Jasarat News:
2026-07-24@06:29:09 GMT

انسانی حقوق کو یقینی بنانا ریاست کی ذمے داری ہے،وزیراعلیٰ

اشاعت کی تاریخ: 11th, December 2025 GMT

data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">

کراچی (اسٹاف رپورٹر )وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے انسانی حقوق کے عالمی دن پر پیغام میں کہا ہے کہ انسانی حقوق کا عالمی دن ہمیں مساوات اور عدل کی اہمیت یاد دلاتا ہے، فلاحِ عامہ، شفافیت اور مساوات پیپلز پارٹی حکومت کا عزم ہے، انسانی حقوق روزمرہ زندگی کا بنیادی حصہ ہیں، انسانی حقوق کو یقینی بنانا ریاست کی ذمہ داری ہے، وزیراعلیٰ سندھ کا کہنا تھا کہ حقوقِ انسانی کو عمل میں لانا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، کمزور طبقات کے تحفظ اور شہری سہولیات کی بہتری کے لیے اقدامات جاری ہیں۔سندھ حکومت بچوں، خواتین، اقلیتوں اور خصوصی افراد کے حقوق کے فروغ پر توجہ دیتی ہے،حقوقِ انسانی کو عمل میں لانا پائیدار ترقی کے لیے ناگزیر ہے، سندھ حکومت سماجی انصاف اور شفافیت کے عزم کا اعادہ کرتی ہے،تعلیم، صحت اور سوشل پروٹیکشن انسانی حقوق کے ایجنڈے کی بنیادی ترجیحات ہیں۔ سندھ میں سرکاری اسپتالوں کی سہولیات بہتر بنانے کے لیے متعدد اصلاحات نافذ کی ہیں،سرکاری اسکولوں کے انفرااسٹرکچر ، اساتذہ ٹریننگ اور حاضری نظام کو مضبوط بنانے کے اقدامات کیے ہیں۔ مراد علی شاہ نے کہا کہ سندھ حکومت تعلیم کے شعبے میں STEAM اور جدید تعلیمی ماڈلز کو فروغ دے رہی ہے۔ سماجی تحفظ پروگراموں کے ذریعے کم آمدنی والے خاندانوں کی معاونت میں اضافہ کیا گیا ہے۔ سندھ حکومت شہری انفرا اسٹرکچر میں بہتری لانے کے لیے کئی اقدامات کر رہی ہے، شہریوں کے لئے سڑکوں، ٹرانسپورٹ اور پانی کی فراہمی کے بہتری کے منصوبے جاری رکھے ہیں،قانون کی حکمرانی اور ای گورننس کے تحت شکایات کے ازالے کے نظام میں بہتری لائی گئی ہے جبکہ ماحولیات اور شہری صفائی سے متعلق منصوبوں میں بتدریج پیش رفت کی گئی ہے،

اسٹاف رپورٹر گلزار.

ذریعہ

ذریعہ: Jasarat News

کلیدی لفظ: سندھ حکومت کے لیے

پڑھیں:

سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان

 اسلام آباد ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) سینیٹر شیری رحمان نے بھارت کے دہرے آبی رویئے پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ  سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے۔ ایک طرف بھارت سندھ طاس معاہدے کو معطل کرنے کی دھمکی دیتا ہے، دوسری طرف سیلابی پانی پاکستان کی طرف چھوڑ دیتا ہے۔

 ’’جنگ ‘‘ کے مطابق شیری رحمان نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ بھارت نے سلال ڈیم کےگیٹ کھول کر لاکھوں پاکستانیوں کو سیلابی خطرے سے دو چار کر دیا، دریاؤں کے پانی کو تنازع نہیں بلکہ ذمے داری کے ساتھ چلایا جانا چاہیے، بھارت کی غیر ذمے دارانہ پالیسی خطے کے امن اور اعتماد کے لیے خطرناک ہے۔بھارت کی جانب سے پانی کے بہاؤ سے متعلق بر وقت معلومات نہ دینا چیلنج بن گیا ہے، دریائے چناب کے پانی کے بہاؤ میں غیر یقینی صورتِ حال پیدا ہو رہی ہے۔

پاکستانی تاجروں نے چین کو 60ہزار ٹن چاول برآمد کرنے کے آرڈرز حاصل کرلئے

اُنہوں نے کہا کہ بھارت کے اقدامات سے آبپاشی کے نظام اور زرعی شعبے کو خطرات ہیں، دریائے چناب میں اچانک پانی کی کمی یا زیادتی سے نہری نظام متاثر ہو سکتا ہے، دریائے چناب پنجاب کے لاکھوں ایکڑ زرعی رقبے کو سیراب کرتا ہے، پانی کے بہاؤ میں تبدیلی سے فصلیں متاثر ہونے کا خدشہ ہے۔پاکستان کے کسانوں کا روزگار دریاؤں کے منظم بہاؤ سے جڑا ہے، بھارت کی غیر یقینی آبی پالیسی زرعی خطرات میں اضافہ کر رہی ہے، آبی وسائل کو ذمے دارانہ طریقے سے استعمال کیا جانا چاہیے۔بھارت کو معاہدوں کی پاسداری کرنا ہوگی، بھارت کو مغربی دریاؤں کے پانی کو ذخیرہ کرنے یا دوسرے کیچمنٹ میں منتقل کرنے کی اجازت نہیں۔

اپر کوہستان مالیاتی اسکینڈل، 21 کروڑ روپے سے زائد رقم بحق سرکار ضبط کرنے کا حکم

مزید :

متعلقہ مضامین

  • مقبوضہ کشمیر میں حالاے نشل کشی کے دہانے پر پہنچ گئے ہیں، رُکن برطانوی پارلیمنٹ
  • مودی حکومت کی غیرملکی فنڈنگ قانون میں ترمیم سے تنقیدی آوازوں کودبانے کی کوشش
  • کوئٹہ، ہماری عبادتگاہ مسمار کرکے تجارتی پلازہ بنانا قابل مذمت ہے، سکھ برادری
  • پنجاب حکومت کے اقدامات دھرے کے دھرے رہ گئے‘بارشوں نے تباہی مچادی
  • موبائل کمپنیوں کو 4 برسوں میں 3 ارب 41 کروڑ جرمانہ، سروس اور کوریج کی بہتری کیلئے مہلت
  • جاپان نے شدید گرمی سے بچاؤ کے لیے ‘انسانی ریفریجریٹر’ تیار کرلیا
  • وزیراعلی سندھ مراد علی شاہ کا مون سون کے پیش نظر انتظامیہ کو الرٹ رہنے کا حکم
  • طوفانی سیلاب سے عوام شدید مشکلات کا شکار ہیں، حکومت فوری اقدامات اٹھائے، کاظم میثم
  • حکومت مساجد و مدارس کی رجسٹریشن کے پروسس کو آسان بنائے، شاہ عبدالحق قادری
  • سیلابی صورتِ حال کو ہتھیار بنانا بھارت کی آبی جارحیت کا ثبوت ہے:سینیٹر شیری رحمان