’’ ادھر بھی توجہ دیں‘‘
اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT
بارسلونا سے میڈرڈ ریل کے سفر کے دوران مناظر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب ایک پاکستانی صحافی دوست تھا۔ حال احوال کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا ایک قریبی رشتہ دار پرتگال میں مقیم ہے، جس نے ڈیڑھ سال قبل آرٹیکل 88 کے تحت عارضی رہائشی اجازت نامے کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔
اب اس کے بائیومیٹرکس ہونے ہیں، جس کے بعد اسے پرتگال کا عارضی رہائشی کارڈ مل جائے گا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا پاسپورٹ کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور جیسا کہ ہمارا سرکاری کلچر ہے، اس کے اثرات لزبن میں ہمارے سفارتی عملے پر نظر آتے ہیں، شایداسی لیے ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود وہ بیچارہ پاسپورٹ کے لیے درخواست تک جمع نہیں کرا سکا۔
پڑھنے والوں کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ پرتگال میں اس آرٹیکل کے تحت یہ قانون موجود تھا کہ اگر کوئی شخص وزٹ ویزے پر یا غیر قانونی طریقے سے پرتگال پہنچ جائے، تو نوکری کا ثبوت اور ٹیکسز کی ادائیگی کے ذریعے قانونی رہائش حاصل کر سکتا تھا۔
پانچ سال مکمل ہونے پر مستقل ریذیڈنسی اور پاسپورٹ کا حصول بھی ممکن تھا۔ میڈرڈ پہنچ کر جب میں نے متعلقہ شخص سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایمبیسی جارہا ہے لیکن ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی اعتراض لگ جاتا ہے، یوں نامراد ہی واپس آنا پڑتا ہے۔
میں نے پاکستان ایمبیسی پرتگال کی ویب سائٹ دیکھی تو حیرت ہوئی کہ ہر عہدے کے آگے ایک ہی فون نمبر درج تھا۔ پریس اتاشی تعینات کرنا شاید ضروری ہی نہیں سمجھا گیا باقی آپ خود سمجھدار ہیں ، بہرحال پھر جگاڑ کی تلاش شروع کی ۔
بالآخر ایک بااثر پاکستانی کے ذریعے رابطہ ہوا اور چند دنوں میں اس بیچارے کا پاسپورٹ نہ صرف اپلائی ہوگیا بلکہ حاصل بھی کر لیا گیا۔ مگر اس دوران مجھے جو معلومات ملیں اور تجربات حاصل ہوئے، وہ انتہائی حیران کن ہیں۔ یہ سوچ کر افسوس ہوا کہ آخر ہماری حکومت کی نظر اس جانب اب تک کیوں نہیں گئی۔
دوستوں اور درجنوں متاثرین کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یورپ میں قانونی کاغذات بنوانا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ کئی پاکستانی دس دس سال سے اس انتظار میں ہوتے ہیں۔ وزٹ ویزے پر آنے والے بھی پرتگال اور اسپین پہنچ کر رجسٹریشن کرواتے اور قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی لوگ اصل میں ’’ٹارگٹ‘‘ بنتے ہیں۔
پرتگال نے جون 2024 میں آرٹیکل 88 ختم کر دیا، مگر اس عرصے میں تقریباً دس ہزار پاکستانی رہائشی پرمٹ حاصل کر چکے ہیں، جب کہ ہزاروں ابھی لائن میں ہیں۔ مگر ان بے بس پاکستانیوں کو جس اذیت اور ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ شاید کسی کو نہیں۔
پاسپورٹ بنوانے والا اگر پرانا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ساتھ لائے تو اس سے سوالات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اگر کسی شخص کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ پہلے ہم ویریفائی کریں گے کہ آپ یورپ کیسے پہنچے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونی طور پر ویریفائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔
اگر کوئی غیر قانونی طور پر پہنچا ہے، تو بھی قانون کے مطابق پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ وزٹ ویزے پر آنے والوں سے بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ویزہ کیسے لگوایا۔
سسٹم نہیں آرہا ، لنک ڈاؤن ہے۔ دوبارہ آئیں، عام باتیں ہیں، ادھر اگر کوئی پاکستانی لزبن کے علاوہ کسی دوسرے شہر جیسے پورتو یا فارو سے پاسپورٹ بنوانے آئے تو اسے رات گزارنی پڑتی ہے، تین وقت کھانا کھانا اور نوکری سے غیر حاضری بھی ہوتی ہے۔
پاسپورٹ بننے کے بعد اسے وصول کرنا بھی آسان نہیں۔ ضروری ہے کہ تمام درخواست دہندگان کو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق خدمات فراہم کی جائیں، بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان کا کام جلد ازجلد کردیا جائے۔
پرتگال کے علاوہ اسپین میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ میڈرڈ اور بارسلونا میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ا سپین میں قانونی یا غیر قانونی مقیم پاکستانی کچھ شرائط کے ساتھ یہاں کے ڈاکومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔
یہی مجبوری سفارتخانوں کے بار بار چکر لگانے پر مجبور کرتی ہے۔اگر ان کا کام جلد ہوجائے تو ان کے مصائب میں کمی ہوسکتی ہے کیونکہ انھیں قانونی کاغذات مل جائیں گے۔
