Express News:
2026-06-02@22:59:00 GMT

’’ ادھر بھی توجہ دیں‘‘

اشاعت کی تاریخ: 14th, December 2025 GMT

بارسلونا سے میڈرڈ ریل کے سفر کے دوران مناظر کی خوبصورتی سے لطف اندوز ہو رہا تھا کہ اچانک موبائل کی گھنٹی بجی۔ دوسری جانب ایک پاکستانی صحافی دوست تھا۔ حال احوال کے بعد اس نے بتایا کہ اس کا ایک قریبی رشتہ دار پرتگال میں مقیم ہے، جس نے ڈیڑھ سال قبل آرٹیکل 88 کے تحت عارضی رہائشی اجازت نامے کے لیے درخواست جمع کروائی تھی۔

اب اس کے بائیومیٹرکس ہونے ہیں، جس کے بعد اسے پرتگال کا عارضی رہائشی کارڈ مل جائے گا۔ مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کا پاسپورٹ کی معیاد ختم ہوچکی ہے اور جیسا کہ ہمارا سرکاری کلچر ہے، اس کے اثرات لزبن میں ہمارے سفارتی عملے پر نظر آتے ہیں، شایداسی لیے ایک ہفتہ گزرنے کے باوجود وہ بیچارہ پاسپورٹ کے لیے درخواست تک جمع نہیں کرا سکا۔

پڑھنے والوں کی معلومات کے لیے بتاتا چلوں کہ پرتگال میں اس آرٹیکل کے تحت یہ قانون موجود تھا کہ اگر کوئی شخص وزٹ ویزے پر یا غیر قانونی طریقے سے پرتگال پہنچ جائے، تو نوکری کا ثبوت اور ٹیکسز کی ادائیگی کے ذریعے قانونی رہائش حاصل کر سکتا تھا۔

پانچ سال مکمل ہونے پر مستقل ریذیڈنسی اور پاسپورٹ کا حصول بھی ممکن تھا۔ میڈرڈ پہنچ کر جب میں نے متعلقہ شخص سے رابطہ کیا تو اس نے بتایا کہ وہ گزشتہ ایک ہفتے سے ایمبیسی جارہا ہے لیکن ہر مرتبہ کوئی نہ کوئی اعتراض لگ جاتا ہے، یوں نامراد ہی واپس آنا پڑتا ہے۔

میں نے پاکستان ایمبیسی پرتگال کی ویب سائٹ دیکھی تو حیرت ہوئی کہ ہر عہدے کے آگے ایک ہی فون نمبر درج تھا۔ پریس اتاشی تعینات کرنا شاید ضروری ہی نہیں سمجھا گیا باقی آپ خود سمجھدار ہیں ، بہرحال پھر جگاڑ کی تلاش شروع کی ۔

بالآخر ایک بااثر پاکستانی کے ذریعے رابطہ ہوا اور چند دنوں میں اس بیچارے کا پاسپورٹ نہ صرف اپلائی ہوگیا بلکہ حاصل بھی کر لیا گیا۔ مگر اس دوران مجھے جو معلومات ملیں اور تجربات حاصل ہوئے، وہ انتہائی حیران کن ہیں۔ یہ سوچ کر افسوس ہوا کہ آخر ہماری حکومت کی نظر اس جانب اب تک کیوں نہیں گئی۔

دوستوں اور درجنوں متاثرین کے مطابق، بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کے لیے یورپ میں قانونی کاغذات بنوانا اہم مرحلہ ہوتا ہے۔ کئی پاکستانی دس دس سال سے اس انتظار میں ہوتے ہیں۔ وزٹ ویزے پر آنے والے بھی پرتگال اور اسپین پہنچ کر رجسٹریشن کرواتے اور قانونی حیثیت حاصل کرنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہی لوگ اصل میں ’’ٹارگٹ‘‘ بنتے ہیں۔

