پاکستان مخالف پروپیگنڈا ’دھریندر‘ کو مہنگا پڑ گیا، کئی ممالک میں پابندی کا سامنا
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
حال ہی میں ریلیز ہونے والی بالی ووڈ کے معروف اداکار رنویر سنگھ کی فلم دھریندر کو بڑا دھچکا لگ گیا۔
غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق پاکستان مخالف پروپیگنڈے کے سبب فلم دھریندر کو بحرین، کویت، عمان، قطر، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات (یو اے ای) میں پابندی کا سامنا ہے۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق ماضی میں بھی ایسی نوعیت کی فلموں پر خلیجی تعاون کونسل (جی سی سی) کے ممالک میں پابندی عائد کی گئی، تاہم دھریندر کی ٹیم نے اس کے باوجود پاکستان مخالف فلم اس خطے میں ریلیز کرنے کی اجازت طلب کی۔
تمام ممالک نے فلم کے متنازع موضوع کو بنیاد بنا کر فلم ریلیز کی منظوری نہیں دی۔ یہی وجہ ہے کہ دھریندر کسی بھی خلیجی ملک میں ریلیز نہیں ہو سکی۔
واضح رہے کہ فلم نے 5 دسمبر کو بھارت اور دیگر بیرونِ ممالک میں ریلیز کی گئی۔ اب تک فلم نے باکس آفس پر 200 کروڑ روپے کا کاروبار کیا ہے۔
اس فلم کی مرکزی کاسٹ میں رنویر سنگھ کے علاوہ اکشے کھنہ، سنجے دت، آر مادھون، ارجن رامپال، سارہ ارجن اور راکش بیدی شامل ہیں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: میں ریلیز
پڑھیں:
میٹھے پر سجاوٹ کیلئے چیونٹیوں کا استعمال ریسٹورنٹ مالک کو مہنگا پڑگیا
جنوبی کوریا(southkorea) میں ایک معروف ریسٹورنٹ کے مالک کے خلاف میٹھے پکوانوں کی سجاوٹ کے لیے چیونٹیاں استعمال کرنے پر قانونی کارروائی کی جا رہی ہے۔
مقامی میڈیا رپورٹس کے مطابق جنوبی کورین استغاثہ نے عدالت سے ریسٹورنٹ کے مالک کو ایک سال قید اور تقریباً 13 ہزار 510 امریکی ڈالر جرمانے کی سزا دینے کی استدعا کی ہے۔
ریسٹورنٹ مالک نے دورانِ تفتیش اعتراف کیا کہ اس نے سوئٹ ڈشز کی ٹاپنگ کے لیے محدود پیمانے پر چیونٹیاں استعمال کیں، اس حوالے سے گاہکوں کو پہلے ہی آگاہ کر دیا جاتا تھا۔
مزیدپڑھیں:ورلڈ کپ فاتح ہسپانوی فٹبالرز کو وزن کے برابر ٹماٹر انعام میں مل گئے
تفتیشی حکام کے مطابق گزشتہ چار برسوں کے دوران امریکا اور تھائی لینڈ سے درآمد کی گئی تقریباً 49 ہزار چیونٹیاں مختلف پکوانوں، خصوصاً میٹھے ڈشز، میں استعمال کی گئیں۔
رپورٹس کے مطابق جنوبی کوریا کے موجودہ قوانین کے تحت چیونٹیاں ان 10 کیڑوں میں شامل نہیں ہیں جنہیں انسانی خوراک کے طور پر استعمال کی اجازت حاصل ہے، اسی بنیاد پر ریسٹورنٹ مالک کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا۔
عدالت اس مقدمے کا فیصلہ 2 ستمبر کو سنائے گی، جس کے بعد یہ واضح ہوگا کہ ریسٹورنٹ مالک کو سزا دی جاتی ہے یا نہیں۔