میٹرو بس ملازمین کی ہڑتال ختم، سروس بحال
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
اسلام آباد اور راولپنڈی میں میٹرو بس سروس کے ملازمین کی ہڑتال کامیاب مذاکرات کے بعد ختم ہو گئی اور سروس بحال ہو گئی ہے۔ ملازمین نے تنخواہوں میں کٹوتی اور واجب الادا رقم کی عدم ادائیگی کے خلاف احتجاج کیا تھا۔
ملازمین نے آئی جے پی اسٹیشن کے قریب بسیں روک کر ٹریک پر دھرنا دیا اور پلے کارڈز اٹھائے رکھے۔ انہوں نے بتایا کہ گزشتہ دو ماہ سے نجی کمپنی انتظامیہ نے تنخواہیں بروقت ادا نہیں کیں اور ہر ملازم کی تنخواہ سے چھ ہزار روپے کی کٹوتی کی گئی، جس کے باعث جڑواں شہروں کے شہریوں کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اطلاع ملنے پر سیکرٹری ریجنل ٹرانسپورٹ اتھارٹی، سید اسد عباس شیرازی نے نجی کمپنی سے مذاکرات کیے۔ کمپنی نے ملازمین کو جلد تنخواہیں ادا کرنے کی یقین دہانی کرائی، جس کے بعد ہڑتال ختم کر دی گئی اور میٹرو بس سروس بحال کر دی گئی۔ اسد عباس نے کہا کہ اگر پیر کو تنخواہیں ادا نہ کی گئیں تو کمپنی کے خلاف سخت تادیبی کارروائی کی جائے گی۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
کارگو طیارہ حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ کو کمپنی مالکان سے عدم تعاون کی شکایت
نجی کارگو ایئرلائن کے ٹو ایئرویز کے حادثے میں جاں بحق عملے کے اہل خانہ حادثے کی وجوہات جاننے کے منتظر ہیں۔ انہوں نے نجی کارگو کمپنی کے مالکان کی جانب سے عدم تعاون کی شکایت بھی کی ہے، متاثرین کیلئے اب تک کسی معاوضہ کا اعلان بھی نہیں ہوا۔
7 جولائی کو شارجہ سے کراچی آنے والا نجی کارگو کمپنی کے ٹو ایئرویز کا بوئنگ 737 طیارہ بلوچستان کے ساحل سے آگے گہرے سمندر میں گر کر تباہ ہو گیا تھا۔ حادثے کے مقام سے طیارے کا کچھ ملبہ ضرور ملا ہے لیکن سمندر کی تہہ میں پہنچ جانے والے طیارے کے بلیک باکس، کاکپٹ اور عملے کا تاحال کوئی سراغ نہیں مل سکا۔ متاثرین کا مطالبہ ہے کہ اس کام کیلئے غیر ملکی ماہر کمپنیوں سے مدد لی جائے۔
نجی کارگو طیارے کا ملبا تفتیشی ٹیم کے سپرد، بلیک باکس، عملے کے 5 ارکان کی تلاش جاریترجمان پاکستان ایئرپورٹ اتھارٹی (پی اے اے) کے مطابق کارگو طیارے کے مزید ملبے اور عملےکی تلاش گہرے سمندر میں جاری ہے حادثے کے شکار طیارے کے مزید پرزے اور ملبہ سمندر سے برآمد کر لیا گیا۔
شہید کپٹن رضوان کے اہل خانہ نے عملے اور طیارے کے ملبے کی تلاش کیلئے پاکستان نیوی اور دیگر اداروں پر اعتماد کا اظہار کیا لیکن کارگو کمپنی کی شدید بے حسی کی شکایت کی اور مطالبہ کیا کہ کے ٹو ایئرویز کے بیرون ملک موجود مالکان کو واپس لا کر تحقیقات میں شامل کیا جائے۔
متاثرین کے مطابق کے ٹو ایئرویز کی انتظامیہ کی بے حسی کا اندازہ اس سے بھی لگایا جا سکتا ہے کہ ملازمین کو 3 ماہ سے تنخواہیں نہیں ملی تھیں۔ یہ تنخواہ اس المناک حادثہ کے بعد ادا کی گئی۔
ایوی ایشن ماہرین کے مطابق بوئنگ 737 کارگو طیارے کا حادثہ کیوں اور کیسے پیش آیا، یہ اہل خانہ کو بتانا اور حادثہ متاثرین کو معاوضے کی ادائیگی یقینی بنانا حکومت اور ریاست کی ذمہ داری ہے۔