LUXEMBOURG:

امریکا اور برطانیہ سمیت دنیا کے ترقی یافتہ ممالک میں خواتین کی کمائی آج بھی مردوں سے زیادہ نہیں ہے حالانکہ گزشتہ نصف صدی کے دوران دنیا میں خواتین کا نوکری کرنے کا رجحان عام ہوگیا ہے اور خواتین کئی بڑی کمپنیوں کی سربراہی کر رہی ہیں کئی ایسے شعبوں میں بھی کام کر رہی ہیں جو روایتی طور پر خواتین کے لیے ناسازگار سمجھے جاتے ہیں۔

خواتین نے ہر شعبے میں اپنی صلاحیتوں کا بھرپور مظاہرہ کیا ہے اور کوئی ایسا شعبہ نہیں ہوگا جہاں خواتین موجود نہ ہوں لیکن خواتین کی کام کرنے کی شرح میں اضافے کے باوجود ان کی کمائی کی شرح میں کمی کی بدستور شکایت کی جاتی ہے اور یہ مسئلہ صرف ترقی پذیر ممالک میں نہیں بلکہ ترقی یافتہ ممالک میں بھی بات کی جاتی ہے کہ خواتین کی تنخواہیں مردوں کے مقابلے میں کم ہوتی ہیں۔

اس تفریق کو جینڈر پے گیپ کا کہا جاتا ہے اور اس کو خواتین اور مردوں کے درمیان انکم کی شرح میں تفریق سے جوڑا جاتا ہے اور انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن کے مطابق دنیا بھر میں خواتین مردوں کے مقابلے میں اوسطاً 20 فیصد کم کماتی ہیں۔

رپورٹ کے مطابق ان تمام مسائل کے باوجود دنیا میں ایک ایسا ملک بھی ہے جہاں صورت حال بالکل مختلف ہے اور خواتین کو مردوں کے مقابلے میں تنخواہ میں کمی کا سامنا نہیں ہے۔

غیرملکی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق یورپی ملک لیکسمبرگ دنیا کا واحد ملک ہے جہاں خواتین کی کمائی کی شرح مردوں سے زیادہ ہے جہاں خواتین کو روزگار کے شان دار مواقع ہیں۔

یورو اسٹیٹ کی حال ہی میں جینڈر پے گیپ پر جاری رپورٹ میں بتایا گیا  کہ لیکسمبرگ واحد ملک جہاں خواتین کی تنخواہیں مردوں سے زیادہ ہیں اور یہاں جینڈر پے گیپ 0.

7 فیصد ہے، بظاہر یہ فرق معمولی نظر آرہا ہے لیکن خواتین کو مردوں کے مقابلے میں زیادہ تنخواہ ملتی ہے۔

رپورٹ میں بتایا گیا کہ لیکسمبرگ میں خواتین کی کمائی کی زیادہ کی بنیادی وجہ وہاں کے صنفی بنیاد پر مضبوط اور غیرامتیازی پالیسیاں ہیں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد سرکاری شعبوں میں کام کر رہی  ہیں جہاں ان کو بہت اچھی تنخواہ دی جاتی ہے۔

لیکسمبرگ کو دنیا کے امیر ترین ممالک میں بھی شمار کیا جاتا ہے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مردوں کے مقابلے میں مردوں سے زیادہ جہاں خواتین میں خواتین خواتین کی ممالک میں کی کمائی کی شرح ہے اور

پڑھیں:

ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت

اسلام آباد:

 قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کے چیئرمین جاوید حنیف خان کا کہنا ہے کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز آئی ایم ایف کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں اور سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔

ایکسپریس کے مطابق قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے تجارت کا اجلاس چیئرمین جاوید حنیف خان کی زیر صدارت منعقد ہوا جس میں گزشتہ بیس برس کے دوران ملکی برآمدات میں خاطر خواہ اضافہ نہ ہونے کی وجوہات پر تفصیلی غور کیا گیا۔

جاوید حنیف خان نے کہا کہ سب کو معلوم ہے کہ ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا جبکہ کپیسٹی چارجز کی وجہ سے بجلی کی قیمتیں بہت زیادہ ہیں۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ ملک میں زیادہ تر ٹیکسز بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کی شرائط کے تحت عائد کیے جاتے ہیں۔

