امریکا، پاکستانی F16 طیاروں کی اپگریڈیشن کیلئے 686 ملین ڈالر منظور
اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT
امریکا(ویب ڈیسک) پاکستان کے ایف سولہ لڑاکا طیاروں کی اپ گریڈیشن کے لیے 686 ملین ڈالر کا پیکج منظور کر لیا، پاکستان نے اس کا خیرمقدم کیا ہے۔
اس منظوری کا ذکر امریکی ڈیفنس سیکیورٹی کوآپریشن ایجنسی کے اُس خط میں کیا گیا ہے جو امریکی کانگریس کو ارسال کیا گیا۔ کانگریس کو لکھے گئے خط کے مطابق نئے معاہدے میں-سکسٹین ڈیٹا لنک سسٹم ۔ کرپٹوگرافک آلات ۔ ایویانکس اپ گریڈ ۔ تربیتی ماڈیولز اور جامع پائیداری سپورٹ شامل ہیں جن کا مقصد پاکستان کے ایس سولہ بیڑے کو جدید بنانا ہے۔
اس اقدام سے اسلام آباد اور واشنگٹن کے درمیان جاری انسدادِ دہشت گردی کی کوششوں مزید تقویت ملے گی۔پاکستانی دفتر خارجہ نے امریکا کی جانب سے ایف سولہ لڑاکا جہازوں کے اپ گریڈیشن پیکیج کی منظوری کا خیرمقدم کیا ہے اور دونوں ممالک کے معمول کے دفاعی تعاون کا حصہ قرار دیا ہے ۔میڈیا رپورٹ کے مطابق پاکستان نے پہلی مرتبہ اسی کی دہائی میں امریکا سے ایف سولہ جنگی طیارے خریدے تھے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
ٹرمپ کے وار پاورز محدود؛ امریکی پارلیمان نے ایران جنگ روکنے کی قرارداد منظور کرلی
امریکی ایوانِ نمائندگان نے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو ایران کے ساتھ جاری فوجی تنازع سے امریکی افواج واپس بلانے کی ہدایت دینے والی وار پاورز قرارداد دوبارہ منظور کرلی۔
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق یہ قرارداد اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کی رکنِ کانگریس پرامیلا جے پال کی جانب سے پیش کی گئی جس کے حق میں 214 جب کہ مخالفت میں 208 ووٹ پڑے۔
رائے شماری میں اپوزیشن جماعت ڈیموکریٹ کے تمام اراکین نے قرارداد کی حمایت کی جب کہ حکمراں جماعت ریپبلکن کے 5 ارکان نے بھی پارٹی پالیسی کے برعکس ووٹ دیتے ہوئے قرارداد کے حق میں رائے دی۔
خیال رہے کہ یہ دوسری بار ہے کہ ایوانِ نمائندگان نے اسی نوعیت کی قرارداد منظور کی ہے۔ گزشتہ ماہ بھی ایوان نے ایسی ہی ایک قرارداد منظور کی تھی جسے بعد میں سینیٹ نے بھی منظور کر لیا تھا۔
اگرچہ قرارداد کی منظوری سیاسی لحاظ سے اہم سمجھی جا رہی ہے تاہم اس کی قانونی حیثیت محدود ہے۔ ٹرمپ انتظامیہ کا مؤقف ہے کہ اس قسم کی وار پاورز قراردادیں آئین سے مطابقت نہیں رکھتیں اور صدر بطور کمانڈر اِن چیف قومی سلامتی کے معاملات میں فوجی فیصلے کرنے کا اختیار رکھتے ہیں۔
ووٹنگ سے قبل ہونے والی بحث میں ایوانِ خارجہ امور کمیٹی کے سرکردہ ڈیموکریٹ رکن گریگ میکس نے کہا کہ صدر ٹرمپ نے کانگریس کی پیشگی منظوری کے بغیر ایران کے خلاف فوجی کارروائی کر کے امریکی قانون اور آئینی تقاضوں کی خلاف ورزی کی ہے۔
یہ قرارداد ایسے وقت منظور ہوئی جب یمن کے حوثیوں کے بحیرہ احمر میں سعودی آئل ٹینکرز پر حملوں کے بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتیں 100 ڈالر فی بیرل سے تجاوز کرچکی ہیں۔