قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے 100 میگاواٹ سولر پراجیکٹ کا اعلان تو ضرور کیا، مگر اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی ذمہ داران عملی جدوجہد کر کے اس منصوبے کو جلد از جلد گلگت بلتستان میں لائیں تاکہ مستقل بنیادوں پر بجلی کے بحران کو کم کیا جا سکے۔ اسلام ٹائمز۔ قائد ملت جعفریہ گلگت بلتستان آغا سید راحت حسین الحسینی نے جمعہ کے اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا ہے کہ وزیر اعظم نے 100 میگاواٹ سولر پراجیکٹ کا اعلان تو ضرور کیا، مگر اصل ضرورت اس بات کی ہے کہ صوبائی ذمہ داران عملی جدوجہد کر کے اس منصوبے کو جلد از جلد گلگت بلتستان میں لائیں تاکہ مستقل بنیادوں پر بجلی کے بحران کو کم کیا جا سکے۔ اگر حکومت کے پاس ترقیاتی منصوبوں کے لیے فنڈز کی کمی ہے تو نان ڈویلپمنٹ فنڈز کو ترقیاتی شعبوں میں منتقل کیا جائے، افسر شاہی کے غیر ضروری پروٹوکول، گاڑیوں، دوروں اور بیجا اخراجات کو فوری طور پر بند کر کے رقم عوامی منصوبوں پر لگائی جائے، کیونکہ جب تک بڑے پاور پراجیکٹ مکمل نہیں ہوتے تب تک بجلی بحران کا حل ممکن نہیں۔ انہوں نے کہا کہ چھوٹی چھوٹی لائنوں اور معمولی خرابیوں پر بیانات دینے سے عوام کے مسائل حل نہیں ہوں گے، بلکہ ترقیاتی منصوبوں کی تکمیل ہی وہ واحد راستہ ہے جس سے عوام کو بجلی، سکون اور حقیقی ریلیف مل سکتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ وزیر اعلیٰ کو چاہیے کہ نان ڈویلپمنٹ فنڈز، جو اکثر غیر ضروری مد میں خرچ ہو جاتے ہیں، انہیں بجلی، پانی اور توانائی کے بڑے منصوبوں پر لگایا جائے تاکہ خطے میں حقیقی ترقی، استحکام اور عوامی سہولت پیدا ہو سکے۔ سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی گلگت بلتستان میں بجلی کا بحران خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے، اور صورتحال یہ ہے کہ 24 گھنٹوں میں صرف دو گھنٹے بجلی فراہم کی جاتی ہے جس کی وجہ سے عوام شدید اذیت، ذہنی تناؤ اور معاشی مشکلات کا شکار ہیں۔ آغا سید راحت حسین الحسینی نے مزید کہا نگران وزیر اعلیٰ کی جانب سے سپیشل لائنیں کاٹنے جیسے معمولی اور غیر بنیادی مسائل پر توجہ دینا انتہائی افسوسناک ہے، کیونکہ ایسے امور کے لیے محکموں میں پہلے سے لائن مین، ایکسین، آر ای اور متعلقہ عملہ موجود ہوتا ہے جن کی ذمہ داری یہی ہے کہ وہ ایسے چھوٹے کاموں کو دیکھیں۔

سید راحت حسین نے کہا کہ وزیر اعلیٰ جیسے بلند منصب کے حامل شخص کو چاہیے کہ وہ میگا پراجیکٹس اور توانائی کے مستقل حل کے لیے وفاق کے ساتھ سنجیدہ سطح پر بات کرے اور وہ بڑے ترقیاتی منصوبے جو تعطل اور سست روی کا شکار ہیں، ان پر فوری نوٹس لے۔ ہیزل میں تقریباً 20 میگاواٹ کا پاور پراجیکٹ سالوں سے سست روی کا شکار ہے، نلتر میں 16 میگاواٹ منصوبے پر رفتار نہ ہونے کے برابر ہے، جبکہ پی ایس ڈی پی کے تحت بڑے بجلی منصوبوں میں بھی پیش رفت انتہائی کم ہے، جنہیں تیز کرنے کی فوری ضرورت ہے۔

.