اجلاس میں رکن کمیٹی عالیہ کامران نے کہا کہ پاکستان کی صرف ایک فارماسیوٹیکل کمپنی کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیا گیا ہے۔ انہوں نے سوال اٹھایا کہ آلو جلد خراب ہو جاتے ہیں انہیں برآمد کرنے کے لیے کیا اقدامات کیے جا رہے ہیں؟ عالیہ کامران نے مزید کہا کہ ملک میں حلال فوڈ اتھارٹی تو موجود ہے لیکن تاحال اس کے قواعد و ضوابط مرتب نہیں کیے گئے جبکہ ایسا سازگار ماحول بھی پیدا نہیں ہو رہا کہ بیرونی سرمایہ کار پاکستان آ کر سرمایہ کاری کریں۔

قائمہ کمیٹی کے اجلاس میں لائف انشورنس نیشنلائزیشن ترمیمی بل 2026ء بھی زیر بحث آیا۔ اس موقع پر سیکریٹری تجارت جواد پال نے بتایا کہ کمپنی کا نام اسٹیٹ لائف انشورنس لمیٹڈ رکھا جائے گا۔ کمیٹی کے رکن مرزا اختیار بیگ نے استفسار کیا کہ آیا یہ کمپنی پبلک پرائیویٹ لمیٹڈ ہوگی یا سرکاری ادارہ ہوگا اس پر حکام نے وضاحت کی کہ اگر حکومت کے پاس 51 فیصد شیئرز ہوں گے تو کمپنی پبلک شمار ہوگی، بصورت دیگر اسے پرائیویٹ تصور کیا جائے گا۔

سیکریٹری تجارت جواد پال نے مزید بتایا کہ کمپنی وزارت کے ماتحت ہی رہے گی تاہم اس کا بورڈ آزاد ہوگا اس پر کمیٹی کے ایک رکن نے رائے دی کہ اگر بورڈ کو آزاد بنانا مقصود ہے تو اسے آزادانہ طور پر کام کرنے کی بھی اجازت ہونی چاہیے۔

چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ یہ کمپنی بہرحال ایس او ایز ایکٹ کے تحت قائم کی جائے گی۔

سیکریٹری تجارت نے واضح کیا کہ کسی پبلک لمیٹڈ کمپنی کے غیر محدود شیئرز نہیں ہو سکتے۔

اجلاس کے دوران صوبائی قوانین اور اثاثوں کی منتقلی کے معاملات پر بھی گفتگو ہوئی چیئرمین جاوید حنیف خان نے کہا کہ پراپرٹی یا اثاثوں کی منتقلی پر صوبائی قوانین نافذ ہوتے ہیں لہٰذا یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ اس بل کے ذریعے صوبائی قانون کو کیسے بائی پاس کیا جا سکتا ہے؟ انہوں نے خبردار کیا کہ اسٹیمپ ڈیوٹی یا متعلقہ فیسوں کے حوالے سے صوبے کسی بھی وقت سوال اٹھا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ صوبوں میں انشورنس کے تقریباً دو ٹریلین روپے کے اثاثے موجود ہیں اس لیے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ اتنے بڑے اثاثوں پر اسٹیمپ ڈیوٹی کی مالیت کتنی ہوگی؟چیئرمین کمیٹی نے اس بات پر زور دیا کہ کوئی بھی ایسا قانون نہیں بنایا جا سکتا جو صوبوں کے مفادات کو متاثر کرتا ہو۔

متعلقہ مضامین

  • جو زہر ہم ہوا میں بو رہے ہیں
  • خیبرپختونخوا میں تیز ہواؤں کے ساتھ بارش، مختلف واقعات میں 20 سے زیادہ افراد زخمی
  • ملکی برآمدات میں اضافہ نہیں ہو رہا، کپیسٹی چارجز کے سبب بجلی کی قیمتیں زیادہ ہیں، قائمہ کمیٹی تجارت
  • کراچی، محسن نقوی کا صفورا میں واقع نادرا میگا سینٹر کا اچانک دورہ
  • مینگو شیک کے لیے کون سا آم بہترین ہے؟ ذائقے اور کریمی ٹیکسچر کو بدل دینے والے راز
  • ماہرین فلکیات نے مقناطیسی میدان رکھنے والے سیاروں کا سراغ لگا لیا
  • جعلی دستاویزات پر بیرون ملک جانے کی کوشش ناکام، 2 خواتین آف لوڈ، ایجنٹس گرفتار
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں: بلاول بھٹو زرداری
  • دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری