سعودی عرب کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر المناک ٹریفک حادثے میں جاں بحق
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
سعودی عرب کے معروف سوشل میڈیا انفلوئنسر ابو مرضع سڑک حادثے میں جاں بحق ہوگئے جب کہ دو دوست زندگی اور موت کی جنگ لڑ رہے ہیں۔
سعودی میڈیا کے مطابق سوشل میڈیا کنٹینٹ کریٹر عبداللہ بن مرضع العتیف القحطانی المعروف ابو مرضع ریاض کے شمالی علاقے ہیل کی مرکزی شاہراہ پر گامزن تھے۔
ان کے ساتھ گاڑی میں ان کے کزن اور ایک دوست بھی سوار تھے۔ جبہ روڈ پر ان کی گاڑی ایک ٹھیکے دار کمپنی کی روڈ مینٹیننس مشین سے ٹکرا گئی۔
حادثہ اتنا شدید تھا کہ گاڑی کا اگلا حصہ مکمل طور پر تباہ ہوگیا جس میں ابو مرضع کی موقع پر ہی موت واقع ہوگئی تھی۔
ریسکیو اداروں نے تینوں کو اسپتال منتقل کیا جہاں ان کے کزن کومے میں چلے گئے۔ ان کی حالت تاحال تشویشناک ہے جب کہ ان کے دوست کی حالت بھی نازک بتائی جا رہی ہے۔
سوشل میڈیا پر مداحوں نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ابو مرضع اور ان کے دوست اپنی روزمرہ کی مزاحیہ ویڈیوز کے ذریعے لوگوں کو خوشی اور مسکراہٹ بکھیرتے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سوشل میڈیا
پڑھیں:
سینیٹ قائمہ کمیٹی کا بڑا فیصلہ، پرنٹ میڈیا کے معاملات صرف پریس کونسل میں سنے جائیں گے
اسلام آباد: سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے اطلاعات و نشریات کے اجلاس میں پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں اور کالمز پر کارروائی کے اختیار کا معاملہ زیر بحث آیا، جہاں سینئر صحافی طارق محمود سمیر نے اپنا مؤقف پیش کرتے ہوئے اہم قانونی نکات اٹھائے۔
اجلاس کے دوران طارق محمود سمیر نے کہا کہ لاہور سے شائع ہونے والے روزنامہ نئی بات میں بیوروکریسی سے متعلق شائع ہونے والے ایک کالم کی بنیاد پر کالم نگار توفیق بٹ اور اخبار کے ایڈیٹر کو نیشنل سائبر کرائم انویسٹی گیشن ایجنسی (این سی سی آئی) کی جانب سے جاری کیا گیا نوٹس واپس لیا جانا چاہیے۔انہوں نے قائمہ کمیٹی کو تجویز دی کہ اس معاملے کو متعلقہ فورم یعنی پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے، کیونکہ قانون کے مطابق پرنٹ میڈیا سے متعلق شکایات اور تنازعات کا جائزہ لینے کا اختیار صرف پریس کونسل کے پاس ہے۔سینیٹ کی قائمہ کمیٹی نے سینئر صحافی طارق محمود سمیر کی اس تجویز سے متفقہ طور پر اتفاق کرتے ہوئے ہدایت جاری کی کہ مذکورہ معاملہ پریس کونسل آف پاکستان کو بھجوایا جائے تاکہ قانون کے مطابق کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔
کمیٹی نے اس موقع پر واضح کیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق کسی بھی قسم کے معاملات یا شکایات نہ تو پیمرا کے دائرہ اختیار میں آتی ہیں اور نہ ہی این سی سی آئی ایسے معاملات میں براہ راست نوٹس لینے کا مجاز ہے۔ کمیٹی کے مطابق اخبارات میں شائع ہونے والی خبروں، مضامین اور کالمز سے متعلق شکایات صرف پریس کونسل آف پاکستان کے سامنے ہی پیش کی جا سکتی ہیں۔اجلاس میں یہ بھی یاد دلایا گیا کہ پرنٹ میڈیا سے متعلق قانون سازی کے دوران وفاقی حکومت نے قومی اسمبلی میں واضح یقین دہانی کرائی تھی کہ اخبارات اور پرنٹ میڈیا کے معاملات کا واحد مجاز ادارہ پریس کونسل آف پاکستان ہوگا، اور اسی فورم پر شکایات درج کرائی جا سکیں گی۔
قائمہ کمیٹی نے اس مؤقف کو دہراتے ہوئے متعلقہ اداروں پر زور دیا کہ آئندہ بھی پرنٹ میڈیا سے متعلق تمام معاملات قانون کے مطابق صرف پریس کونسل آف پاکستان کے ذریعے ہی نمٹائے جائیں تاکہ آئینی اور قانونی دائرہ اختیار برقرار رہے۔