اگر وزیر داخلہ صرف پرتگال میں امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو زیادہ متحرک کردیں تو بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔یہاں مقیم پاکستانی تو کہتے ہیں کہ اگر کسی پاکستانی نے سہولت کے ساتھ پاسپورٹ بنوالیا ہے تو سمجھ لیں اس کے ساتھ والدین کی دعائیں ہیں۔
بیرون ملک مقیم پاکستانی محسن نقوی سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں کیونکہ وہ واقعی سسٹم کو درست کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔پاسپورٹ کے لیے آنے والے درخواست دہندگان سے فیڈ بیک لیا جائے کہ انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
پاسپورٹ جو واک اِن بنوانا چاہتا ہے، اسے کے لیے طریقہ کار آسان بنایا جائے۔ نیا پاسپورٹ درخواست دہندہ کو کورئیر کمپنیوں کے ذریعے شفاف اور محفوظ طریقے سے پہنچایا جائے، تاکہ لوگوں کو سفارت خانوں کے چکر لگانے کی کوفت نہ ہو ۔ایمبیسی میں اپائنٹمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ ہاتھ سے لکھے ٹوکن سے نجات مل سکے۔
وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو چاہیے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے لیے سفارت خانوں پر خصوصی توجہ دیں ، سفارت خانوں کی ویب سائٹس کو مزید بہتر بنایا جائے اور ایمرجنسی رابطہ نمبر سب سے نمایاں ہو۔
جہاں پریس اتاشی موجود نہیں، وہاں فوری تعیناتی کی جائے۔ خدمات کے معیار کومزید بہتر بنایا جائے۔ جو لوگ برسوں سے بیرون ملک اہم عہدوں پر بیٹھے ہیں، انھیں واپس بلا کر سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔
یہ وہ مسائل ہیں جو بیرون ملک ہر پاکستانی کی زبان پر ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ان کی آواز سنے اور اصلاحِ احوال کے عملی اقدامات کرے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: مقیم پاکستانی بیرون ملک جاتا ہے کے لیے
پڑھیں:
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر
پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا، فیلڈ مارشل سید عاصم منیر WhatsAppFacebookX 0 23 July, 2026 سب نیوز
راولپنڈی (آئی پی ایس )فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا ہے کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔راولپنڈی میں جنرل ہیڈ کوارٹرز میں 20ویں قومی ورکشاپ کے دوران بلوچستان سے تعلق رکھنے والے شرکا سے گفتگو کرتے ہوئے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے کہا کہ سیکیورٹی فورسز کی کوششیں اور عوامی حمایت بلوچستان میں دیرپا امن کے قیام کا باعث بنیں گی، جبکہ امن و استحکام کے لیے فورسز اور عوام کا تعاون ناگزیر ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل نے کہا کہ فتنہ الخوارج اور فتنہ الہندوستان کے خلاف کارروائیاں جاری رہیں گی، انہوں نے دہشتگردی کے بنیادی ڈھانچے کے خاتمے اور پاکستان کے خلاف سرگرم عناصر کے مکمل سدباب کے عزم کا اعادہ کیا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو درپیش خطرات کا باعث بننے والے دہشتگردوں اور ان کے سہولتکاروں کا ہر قیمت پر خاتمہ کیا جائے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ غیر ملکی سرپرستی میں سرگرم پراکسیز بلوچستان کے امن کو خراب کرنے کی کوشش کر رہی ہیں، تاہم مسلح افواج عوامی حمایت کے ساتھ دشمن کے تمام مذموم عزائم ناکام بنائیں گی۔ فیلڈ مارشل نے دہشتگردی کے خلاف جاری اقدامات اور قومی سلامتی کے لیے اجتماعی کوششوں کی اہمیت پر زور دیا۔ اس موقع پر ورکشاپ کے شرکا نے پاکستان کے استحکام، ترقی اور خودمختاری کے لیے اپنے مشترکہ عزم کا اعادہ کیا۔
روزانہ مستند اور خصوصی خبریں حاصل کرنے کے لیے ڈیلی سب نیوز "آفیشل واٹس ایپ چینل" کو فالو کریں۔
WhatsAppFacebookX پچھلی خبرصدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ اگلی خبرپاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ پاکستان میں اسمارٹ فون کا استعمال 62 سے بڑھ کر 72 فیصد تک پہنچ گیا، وزیراعظم کو بریفنگ صدر ٹرمپ کی پالیسی آنکھ کے بدلے سرکی ہے، ایران کو ہر گزرتی رات کیساتھ بھاری قیمت چکانا ہوگی: مارکو روبیو کا انتباہ ٹرمپ نے سعودی عرب سے سول جوہری معاہدے کو معاہدہ ابراہیمی میں شمولیت سے مشروط کردیا آزاد کشمیر کے شہر میرپور میں 45 روز بعد موبائل فون اور انٹرنیٹ سروس بحال ہونا شروع امریکا کی جانب سے ایران پر بمباری کیلئے برطانوی ائیربیس کا استعمال، پاسداران انقلاب کی برطانیہ کو سخت ردعمل کی دھمکی جدہ قونصل خانے میں اہم انتظامی تبدیلی، فرینہ ارشد نے ڈپٹی قونصل جنرل کا عہدہ سنبھال لیاCopyright © 2026, All Rights Reserved
رابطہ کریں ہماری ٹیم