ذریعہ

ذریعہ: Islam Times

کلیدی لفظ: گلگت بلتستان کہ وزیر

پڑھیں:

حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران

لاہور(ڈیلی پاکستان آن لائن)ایران نے صدر ٹرمپ کی تازہ دھمکی کے جواب میں خبردار کیا ہے کہ اگر امریکا باز نہ آیا تو مشرق وسطیٰ میں اس کے انفرا اسٹریکچرز بھی محفوظ نہیں رہیں گے۔ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی تسنیم کے مطابق ایک نامعلوم فوجی ذریعے نے کہا کہ آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کے استعمال میں ایران کا عزم فولادی ہے اور وہ کبھی بھی اس اہم آبی گزرگاہ کو اپنے خلاف خطرہ بننے کی اجازت نہیں دے گا۔فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ اگر امریکا نے ایران کے پلوں یا بجلی گھروں پر حملہ کیا تو ایران بھی عرب ممالک میں موجود امریکا سے وابستہ اہم شہری بنیادی ڈھانچوں بشمول پلوں، بجلی گھروں اور تنصیبات پر حملے کرے گا۔ 

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ امریکیوں کو گزشتہ دس دنوں کے واقعات کے بعد اب پوری طرح یقین ہو جانا چاہیے کہ ایران جہاں چاہتا ہے وہیں حملہ کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ایرانی فوجی عہدیدار نے مزید کہا کہ لہٰذا ٹرمپ اگر اس طرح کا کوئی خطرناک جوا کھیلتے ہیں تو اس کا انجام ایک بار پھر ان کی سبکی اور شرمندگی کی صورت میں نکلے گا۔انھوں نے کہا کہ ایران آبنائے ہرمز پر اپنی خودمختاری کا حق استعمال کرتا رہے گا اور اس اہم آبی گزرگاہ پر اپنا کنٹرول برقرار رکھنے کے اپنے پختہ عزم سے کسی صورت دستبردار نہیں ہوگا۔

یاد رہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر اعلان کیا تھا کہ اگر ایران کی پاسدارانِ انقلاب آبنائے ہرمز میں کسی تجارتی جہاز پر میزائل، راکٹ، ڈرون یا کسی اور ہتھیار سے حملہ کرتی ہے تو امریکا ہر ایسے واقعے کے جواب میں ایران کے ایک پل یا بجلی گھر کو تباہ کر دے گا چاہے وہ تہران کے قریب ہی کیوں نہ واقع ہو۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

واضح رہے کہ آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین سمندری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے جہاں سے عالمی سطح پر تیل اور گیس کی بڑی مقدار گزرتی ہے اور اسے ایران نے بند کر رکھا ہے جس کے باعث عالمی منڈیوں میں تیل کی قیمتیں بڑھ گئی ہے۔

مزید :

متعلقہ مضامین

  • آج کہاں کہاں بادل برسیں گے ،محکمہ موسمیات نے بڑی پیشگوئی کردی
  • گلگت بلتستان میں موسلادھار بارشوں سے سیلابی تباہی، شاہراہیں اور پل بہہ گئے، ہزاروں افراد محصور : انتباہ جاری
  • معاشی سرگرمیوں میں تیزی، کے الیکٹرک صنعتی صارفین کا بجلی استعمال ریکارڈ سطح پر پہنچ گیا
  • خیبر پختونخوا، گلگت بلتستان، پنجاب اور کشمیر میں تیز بارشوں کی پیشگوئی، لینڈ سلائیڈنگ کا خدشہ
  • اسلام آباد، بلاول بھٹو سے وزیر اعلیٰ گلگت بلتستان امجد حسین کی ملاقات
  • بجلی، گیس، پانی، پیٹرول سمیت ہر شعبے میں ٹیکس وصول کیے جا رہے ہیں، شاداب نقشبندی
  • جامعہ کراچی میں سالانہ یومِ حسینؑ، شیعہ سنی علماء کا خطاب، اساتذہ و طلباء کی شرکت
  • وزیراعظم سے چینی کمپنی کے وفد کی ملاقات، غذائی تحفظ کے منصوبوں پر تبادلہ خیال
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حملہ ہوا تو خلیج میں امریکہ سے منسلک پلوں اور بجلی گھروں کو نشانہ بنائیں گے، ایران