ڈیلر مارجن میں اضافے کا مطالبہ مسترد: پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ نیا مارجن قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا امکان ظاہر کر دیا ہے، چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبد السمیع خان نے واضح کیا کہ ڈیلرز 8 فیصد مارجن کے بغیر کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبد السمیع خان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے 8 فیصد مارجن کا مطالبہ کیا تھا، لیکن موجودہ شرح 3.
انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن حکومت کو 10 دن کی مہلت دے رہی ہے، اس کے بعد ڈیلرز کی کور کمیٹی اجلاس میں بیٹھ کر آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی فیصلہ کرے گی، اگر حکومت چاہے تو مارجن میں اضافہ ایک ہی بار دینے کے بجائے قسطوں میں بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن 8 فیصد مارجن طے کرنا ناگزیر ہے۔
ڈیلرز کے اس سخت مؤقف کے بعد ملک بھر میں پیٹرول سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک اس مطالبے پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
پاسدارانِ انقلاب کی دھمکی پر برطانیہ کا بھی سخت ردعمل آگیا
پاسدارانِ انقلاب کے امریکا کی مدد کرنے پر برطانوی اڈوں کو نشانہ بنانے کی دھمکی کے کے بعد برطانیہ کا بھی ردعمل سامنے آگیا ہے جس میں اُس نے کہا ہے کہ وہ اپنے عوام کے دفاع کے لیے پرعزم ہے۔
ایران کے پاسداران انقلاب کی جانب سے امریکی بمبار طیاروں کو برطانیہ کے اڈوں سے پرواز کرنے کی اجازت دینے کے حوالے سے وارننگ جاری کی گئی تھی جس کے بعد برطانیہ نے جمعرات کو کہا کہ اس کی مسلح افواج ملک کو کسی بھی حملے سے بچانے کے لیے تیار ہیں۔
حکومتی ترجمان نے کہا کہ ہماری مسلح افواج برطانیہ کو کسی بھی قسم کے حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے تیار ہیں، چاہے وہ ہماری سرزمین پر ہو یا بیرون ملک سے۔ برطانیہ اپنے دفاع کے لیے 24 گھنٹے تیار ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ اس میں رائل نیوی، برٹش آرمی اور رائل ایئر فورس کے اثاثوں کی طرف سے فراہم کردہ فضائی اور میزائل دفاع کے لیے ایک تہہ دار نقطہ نظر کو چلانا شامل ہے، جو ہمارے نیٹو اتحادیوں کے ساتھ مل کر کام کر رہے ہیں۔
ایران کی جانب سے یہ انتباہ اس وقت سامنے آیا جب برطانیہ کے نئے وزیر اعظم اینڈی برنہم کو گزشتہ ہفتے برطانیہ کے ایک موجودہ معاہدے کو دوبارہ فعال کرنے پر مطلع کیا گیا تھا جس میں امریکا کو برطانوی اڈے استعمال کرنے کی اجازت دی گئی تھی۔