یورو وژن 2024 کے فاتح گلوکار کا ٹرافی واپس کرنے کا اعلان
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
یورو وژن 2024 کے فاتح سوئٹزرلینڈ کے گلوکار نیمو نے اسرائیل کے مقابلے میں شمولیت پر احتجاجاً اپنی ٹرافی واپس کرنے کا اعلان کردیا۔
سوشل میڈیا پر اپنے پیغام میں نیمو نے کہا کہ اقوام متحدہ کا آزاد بین الاقوامی کمیشن اسرائیل کو فلسطینیوں کی نسل کشی کا مرتکب قرار دے چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اسرائیل کو مقابلے میں شرکت کی اجازت یورپی براڈکاسٹرز یونین کی پالیسی سے متصادم ہے۔
View this post on InstagramA post shared by Europe Palestine Network (@europe.
اس سے قبل اسرائیل کو یورو وژن 2026 میں شرکت کی اجازت کے خلاف اسپین، آئرلینڈ، ہالینڈ، سلووینیا اور آئس لینڈ مقابلے کے بائیکات کا اعلان کر چکے ہیں۔
خیال رہے کہ یورو وژن یورپ کا موسیقی کا سب سے بڑا مقابلہ ہے۔ یہ بین الاقوامی مقابلہ یورو وژن 1956 سے ہر سال منعقد ہورہا ہے۔
یورو وژن اگلے سال مئی میں ویانا میں منعقد ہوگا جسے دنیا کا دوسرا سب سے بڑا ٹی وی ایونٹ کہا جاتا ہے، جس کے ناظرین کی تعداد 160 ملین سے زائد ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: یورو وژن
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