سپریم کورٹ: زیادتی کیس کے ملزم کی سزا 20 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی گئی
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
—فائل فوٹو
سپریم کورٹ آف پاکستان نے زیادتی کیس میں ملزم کی سزا 20 سال سے کم کر کے 5 سال کر دی۔
عدالتِ عظمیٰ نے ملزم حسن خان کو دفعہ 496 بی کے تحت مجرم قرار دیا۔
جسٹس شہزاد احمد نے اکثریتی فیصلے میں لکھا کہ واقعے کا مقدمہ 7 ماہ کی تاخیر سے درج کیا گیا تھا، متاثرہ خاتون نے واقعے کے وقت مزاحمت نہیں کی، طبی معائنے میں تشدد یا مزاحمت کے نشانات سامنے نہیں آئے، کیس زبردستی زیادتی کا نہیں بنتا۔
جسٹس صلاح الدین نے اکثریتی فیصلے سے اختلاف کیا، اپنے اختلافی نوٹ میں جسٹس صلاح الدین نے لکھا کہ متاثرہ لڑکی کی عمر تقریباً 24 سال تھی، واقعے کے نتیجے میں بچہ پیدا ہوا، جس کی تصدیق ڈی این اے رپورٹ سے ہوتی ہے، جنسی جرائم کے مقدمات میں تاخیر غیر معمولی بات نہیں، معاشرتی دباؤ اور خوف کے باعث متاثرہ خاتون رپورٹ درج کروانے میں تاخیر کر سکتی ہے، اسلحے کی موجودگی میں مزاحمت نہ ہونا فطری عمل ہو سکتا ہے، 7 ماہ بعد طبی معائنہ مزاحمت کے نشانات ظاہر نہیں کر سکتا، زیادتی ثابت نہ ہونے سےخود بخود رضا مندی ثابت نہیں ہوتی، صرف سزا کم کرنے کے لیے جرم کی دفعہ تبدیل نہیں کی جا سکتی۔
خیال رہے کہ ٹرائل کورٹ نے ملزم کو 20 سال قیدِ بامشقت کی سزا سنائی تھی، جبکہ لاہور ہائی کورٹ نے ٹرائل کورٹ کا فیصلہ برقرار رکھا تھا۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jang News
پڑھیں:
کراچی، نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنا ڈالا، والد کی مدعیت میں مقدمہ درج
کراچی:شہر قائد میں گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو گھر میں گھس کر اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ والد کی مدعیت میں درج کرلیا۔
اس حوالے سے مدعی مقدمہ جاوید اقبال نے پولیس کو بیان دیا ہے کہ بہادر گوٹھ میں کارپٹ کی دکان پر کام کرتا ہوں جبکہ اہلیہ گھریلو ملازمہ ہے۔
23 جولائی کو میں اور اہلیہ صبح 9 بجے اپنے اپنے کام پر چلے گئے جبکہ گھر پر 18 سالہ بیٹی اکیلی تھی۔
مدعی کے مطابق صبح سوا نو بجے 2 لڑکے ہمارے گھر میں زبردستی داخل ہوئے جو کہ شلوار قمیض پہنے ہوئے تھے جبکہ سامنے آنے پر میری بیٹی انھیں شناخت کر سکتی ہے۔
مدعی کے مطابق دونوں نے میری بیٹی کو پکڑا اور کمرے میں لیجا کر اس کے ساتھ زیادتی کی اور موقع سے فرار ہوگئے۔
واقعے کے بعد میری بیٹی نے بذریعہ فون مجھے اطلاع دی جس کے بعد میں اور میری اہلیہ گھر پہنچ گئے۔
واقعے کی مدد گار 15 پولیس کو اطلاع دی جو موقع پر پہنچ گئی، مدعی کے مطابق میرا دعویٰ 2 نامعلوم صورت شناس لڑکوں پر میرے گھر میں گھس کر بیٹی کو زیادتی کا نشانہ بنانے کا ہے لہذا قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے۔
گلشن معمار پولیس نے نوجوان لڑکی کو اجتماعی زیادتی کا نشانہ بنانے کا مقدمہ نمبر 356 سال 2026 بجرم دفعہ 376 چونتیس کے تحت درج کر کے مزید تفتیش کے لیے انویسٹی گیشن پولیس کے حوالے کر دیا ۔