سرکاری ملازمین کے لیے بُری خبر، حکومت نے آئی ایم ایف کا اہم مطالبہ مان لیا
اشاعت کی تاریخ: 13th, December 2025 GMT
عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطالبے پر حکومت نے سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے کا فیصلہ کرلیا۔
وفاقی وزیر خزانہ سینیٹر محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثوں کو عام کرنے سے متعلق قانونی عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور یہ اقدام آئی ایم ایف کی کسی اضافی شرط کے تحت نہیں بلکہ عملی اصلاحات کا حصہ ہے۔
مزید پڑھیں: آئی ایم ایف بھی مان گیا کہ پاکستان میں معاشی استحکام آ گیا ہے، وزیرخزانہ
لاہور میں ایک تقریب سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے کہاکہ عالمی مالیاتی ادارے نے شفافیت کے لیے سرکاری ملازمین کے اثاثے منظرعام پر لانے کی ہدایت کی تھی۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ سول سرونٹس اور تمام اراکینِ پارلیمنٹ کے اثاثوں کی تفصیلات ہر سال 31 دسمبر کو ویب سائٹ پر جاری کی جاتی ہیں۔
انہوں نے واضح کیاکہ روزگار کی فراہمی براہِ راست حکومت کی ذمہ داری نہیں بلکہ یہ کردار نجی شعبے کو ادا کرنا ہوگا۔
واضح رہے کہ سرکاری ملازمین کے اثاثے پبلک کرنے کے لیے حکومت پر آئی ایم ایف کا شدید دباؤ تھا۔
اس سے قبل حکومت آئی ایم ایف کے دیگر مطالبات پورے کر چکی ہے، جس کے باعث حال ہی میں 1.
مزید پڑھیں: سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں
واضح رہے کہ حکومتی وزرا اعتراف کر چکے ہیں کہ ہم اس وقت عوام کو ریلیف دینے کی پوزیشن میں ہیں لیکن آئی ایم ایف کی شرائط کی وجہ سے ایسا نہیں کیا جا سکتا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews آئی ایم ایف اثاثے بری خبر سرکاری ملازمین وی نیوز
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف سرکاری ملازمین وی نیوز سرکاری ملازمین کے ا ئی ایم ایف کے لیے
پڑھیں:
حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔ مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔(جاری ہے)
مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