پرتگال نے جون 2024 میں آرٹیکل 88 ختم کر دیا، مگر اس عرصے میں تقریباً دس ہزار پاکستانی رہائشی پرمٹ حاصل کر چکے ہیں، جب کہ ہزاروں ابھی لائن میں ہیں۔ مگر ان بے بس پاکستانیوں کو جس اذیت اور ذہنی دباؤ سے گزرنا پڑتا ہے، اس کا اندازہ شاید کسی کو نہیں۔

پاسپورٹ بنوانے والا اگر پرانا پاسپورٹ اور شناختی کارڈ ساتھ لائے تو اس سے سوالات کا ایک سلسلہ شروع ہو جاتا ہے۔اگر کسی شخص کا پاسپورٹ گم ہو جائے تو کہا جاتا ہے کہ پہلے ہم ویریفائی کریں گے کہ آپ یورپ کیسے پہنچے۔ حقیقت یہ ہے کہ قانونی طور پر ویریفائی کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

اگر کوئی غیر قانونی طور پر پہنچا ہے، تو بھی قانون کے مطابق پاسپورٹ جاری کرنے سے انکار نہیں کیا جا سکتا۔ حتیٰ کہ وزٹ ویزے پر آنے والوں سے بھی یہ سوال کیا جاتا ہے کہ ویزہ کیسے لگوایا۔

سسٹم نہیں آرہا ، لنک ڈاؤن ہے۔ دوبارہ آئیں، عام باتیں ہیں، ادھر اگر کوئی پاکستانی لزبن کے علاوہ کسی دوسرے شہر جیسے پورتو یا فارو سے پاسپورٹ بنوانے آئے تو اسے رات گزارنی پڑتی ہے، تین وقت کھانا کھانا اور نوکری سے غیر حاضری بھی ہوتی ہے۔

پاسپورٹ بننے کے بعد اسے وصول کرنا بھی آسان نہیں۔ ضروری ہے کہ تمام درخواست دہندگان کو شفاف اور قانونی طریقہ کار کے مطابق خدمات فراہم کی جائیں، بلکہ کوشش ہونی چاہیے کہ ان کا کام جلد ازجلد کردیا جائے۔

پرتگال کے علاوہ اسپین میں بھی صورتحال مختلف نہیں۔ میڈرڈ اور بارسلونا میں ایک لاکھ سے زائد پاکستانی مقیم ہیں۔ا سپین میں قانونی یا غیر قانونی مقیم پاکستانی کچھ شرائط کے ساتھ یہاں کے ڈاکومنٹ حاصل کر سکتے ہیں۔

یہی مجبوری سفارتخانوں کے بار بار چکر لگانے پر مجبور کرتی ہے۔اگر ان کا کام جلد ہوجائے تو ان کے مصائب میں کمی ہوسکتی ہے کیونکہ انھیں قانونی کاغذات مل جائیں گے۔

اگر وزیر داخلہ صرف پرتگال میں امیگریشن اینڈ پاسپورٹ ڈیپارٹمنٹ کو زیادہ متحرک کردیں تو بیرون ملک کام کرنے والے پاکستانیوں کو بہت فائدہ ہوگا۔یہاں مقیم پاکستانی تو کہتے ہیں کہ اگر کسی پاکستانی نے سہولت کے ساتھ پاسپورٹ بنوالیا ہے تو سمجھ لیں اس کے ساتھ والدین کی دعائیں ہیں۔

بیرون ملک مقیم پاکستانی محسن نقوی سے بڑی امیدیں رکھتے ہیں کیونکہ وہ واقعی سسٹم کو درست کرنے کی مسلسل کوشش کر رہے ہیں۔پاسپورٹ کے لیے آنے والے درخواست دہندگان سے فیڈ بیک لیا جائے کہ انھیں کس قسم کی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔

