data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (کامرس رپورٹر) حکومتی ٹیکسوں اور بجلی کے ٹیرف کمی لائی جائے، ایکسپورٹ بڑھنے سے بیروزگاری میں کمی اور ملک ترقی کی راہ پر گامزن ہو گا، تاجر اپنی کمائی کا 45 فیصد حکومت کو ٹیکسوں کی مد میں ادا کر رہا ہے،حکومت نے 10 فیصد سپر ٹیکس عارضی لگاکر مستقل کردیا، ایکسپورٹ بڑھنے سے ملکی حالت بہتر ہونگے،حکومت اضلاع کی پیدوار کے مطابق اقدامات اتھائے،جو وقت کا اہم تقاضا ہے،ان خیالات کا اظہار پاکستان بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چوہدری احمد جواد اور صدر کراچی ملک خدا بخش نے گزشتہ روز بزنس کمیونٹی سے ملاقات کرتے ہوئے کہا کہ ملکی معیشت اب بھی بحران کا شکار ہے اور درست سمت نہیں ہے۔ ہمیں پارلیمان سے چارٹر آف اکانومی چاہیے۔ پاکستان میں بجلی کا ٹیرف خطے میں سب سے زیادہ 13 سینٹ فی یونٹ ہے، جب کہ بھارت اور بنگلہ دیش میں یہی نرخ 8 سینٹ فی یونٹ ہیں، جس سے ایکسپورٹس اور انڈسٹری شدید متاثر ہو رہی ہے۔بزنس فورم کے چیف آرگنائزر چویدری احمد جواد نے کہا کہ 45 فیصد تک کارپوریٹ ٹیکس خطے میں سب سے زیادہ ہے، سپر ٹیکس وقتی نہیں بلکہ مستقل بنا دیا گیا ہے، 100 روپے کمائیں تو 45 روپے حکومت لے جاتی ہے، ایسے میں بزنس چلانا ممکن نہیں۔ امریکہ 21 فیصد جبکہ برطانیہ میں 25 فیصد ٹیکس وصول کیا جاتا ہے،اور عوام کو بہترین سہولیات بھی فراہم کی جاتی ہے،انہوں نے کہا کہ پرائیویٹ سیکٹر کے بغیر معیشت کی بحالی ممکن نہیں، ہر نئی حکومت قرض لیتی ہے جو ملک چلانے کا درست طریقہ نہیں۔ حکومت کو چاہیے کہ پرائیویٹ سیکٹر کو کمپیٹیٹو ریٹس دے تاکہ ایکسپورٹس میں اضافہ ہو۔ملک خدا بخش نے مزید کہا کہ بیوروکریسی معیشت نہیں چلا سکتی، پالیسی سازی میں بزنس ماہرین کو شامل کیا جائے۔ ان کا کہنا تھا کہ ضلعی سطح پر انڈسٹری کے فروغ اور ڈسٹرکٹ اکنامیز کے قیام سے روزگار کے مواقع پیدا ہوں گے۔انہوں نے کہا حکومت بزنس کمیونٹی کو اعتماد میں لے اور ان کے حقیقی مسائل حل کرے۔

کامرس رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: کہا کہ

پڑھیں:

حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا

اسلام آباد(اُردو پوائنٹ اخبارتازہ ترین۔ 02 جون2026ء) حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا ، مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے ۔ تازہ ترین حکومتی اعداد و شمار کے مطابق ایف بی آر کی ٹیکس وصولیاں نظرثانی شدہ اہداف کے مطابق جاری ہیں۔

مشیر وزیر خزانہ خرم شہزاد کے مطابق 864 ارب روپے کے ٹیکس شارٹ فال کا تاثر ابتدائی 14 ہزار 130 ارب روپے کے ہدف کی بنیاد پر دیا جا رہا ہے جو گمراہ کن ہے۔معاشی حالات میں تبدیلی کے بعد آئی ایم ایف کی مشاورت سے ریونیو ہدف تقریباً 13 ہزار ارب روپے تک ایڈجسٹ کیا گیا۔ مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مہنگائی،درآمدات اور عالمی صورتحال میں تبدیلی کے باعث اہداف پر نظرثانی معمول کا مالی عمل ہے، نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کیتحت ایف بی آر کی کارکردگی مضبوط،11 ماہ کا تقریباً مکمل ہدف حاصل کیا گیا، ایف بی آر نے پہلے 11 ماہ میں 11 ہزار 257 ارب روپے ٹیکس اکٹھا کیا جبکہ مئی میں 994 ارب روپے وصول کیے۔

(جاری ہے)

مشیر وزیر خزانہ نے کہا کہ مئی میں ایف بی آر نے ماہانہ ہدف کا 97 فیصد جبکہ 11 ماہ کے ہدفکا 99.8 فیصد حاصل کیا، موجودہ کارکردگی ریونیو بحران یا بڑے ٹیکس شارٹ فال کے دعوؤں کی نفی کرتی ہے، جون 2026 کا 1 ہزار 727 ارب ریونیو ہدف 15 فیصد اضافے کے ساتھ نظرثانی شدہ مالی فریم ورک کے مطابق قابل حصول ہے، کاروباری طبقے اور سرمایہ کار غیر معمولی ٹیکس اقدامات سے متعلق قیاس آرائیوں پر توجہ نہ دیں، مالی معاملات پر تبصرہ پرانے اہداف کے بجائے موجودہ معاشی حقائق اور درست اعداد و شمار پر ہونا چاہیے۔                                                                           

متعلقہ مضامین

  • جنگ امن اور معیشت کی کہانی
  • سینٹ پیٹرزبرگ انٹرنیشنل اکنامک فورم، پاکستانی اعلیٰ سطحی وفد شرکت کریگا
  • حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
  • پائیدارمعاشی ترقی کیلئے صنعت وپیداوار اور بیرونی سرمایہ کاری میں اضافہ ناگزیر ہے، وزیر اعظم
  • کرپٹو ٹریڈنگ پر 15 تا 30 فیصد کیپیٹل گین ٹیکس عائد ہونے کا امکان، ذرائع
  • حکومت نے 11 ماہ میں عوام اور کاروباری اداروں کی جیبوں سے سوا 11 ہزار ارب روپے کا ٹیکس نکال لیا
  • وفاقی آئینی عدالت نے پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار دے دی
  • متوسط اور تنخواہ دار طبقہ پس رہا ہے، حکومت بجٹ میں سہولیات دے، حافظ نعیم الرحمن
  • وفاقی آئینی عدالت: پولٹری فیڈ ملز سے 4 فیصد اضافی ٹیکس کی وصولی غیرقانونی قرار
  • بزنس فرینڈلی بجٹ لانے کیساتھ ٹیکس پیئر پر مزید بوجھ نہ ڈالا جائے، پاکستان بزنس فورم