این سی سی آئی اے میری الیکٹرانک ڈیوائسز، موبائل، کریڈٹ کارڈز، رقم واپس دے، ڈکی بھائی
اشاعت کی تاریخ: 9th, December 2025 GMT
ضلع کچہری لاہور میں ڈکی بھائی کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس، الیکٹرانک ڈیوائسز اور اے ٹی ایم کارڈز کی سپرداری کے کیس کی سماعت ہوئی۔
عدالت نے پراسیکیوشن کی درخواست پر این سی سی آئی اے کو مزید 3 دن کی مہلت دیتے ہوئے ڈکی بھائی کی سپرداری کی درخواست پر سماعت 12 دسمبر تک ملتوی کردی۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی نے جیل سے رہائی کے بعد پوری قوم سے معافی مانگ لی
پراسیکیوشن نے مؤقف اپنایا کہ اس کیس کا پہلا تفتیشی افسر جیل میں بند ہے، اس تفتیشی افسر سے تمام معلومات لینی ہے۔
وکیل ڈکی بھائی نے کہا کہ یہ سپرداری کی درخواست ہے جو الیکٹرانک ڈیوائسز اور موبائل این سی سی آئی اے کے پاس ہیں، میرے 4 کریڈٹ کارڈ اور رقم ہمیں حوالے کی جائے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈکی بھائی کا گرفتاری سے رہائی تک 100 روز خاموشی کے بعد بڑا اعلان
جوڈیشل مجسٹریٹ نعیم وٹو کیس پر سماعت کی، ملزمان کے خلاف این سی سی آئی اے نے مقدمہ درج کررکھا ہے۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Express News
کلیدی لفظ: سی سی آئی اے ڈکی بھائی
پڑھیں:
بی ایم ڈبلیو سے 5 لاکھ جرمانہ وصولی، ڈی ایچ اے ویجیلینس سے جواب طلب
کراچی:ایڈیشنل سیشن جج جنوبی نے بی ایم ڈبلیو تحویل میں لے کر پانچ لاکھ روپے جرمانہ وصولی پر ڈی ایچ اے ویجلنس، ایس ایس پی جنوبی اور ایس ایچ او ساحل کو نوٹس جاری کرتے ہوئے آئندہ سماعت پر جواب طلب کرلیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق درخواست گزار نے ڈی ایچ اے ویجلنس پر گاڑی غیر قانونی طور پر قبضے میں لینے کا الزام عائد کیا ہے۔
درخواست گزار ارسلان خواجہ نے موقف اختیار کیا ہے کہ ڈی ایچ اے ویجلنس اہلکاروں نے اختیارات سے تجاوز کیا، بغیر شواہد درخواست گزار پر ڈرفٹنگ اور ڈونٹس کا الزام لگایا گیا، 25 سے 30 اہلکاروں نے گاڑی کو گھیر کر تحویل میں لیا، بی ایم ڈبلیو گاڑی ضبط کرکے ڈی ایچ اے ویجلنس دفتر منتقل کی گئی اور 5 لاکھ روپے جرمانہ عائد کیا۔
درخواست گزار نے وکیل کے توسط سے کہا کہ گاڑی کی رہائی کے لیے 5 لاکھ روپے طلب کیے گئے، ڈی ایچ اے ویجلنس کو گاڑیاں ضبط کرنے کا اختیار حاصل نہیں، شہریوں کو روکنے اور جرمانہ عائد کرنے کا اختیار صرف پولیس کے پاس ہے، ڈی ایچ اے ویجلنس پولیس فورس نہیں، ویجلنس حکام کے اقدامات اختیارات کے ناجائز استعمال کے مترادف ہیں، درخواست میں بھتہ خوری، غیر قانونی حراست اور دھمکیوں کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔
درخواست پر عدالت نے فریقین کو نوٹس جاری کرتے ہوئے 5 جون کو جواب طلب کرلیا۔