پاسپورٹ جو واک اِن بنوانا چاہتا ہے، اسے کے لیے طریقہ کار آسان بنایا جائے۔ نیا پاسپورٹ درخواست دہندہ کو کورئیر کمپنیوں کے ذریعے شفاف اور محفوظ طریقے سے پہنچایا جائے، تاکہ لوگوں کو سفارت خانوں کے چکر لگانے کی کوفت نہ ہو ۔ایمبیسی میں اپائنٹمنٹ سسٹم نافذ کیا جائے تاکہ ہاتھ سے لکھے ٹوکن سے نجات مل سکے۔

وزیر خارجہ اسحاق ڈار کو چاہیے کہ بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو آسانیاں فراہم کرنے کے لیے سفارت خانوں پر خصوصی توجہ دیں ، سفارت خانوں کی ویب سائٹس کو مزید بہتر بنایا جائے اور ایمرجنسی رابطہ نمبر سب سے نمایاں ہو۔

جہاں پریس اتاشی موجود نہیں، وہاں فوری تعیناتی کی جائے۔ خدمات کے معیار کومزید بہتر بنایا جائے۔ جو لوگ برسوں سے بیرون ملک اہم عہدوں پر بیٹھے ہیں، انھیں واپس بلا کر سفارشی کلچر کا خاتمہ کیا جائے۔

یہ وہ مسائل ہیں جو بیرون ملک ہر پاکستانی کی زبان پر ہیں۔ وقت آ گیا ہے کہ حکومت ان کی آواز سنے اور اصلاحِ احوال کے عملی اقدامات کرے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: مقیم پاکستانی بیرون ملک جاتا ہے کے لیے

پڑھیں:

فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے

بالی ووڈ سپر اسٹار سلمان خان نے ایک آنے والی فلم ’کالا ہرن‘ کے خلاف قانونی کارروائی کا آغاز کرتے ہوئے فلم سازوں کو نوٹس جاری کر دیا۔

یہ بھی پڑھیں: میں اکیلا نہیں ہوں، سلمان خان کی انسٹا پوسٹ نے ماں سمیت لاکھوں مداحوں کو بے چین کردیا

فلم کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ اس کی کہانی سنہ 1998 کے مشہور کالا ہرن شکار کیس سے متاثر ہے جس میں سلمان خان کا نام سامنے آیا تھا۔

بھارتی میڈیا رپورٹس کے مطابق سلمان خان کی قانونی ٹیم نے کاسٹنگ ڈائریکٹر اکشے پانڈے کو نوٹس بھجوایا ہے جس میں فلم کو اداکار کی شخصیت اور ساکھ کے خلاف قرار دیتے ہوئے اس کی تشہیری مہم اور ریلیز فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔

قانونی نوٹس میں مؤقف اختیار کیا گیا ہے کہ کالا ہرن کیس اب بھی راجستھان ہائیکورٹ میں زیر سماعت ہے جبکہ فلم مبینہ طور پر سلمان خان کی شخصیت اور شہرت کو نقصان پہنچانے کی کوشش ہے۔

سلمان خان کے وکلا کا کہنا ہے کہ ان کے مؤکل نے نہ تو اپنی شخصیت، نام یا اس واقعے سے متعلق کسی مواد کے استعمال کی اجازت دی ہے اور نہ ہی اس پر رضامندی ظاہر کی ہے۔

مزید پڑھیے: سلمان خان کی نقل کیوں کی؟ رجب بٹ نے اپنی اس حرکت کی وجہ بتادی

دوسری جانب فلم کے پروڈیوسر امیت جانی نے قانونی نوٹس کو سوشل میڈیا پر شیئر کرتے ہوئے سلمان خان کے مؤقف کو مسترد کر دیا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ قانونی نوٹس کا مقصد صرف فلم سے وابستہ افراد کو دباؤ میں لانا ہے۔

