آئی ایم ایف پابندیاں، پاکستان میں ریفائنریز اپگریڈیشن منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد (نیوزدڈیسک) پاکستان میں معیاری تیل صاف کرنے کیلئے ریفائنریز اپگریڈیشن منصوبہ کھٹائی میں پڑنے کا خدشہ پیدا ہو گیاہے ، آئی ایم ایف نے درآمدی مشینری پر ٹیکس چھوٹ کی اجازت دینے سے انکار کر دیاہے ،
ذرائع وزارت پیٹرولیم کے مطابق آئی ایم ایف نے کاسٹ ریکوری کیلئے 18 فیصد پیٹرولیم مصنوعات پر ٹیکس کی شرط عائد کی ہے ، حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات پر2 فیصد تک سیلز ٹیکس کے نفاذ کی بھی تجویز دی، آئی ایم ایف نے ابھی تک حکومت کی یہ تجویز منظور نہیں کی، اگر آئی ایم ایف کا مطالبہ مانا گیا تو 18 فیصد ٹیکس سے پیٹرول 47 روپے مہنگا ہوگا، ڈیزل پر سیل ٹیکس کے نفاذ سے قیمت 50 روپے فی لیٹر بڑھانا پڑے گی۔
حکومت نے ریفائنریز اپگریڈیشن کیلئے مشینری پر ٹیکس چھوٹ کا مطالبہ کر رکھا ہے، اس وقت پاکستان میں کوئی بھی ریفائنری یورو 5 تیل صاف نہیں کر رہی ، مقامی ریفائنریز یورو 2 اور یورو 3کیٹگری کے پیٹرول اور ڈیزل ریفائن کر سکتی ہیں ، ریفائنریز اپ گریڈیشن منصوبے کے تحت ریفائنریز کو 6 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کرنا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ا ئی ایم ایف
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