ڈیلر مارجن میں اضافے کا مطالبہ مسترد: پیٹرول پمپس بند کرنے کی دھمکی
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
کراچی: پاکستان پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن نے حکومت کی جانب سے پیش کردہ نیا مارجن قبول کرنے سے انکار کرتے ہوئے ملک بھر میں پیٹرول پمپس بند کرنے کا امکان ظاہر کر دیا ہے، چیئرمین پیٹرولیم ڈیلرز ایسوسی ایشن عبد السمیع خان نے واضح کیا کہ ڈیلرز 8 فیصد مارجن کے بغیر کاروبار جاری نہیں رکھ سکتے۔
میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے عبد السمیع خان کا کہنا تھا کہ ہم نے حکومت سے 8 فیصد مارجن کا مطالبہ کیا تھا، لیکن موجودہ شرح 3.
انہوں نے بتایا کہ ایسوسی ایشن حکومت کو 10 دن کی مہلت دے رہی ہے، اس کے بعد ڈیلرز کی کور کمیٹی اجلاس میں بیٹھ کر آئندہ کے لائحہ عمل کا حتمی فیصلہ کرے گی، اگر حکومت چاہے تو مارجن میں اضافہ ایک ہی بار دینے کے بجائے قسطوں میں بھی کیا جا سکتا ہے، لیکن 8 فیصد مارجن طے کرنا ناگزیر ہے۔
ڈیلرز کے اس سخت مؤقف کے بعد ملک بھر میں پیٹرول سپلائی متاثر ہونے کا خدشہ بڑھ گیا ہے، جبکہ حکومت کی جانب سے اب تک اس مطالبے پر کوئی حتمی ردعمل سامنے نہیں آیا۔
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
پڑھیں:
ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ؛ بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان
اسلام آباد: ملک میں ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کے تحت بجلی کی فی یونٹ قیمت میں اضافے کا امکان ہے۔بجلی صارفین کے لیے ایک بار پھر قیمتوں میں اضافے کا امکان پیدا ہوگیا ہے، کیونکہ نیپرا میں اپریل کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ کی درخواست پر سماعت کے دوران بجلی ایک روپے 73 پیسے فی یونٹ مہنگی کرنے کی درخواست کی گئی ہے۔سماعت کے دوران سینٹرل پاور پرچیزنگ ایجنسی (سی پی پی اے) کے حکام نے بتایا کہ اپریل کے مہینے میں خطے میں جاری جنگ کے اثرات بھی سامنے آئے تھے. جس کے باعث توانائی کے شعبے کو مختلف چیلنجز کا سامنا رہا۔سی پی پی اے کے مطابق اس عرصے کے دوران درآمدی ایل این جی بالکل دستیاب نہیں تھی، تاہم مئی میں ایل این جی کے کنٹریکٹ اور سپاٹ کارگوز موصول ہوئے، جس کے بعد ایل این جی پر چلنے والے پاور پلانٹس کو فعال کیا گیا۔حکام نے نیپرا کو بتایا کہ صنعتی شعبے کے علاوہ تمام صارفین کی کیٹیگریز میں بجلی کی کھپت میں کمی ریکارڈ کی گئی۔ اس کے ساتھ ساتھ آئندہ 2 ماہ کے لیے ایل این جی کی یومیہ بنیادوں پر پلاننگ مکمل کر لی گئی ہے .تاکہ بجلی کی پیداوار اور ایندھن کی دستیابی کو مؤثر انداز میں برقرار رکھا جا سکے۔سی پی پی اے حکام کا کہنا تھا کہ مئی، جون اور جولائی کی ماہانہ فیول ایڈجسٹمنٹ میں صارفین کو زیادہ بڑے جھٹکوں کا سامنا نہیں کرنا پڑے گا کیونکہ ایندھن کی فراہمی اور بجلی کی پیداوار کے حوالے سے ضروری منصوبہ بندی کر لی گئی ہے۔