بالی ووڈ فلم ’دھُرندھر‘ کی باکس آفس پر دھوم، 7 دنوں میں کتنے کروڑ کمائے؟
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
بالی ووڈ کی نئی ایکشن فلم ’دھُرندھر‘ نے ریلیز کے صرف 7 دنوں میں باکس آفس پر شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا ہے اور ₹207.25 کروڑ کی کمائی کے ساتھ بڑی ہندی فلموں کی ڈومیسٹک لائف ٹائم کلیکشن کو پیچھے چھوڑ دیا ہے۔
فلم 5 دسمبر کو ریلیز ہوئی تھی اور ابتدائی دنوں سے ہی ناظرین کے مثبت ردعمل اور سوشل میڈیا پر بڑھتی ہوئی مقبولیت کے باعث باکس آفس پر دھوم مچا رہی ہے۔ میکرز کے مطابق جمعرات کو فلم نے ₹29.
یہ بھی پڑھیں: دھُرندھر میں اکشے کھنہ کا کردار وائرل، ’انڈین بن کر فلاپ رہے پاکستانی کردار نے لیجنڈ بنادیا‘
دھُرندھر نے بڑی ہندی فلموں جیسے سکندر جس نے ₹109.83 کروڑ کمائے، راکی اور رانی کی پریم کہانی جو ₹153.55 کروڑ کمانے میں کامیاب ہوئی اور ریڈ ۲ کی ₹173.05 کروڑ کی مجموعی کمائی کو عبور کر لیا ہے۔
فلمساز مدھور بھنڈارکر نے کہا کہ دھُرندھر کی شاندار کامیابی کے بعد ممبئی فلم انڈسٹری میں مضبوط مواد، متنوع کاسٹنگ اور معیار پر مبنی کہانیوں کے حوالے سے ایک بڑا پیراڈائم شفٹ آئے گا۔ یہ فلم ہندی سینما کے ڈائنامکس کو دوبارہ متعین کرے گی اور کہانی، ٹیلنٹ اور عزم کو نئے معیار تک لے جائے گی۔
یہ بھی پڑھیں: فلم ’دھُرندھر‘ کے متنازع ڈائیلاگ پر چوہدری اسلم کی اہلیہ کا سخت ردعمل
فلم کی کاسٹ میں سنجے دت، رنویر سنگھ، ارجن رامپال اور اکشے کھنہ ہیں اور اس کی کہانی پاکستان کی خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی، انڈین ایجنٹس اور کراچی کی مشہور زمانہ لیاری گینگ وار کے چند حقیقی کرداروں کے گرد گھومتی ہے۔ فلم کا دوسرا حصہ 19 مارچ 2026 کو سینما گھروں میں ریلیز ہوگا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اکشے کھنہ بالی ووڈ چوہدری اسلم دھُرندھر دھُرندھر ریلیز دھُرندھر کمائی رحمان ڈکیت رنویر سنگھ سنجے دت
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: اکشے کھنہ بالی ووڈ چوہدری اسلم دھ رندھر ریلیز رحمان ڈکیت رنویر سنگھ
پڑھیں:
پی ایس ڈی پی میں ارکان پارلیمنٹ اور ترقیاتی منصوبوں کیلئے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز
اسلام آباد: پی ایس ڈی پی 2026-27 کے تحت وفاقی حکومت نے ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں سمیت مختلف شعبوں کے لیے اربوں روپے مختص کرنے کی تجویز پیش کر دی ہے۔ بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ترقیاتی منصوبوں کے ذریعے گورننس، ٹیکنالوجی، توانائی اور خواتین کی فلاح و بہبود کو خصوصی ترجیح دی جائے گی۔
دستاویزات کے مطابق پائیدار ترقیاتی اہداف (SDGs) اچیومنٹ پروگرام کے تحت ارکان پارلیمنٹ کے ترقیاتی منصوبوں کے لیے 70 ارب روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اس کے علاوہ کابینہ ڈویژن کے مختلف ترقیاتی منصوبوں کے لیے 2 ارب روپے جبکہ اسٹیبلشمنٹ ڈویژن کے منصوبوں کے لیے ایک ارب 70 کروڑ روپے رکھنے کی تجویز دی گئی ہے۔
پی ایس ڈی پی 2026-27 میں پارلیمنٹ لاجز کی اپ گریڈیشن کے لیے 5 کروڑ 60 لاکھ روپے مختص کرنے کی سفارش کی گئی ہے۔ اسی طرح نیشنل آرکائیوز آف پاکستان کی بحالی اور جدید خطوط پر استوار کرنے کے منصوبے کے لیے 5 ارب 50 کروڑ روپے تجویز کیے گئے ہیں۔
توانائی کے شعبے میں سرکاری عمارتوں میں شمسی توانائی کے نظام کی بہتری اور توانائی بچت اقدامات کے لیے 19 کروڑ 40 لاکھ روپے رکھنے کی سفارش کی گئی ہے۔
وفاقی دارالحکومت میں جدید ٹیکنالوجی حب کے قیام کے لیے اسلام آباد ٹیکنوپولس منصوبے پر ایک ارب 58 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا امکان ہے، جبکہ فیڈرل پبلک سروس کمیشن (FPSC) کے امتحانی نظام کو ڈیجیٹل بنانے کے لیے 70 کروڑ روپے سے زائد فنڈز مختص کرنے کی تجویز دی گئی ہے۔
خواتین کی فلاح و بہبود کے منصوبوں کے تحت اسلام آباد میں ورکنگ ویمن ہاسٹل کے قیام کے لیے 16 کروڑ 70 لاکھ روپے جبکہ خواتین افسران کے لیے رہائشی سہولیات کی فراہمی کے منصوبے پر 82 کروڑ روپے سے زائد خرچ کیے جانے کا تخمینہ لگایا گیا ہے۔
بجٹ دستاویزات کے مطابق آئندہ مالی سال میں ڈیجیٹل گورننس، سرکاری اداروں کی استعداد کار بڑھانے، توانائی بچت اور جدید ٹیکنالوجی کے فروغ پر خصوصی توجہ دی جائے گی۔