پشاور: عوام کو جلد انصاف کی فراہمی کیلئے عدالتوں میں شام کی شفٹ فعال کردی گئی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
پشاور میں چیف جسٹس پشاور ہائیکورٹ جسٹس ایس ایم عتیق شاہ نے سیکنڈ شفٹ عدالتوں کا افتتاح کردیا۔
تفصیلات کے مطابق چیف جسٹس نے ججز کو عوام کو انصاف کی فراہمی جلد ممکن بنانے کی ہدایت کی۔
رجسٹرار پشاور ہائیکورٹ محمد زیب نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ سب سے پہلے شام کی عدالتیں ایبٹ آباد میں شروع کیں۔ سیکنڈ شفٹ کی دو عدالتوں کو پشاور میں فعال کردیا گیا۔
انہوں نے بتایا کہ شام کی عدالتوں کا بنیادی تصور جلد انصاف کی فراہمی ہے۔ ان عدالتوں کے قیام کا مقصد جو لوگ دن کے وقت نہیں آسکتے شام کے وقت عدالت میں پیش ہونگے۔
انہوں نے کہا کہ شام کی عدالتوں سے مقدمات نمٹانے میں تیزی آئیگی۔ شام کی عدالتوں کے حوالے سے اس وقت کوہاٹ اور مردان سے ریکوئسٹ آرہی ہیں۔ شام کی عدالتوں کے بارے میں وکلاء کے تحفظات کو دور کریں گے، بار اور بنچ کا مثالی تعلق موجود ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: شام کی عدالتوں
پڑھیں:
محبوبہ مفتی کا نئی دلی سے مذاکرات کیلئے متحدہ سیاسی محاذ بنانے پر زور
انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ اسلام ٹائمز۔ غیر قانونی طور پر بھارت کے زیر قبضہ جموں و کشمیر میں پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے سیاسی جماعتوں پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے اختلافات کو پسِ پشت ڈال کر ایک مشترکہ پلیٹ فارم تشکیل دیں تاکہ نئی دہلی کے ساتھ سیاسی مذاکرات کے لیے سازگار فضا قائم ہو سکے۔ذرائع کے مطابق سرینگر میں ایک پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محبوبہ مفتی نے کہا کہ جموں و کشمیر کے سیاسی مسائل کے حل کا واحد راستہ بامعنی سیاسی مذاکرات اور مسلسل رابطہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ سیاسی جماعتوں کو مشترکہ حکمتِ عملی اپناتے ہوئے ایک متحد موقف اختیار کرنا چاہیے۔ انہوں نے لداخ کی مثال دیتے ہوئے کہا کہ وہاں لہہ اور کارگل کے رہنمائوں نے علاقائی اور مذہبی اختلافات کے باوجود مشترکہ طور پر اپنے حقوق اور آئینی تحفظات کے لیے آواز بلند کی۔ انہوں نے کہا کہ اسی طرز پر جموں و کشمیر میں بھی ایک اجتماعی سیاسی نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے۔
محبوبہ مفتی نے کہا کہ پیپلز الائنس فار گپکار ڈیکلریشن جیسے پلیٹ فارمز کی طرز پر دوبارہ سیاسی اتحاد قائم کیا جانا چاہیے تاکہ مودی حکومت کے ساتھ مذاکرات شروع کئے جا سکیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ مشکل اور کشیدہ حالات میں بھی سیاسی رابطے اور بات چیت کے دروازے کھلے رکھنے کی کوششیں جاری رہنی چاہیں۔ کشمیری عوام چاہتے ہیں کہ منتخب عوامی نمائندے ان کے سیاسی حقوق اور وقار کی بحالی کے لیے بھی کردار ادا کریں۔ محبوبہ مفتی نے کشمیری نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی مایوسی اور بیگانگی پر بھی تشویش کا اظہار کیا اور اعتماد سازی کے اقدامات پر زور دیا۔ انہوں نے شہری علاقوں میں تعینات قابض بھارتی فورسز کی تعداد کم کرنے کا مطالبہ کرتے ہوئے کشمیری نظربندوں کو انسانی ہمدردی کی بنیاد پر ریلیف فراہم کرنے کی بھی اپیل کی۔