WE News:
2026-07-24@04:08:22 GMT

کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟

اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT

کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟

پاکستان میں عام طور پر سولر سسٹمز کا سیزن گرمیاں سمجھا جاتا ہے جب درجہ حرارت بڑھنے اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث شہری بڑی تعداد میں سولر پینلز نصب کرواتے ہیں اور اسی دوران قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف

تاہم اس بار صورتحال اس سے مختلف ہے۔ موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے جو روایتی طور پر سولر مارکیٹ کا آف سیزن سمجھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز سستے ہو گئے ہیں لیکن جب وی نیوز نے سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی تو معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

اس حوالے سے وی نیوز نے سولر انرجی سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی۔

ڈائریکٹر رینرجی شرجیل احمد سلہری کے مطابق مارکیٹ میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

مزید پڑھیے: سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں

ان کے مطابق موجودہ حالات میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی بلکہ تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

سولر پینلز کی قمیتوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟

انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں سردیوں کے دوران قیمتوں کا اوپر جانا معمول ہے جبکہ پاکستان میں جی ایس ٹی میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی اس مہنگائی کی اہم وجوہات ہیں۔

ان کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر فی الحال سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔

مزید پڑھیں: سولر پینل کتنے درجہ حرارت پر زیادہ بجلی بناتا ہے؟

دوسری جانب پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا۔

ان کے مطابق صرف 3 سے 4 روپے فی واٹ کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو مارکیٹ کے نارمل اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے اور اس سے کسی بڑے بحران یا نمایاں مہنگائی کا تاثر نہیں لینا چاہیے۔

قیمتیں آئندہ کچھ ہفتوں تک برقرار رہیں گی

 انجینیئر عدنان بٹ نے وی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کبھی کبھار شپنگ لاگت یا ڈالر ریٹ میں ہلکی سی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے مگر مجموعی طور پر پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں اس وقت خاصی حد تک مستحکم ہیں۔

انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی سپلائی چین میں ایسی کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں جو اچانک قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بنے اسی وجہ سے مارکیٹ ایک متوازن سطح پر چل رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیے: آسان اقساط پر سولر پینل لگوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری

عدنان بٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ آنا ایک عام رجحان ہے جسے غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔

انہوں نے بتایا کہ روزانہ کے حساب سے ایک سے 2 روپے فی واٹ کبھی بڑھ جاتے ہیں اور کبھی اتنے ہی کم بھی ہو جاتے ہیں اور یہ ایک نارمل مارکیٹ بیہیوئر ہے جس سے مجموعی قیمتوں کا تاثر متاثر نہیں ہوتا۔

مزید پڑھیں: سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس، اب فی واٹ سولر پینل کی قیمت کیا ہوگی؟

ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں نہ تو کوئی ایسا بڑا فیکٹر نظر آتا ہے جو قیمتوں کو اوپر دھکیلے اور نہ ہی کوئی ایسی وجہ ہے جو اس میں فوری کوئی کمی لے آئے لہٰذا آنے والے ہفتوں میں بھی سولر مارکیٹ کے اسی موجودہ مستحکم دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

سولر پینل سولر سسٹم سولر سسٹم کی قیمتیں.

ذریعہ

ذریعہ: WE News

کلیدی لفظ: سولر پینل سولر سسٹم سولر سسٹم کی قیمتیں میں سولر پینلز سولر پینلز کی قیمتوں میں کے مطابق

پڑھیں:

حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری

حکومت نے پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ کرتے ہوئے پیٹرول کی قیمت میں 4 روپے 40 پیسے فی لیٹر اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر اضافہ کر دیا ہے۔ اس حوالے سے باضابطہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:پیٹرول مہنگا ہو تو موٹرسائیکل سوار متاثر نہیں ہوتے، مشیر خزانہ کے بیان پر شدید ردعمل

نوٹیفکیشن کے مطابق اضافے کے بعد پیٹرول کی نئی قیمت 331 روپے 52 پیسے فی لیٹر مقرر کر دی گئی ہے، جبکہ ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت میں بھی 3 روپے 62 پیسے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا گیا ہے۔

نئی قیمتیں نافذ

جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق پیٹرولیم مصنوعات کی نئی قیمتوں کا اطلاق فوری طور پر کر دیا گیا ہے، جس کے بعد ملک بھر کے پیٹرول پمپوں پر صارفین کو نئی قیمتوں کے مطابق ادائیگی کرنا ہوگی۔

عوام پر مزید مالی دباؤ کا خدشہ

معاشی ماہرین کے مطابق پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے سے ٹرانسپورٹ کے اخراجات بڑھنے کا امکان ہے، جس کے نتیجے میں اشیائے خورونوش اور دیگر ضروری اشیا کی قیمتوں پر بھی دباؤ آ سکتا ہے۔

مزید پڑھیں:ایران جنگ کے اثرات: پیٹرول مہنگا، یورپ میں الیکٹرک گاڑیوں کی فروخت میں 51 فیصد اضافہ

ڈیزل کی قیمت میں اضافہ خاص طور پر مال بردار ٹرانسپورٹ اور زرعی شعبے کے اخراجات پر اثر انداز ہو سکتا ہے۔

حکومت ہر 15 روز بعد عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں، درآمدی لاگت، روپے کی قدر اور ٹیکسوں کی بنیاد پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کا جائزہ لیتی تھی لیکن اب روزانہ کی بنیاد پر یہ عمل جاری ہے۔

اسی جائزہ عمل کے تحت تازہ نوٹیفکیشن جاری کرتے ہوئے پیٹرول اور ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمتیں ملک بھر میں نافذ العمل ہو گئی ہیں۔

آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں

پیٹرول پیٹرولیم مصنوعات درآمدی لاگت ڈیزل روپے کی قدر عالمی منڈی مہنگا

متعلقہ مضامین

  • عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں بڑا اضافہ کردیا گیا،نئی قیمتیں جانئے
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ، شہری پھٹ پڑے
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافہ
  • پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں مسلسل چوتھے روز اضافہ
  • پیٹرول اور ڈیزل کی قیمتوں میں پھر سے اضافہ
  • حکومت نے پیٹرول اور ڈیزل مزید مہنگا کر دیا، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری
  • عالمی منڈی میں تیل کی قیمتیں 100 ڈالر سے تجاوز کر گئیں
  • پیٹرول اور ڈیزل کے بعد مٹی کے تیل کی قیمت میں بھی بڑا اضافہ
  • پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک بار پھر بڑا اضافہ، پیٹرول اور ڈیزل مہنگے