امیت جانی نے فیس بک پر لکھا کہ سلمان خان کالا ہرن سے وابستہ لوگوں کو قانونی نوٹس کے ذریعے دھمکا رہے ہیں لیکن یہ صرف خوف پیدا کرنے کی کوشش ہے تاکہ لوگ دباؤ میں آ جائیں۔

فلم کے حوالے سے بحث اس وقت مزید تیز ہوگئی جب اس کا پہلا پوسٹر جاری کیا گیا۔ پوسٹر میں ایک شخص کو بندوق تھامے دکھایا گیا ہے جس نے فیروزی رنگ کا وہی بریسلٹ پہن رکھا ہے جو سلمان خان کی پہچان سمجھا جاتا ہے۔

مزید پڑھیں: سلمان خان کے 42 سال پرانے قریبی دوست کا انتقال، اداکار کا سوشل میڈیا پر جذباتی پیغام

فلم سازوں کے مطابق ’کالا ہرن: دی بیٹل فار لیگسی‘ حقیقی قانونی تنازعات اور ایکشن پر مبنی کہانی پیش کرے گی جبکہ اس کا ٹیزر 20 جون کو جاری کیے جانے کا اعلان کیا گیا ہے۔

کالا ہرن کیس کیا تھا؟

سنہ1998 میں فلم ’ہم ساتھ ساتھ ہیں‘ کی شوٹنگ کے دوران سلمان خان پر راجستھان کے ضلع جودھ پور کے قریب کنکانی گاؤں میں 2 کالے ہرن شکار کرنے کا الزام عائد کیا گیا تھا۔

اس مقدمے میں سلمان خان کے ساتھ اداکار سیف علی خان، سونالی بیندرے، نیلم اور تبو کے نام بھی شامل تھے تاہم بعد میں دیگر تمام فنکاروں کو بری کر دیا گیا تھا۔

اپریل 2018 میں جودھ پور کی ایک عدالت نے سلمان خان کو مجرم قرار دیتے ہوئے 5 سال قید کی سزا سنائی تھی تاہم بعد ازاں انہیں ضمانت مل گئی۔

یہ بھی پڑھیے: رنویر سنگھ کے بعدسلمان خان کے بہنوئی کو بھی دھمکی آمیز پیغام موصول

سنہ 2022 میں راجستھان ہائیکورٹ نے اس کیس سے متعلق تمام مقدمات اپنے دائرہ اختیار میں لے لیے تھے جہاں اب بھی کارروائی جاری ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

بالی ووڈ سلمان خان سلمان خان اور کالا ہرن سلمان خان اور مقدمہ فلم کالا ہرن کالا ہرن

متعلقہ مضامین

  • ہمارا ایک مطالبہ ہے بانی کو شفا انٹرنیشنل منتقل کیا جائے، سہیل آفریدی
  • بانی سے ملاقات تک خیبرپختونخوا کا بجٹ پاس نہ کیا جائے، علیمہ خان کی سہیل آفریدی کو تنبیہ
  • سانحہ اٹلی، جاں بحق افراد کی شہریت کی تصدیق تاحال نہیں ہو سکی، دفتر خارجہ
  • بلوچستان کے نام پر علیحدگی پسند سیاست کرنے کی اجازت نہیں دی جائے گی، جمال رئیسانی
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کے لیے ویزا فری سفر کا نیا معاہدہ
  • پاکستان اور اٹلی کے درمیان سفارتی پاسپورٹ پر ویزے کی شرط ختم
  • وفاقی بجٹ5جون کو پیش نہیں کیا جائے گا
  • پاکستان اور اٹلی کے سفارتی پاسپورٹ ہولڈرز کیلئے ویزا ختم کرنے کا معاہدہ
  • فلم ’کالا ہرن‘ پر سلمان خان کا قانونی نوٹس، پروڈیوسر نے الزامات مسترد کر دیے
  • ٹک ٹاکر حکیم بابر کیس میں ملزمان کا موقف بھی سامنے آگیا