئے کار لایا جانا چاہیے۔ یہ مشاہدات کشمیری ڈائیسپورا کے مختلف نمائندوں نے انسٹیٹیوٹ آف پالیسی اسٹڈیز میں منعقدہ نشست بعنوان ”کشمیر، موجودہ صورتحال اور مستقبل کے ممکنہ حالات”میں پیش کیے۔ ساتھ ہی کہا گیا ہے کہ پاکستان کو خطے میں بھارت کی بالادستی کی خواہشات اور بدلتی ہوئی اسٹریٹجک صف بندیوں کے حوالے سے بھی احتیاط برتنی چاہیے۔ ایسی سفارتی گنجائشیں اس لیے اہم ہیں کہ کشمیر کوئی سرحدی تنازع نہیں، بلکہ حقِ خودارادیت کی عدم فراہمی سے جڑا مسئلہ ہے۔ دہائیوں کی بھارتی جبر کے باوجود کشمیری عوام ایک باوقار اور منصفانہ حل کے حصول کے لیے اپنی غیرمتزلزل جدوجہد جاری رکھے ہوئے ہیں۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
جارحیت کی قیمت واشنگٹن کو بہت مہنگی پڑے گی، عباس عراقچی
تہران:ایران نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ممکنہ نئی فوجی کارروائی کے اشاروں پر سخت ردعمل دیتے ہوئے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی غیر ذمہ دارانہ عسکری اقدام کے نتائج امریکا کے لیے انتہائی مہنگے ثابت ہوں گے۔
ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر جاری اپنے بیان میں کہا کہ امریکی انتظامیہ کے بعض بااثر حلقے زمینی حقائق کو نظر انداز کر رہے ہیں اور ان کی توجہ خطے کی موجودہ صورتحال کے بجائے 2028 کے صدارتی انتخابات پر مرکوز دکھائی دیتی ہے۔
مزید پڑھیںمشرق وسطیٰ کی صورتحال کنٹرول سے باہر ہوتی جارہی ہے، یو این سیکریٹری جنرل
انہوں نے کہا کہ واشنگٹن میں موجود کچھ عناصر حقیقت پسندانہ انداز میں حالات کا جائزہ لینے کے بجائے ایسے فیصلوں کی حمایت کر رہے ہیں جو خطے میں مزید کشیدگی کو جنم دے سکتے ہیں۔
ان کے بقول اگر امریکہ نے جذباتی یا غیر دانشمندانہ جارحیت کا راستہ اختیار کیا تو اس کی سیاسی اور سفارتی قیمت صدر ٹرمپ کو خود ادا کرنا پڑ سکتی ہے۔
عباس عراقچی کا کہنا تھا کہ طاقت کے استعمال یا دھمکیوں سے مسائل حل نہیں ہوں گے بلکہ اس سے خطے کی صورتحال مزید پیچیدہ اور خطرناک ہو جائے گی۔