منظم جرائم کے مقدمات نمٹانے کیلئے اضافی عدالتوں کا قیام ضروری ،جسٹس گل حسن
اشاعت کی تاریخ: 12th, December 2025 GMT
اسلام آباد(خصوصی رپورٹر) اسلام آباد میں فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منظم جرائم سے کانفرنس میں جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب نے خطاب میں منظم جرائم کو ملک کی بدنامی کا باعث قرار دیا۔ جسٹس حسن اورنگزیب نے واضح کیا کہ اس چیلنج سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون اور مضبوط اداروں کی ضرورت ہے۔ انہوں نے منظم جرائم کے مقدمات نمٹانے کیلئے اضافی عدالتوں کے قیام کو بھی ناگزیر قرار دیا۔فیڈرل جوڈیشل اکیڈمی میں منظم جرائم کے خلاف قومی حکمت عملی کی تیاری کے حوالے سے کانفرنس یو این او ڈی سی کے تعاون سے منعقد کی گئی جس میں نیب، اینٹی منی لانڈرنگ، نیشنل پولیس بیورو اور یو این او ڈی سی کے ماہرین نے خصوصی خطابات کیے اور بین الاداراہی رابطے، مضبوط تفتیش اور مؤثر عدالتی ردِعمل پر اتفاق کیا گیا۔ جسٹس گل حسن اورنگزیب نے کہا کہ منظم جرائم ملک کی بدنامی کا باعث بنتے ہیں اور ان سے نمٹنے کیلئے بین الاقوامی تعاون اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی مضبوط صلاحیت ناگزیر ہے۔ انہوں نے عدالتوں کی کمی، تفتیشی افسران کی محدود صلاحیت اور فنڈز کی کمی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور کہا کہ منظم جرائم کے مقدمات نمٹانے کیلئے اضافی عدالتوں کا قیام ضروری ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Nawaiwaqt
کلیدی لفظ: منظم جرائم کے
پڑھیں:
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن مقرر
سٹی 42: سندھ حکومت نے جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر کو سندھ انسانی حقوق کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کر دیا ہے، ان کی تعیناتی سندھ کابینہ کی منظوری کے بعد عمل میں لائی گئی۔
محکمہ انسانی حقوق کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جسٹس (ر) مقبول باقر کو پانچ سال کی مدت کے لیے کمیشن کا چیئرپرسن مقرر کیا گیا ہے۔
واضح رہے کہ سابق چیئرپرسن اقبال احمد ڈیتھو کو عہدے سے فارغ کیے جانے کے بعد سندھ انسانی حقوق کمیشن کے چیئرپرسن کا منصب خالی تھا۔ حکومتی ذرائع کے مطابق نئی تقرری سے کمیشن کی سرگرمیوں کو مزید مؤثر بنانے اور انسانی حقوق کے تحفظ کے لیے ادارہ جاتی اقدامات کو تقویت ملنے کی توقع ہے۔
پاکستان آسٹریلیا دوسرا ون ڈے، قذافی اسٹیڈیم میں سیکیورٹی و ٹریفک انتظامات مکمل
جسٹس ریٹائرڈ مقبول باقر سابق نگران وزیر اعلی سندھ بھی رہے۔