کیا درجہ حرارت میں کمی سولر پینلز کی قیمتیں نیچے لے آئی؟
اشاعت کی تاریخ: 5th, December 2025 GMT
پاکستان میں عام طور پر سولر سسٹمز کا سیزن گرمیاں سمجھا جاتا ہے جب درجہ حرارت بڑھنے اور بجلی کی طلب میں اضافے کے باعث شہری بڑی تعداد میں سولر پینلز نصب کرواتے ہیں اور اسی دوران قیمتوں میں بھی اضافہ دیکھا جاتا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سستے سولر پینل کی تیاری آغاز، بجلی کے بلوں سے پریشان صارفین کے لیے بڑا ریلیف
تاہم اس بار صورتحال اس سے مختلف ہے۔ موسم سرما کا آغاز ہو چکا ہے جو روایتی طور پر سولر مارکیٹ کا آف سیزن سمجھا جاتا ہے مگر اس کے باوجود ملک بھر میں سولر پینلز کی قیمتوں میں اضافہ ہوا ہے۔
دلچسپ بات یہ ہے کہ مختلف خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹس میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز سستے ہو گئے ہیں لیکن جب وی نیوز نے سولر انڈسٹری سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی تو معلوم ہوا کہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
اس حوالے سے وی نیوز نے سولر انرجی سے وابستہ ماہرین اور مارکیٹ اسٹیک ہولڈرز سے بات کی۔
ڈائریکٹر رینرجی شرجیل احمد سلہری کے مطابق مارکیٹ میں یہ تاثر دیا جا رہا ہے کہ سولر پینلز کی قیمتوں میں کمی آئی ہے جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔
مزید پڑھیے: سولر پینلز اور انٹرنیٹ مہنگے ہونے کا امکان، ایف بی آر نے آئی ایم ایف کو تجاویز دیدیں
ان کے مطابق موجودہ حالات میں سولر پینلز کی قیمتوں میں کسی قسم کی کمی نہیں ہوئی بلکہ تقریباً 10 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔
سولر پینلز کی قمیتوں میں اضافے کی وجہ کیا ہے؟انہوں نے بتایا کہ عالمی مارکیٹ میں سردیوں کے دوران قیمتوں کا اوپر جانا معمول ہے جبکہ پاکستان میں جی ایس ٹی میں اضافہ اور خام مال کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی اس مہنگائی کی اہم وجوہات ہیں۔
ان کے مطابق یہ تمام عوامل مل کر فی الحال سولر سسٹمز کی مجموعی لاگت میں اضافہ کر رہے ہیں۔
مزید پڑھیں: سولر پینل کتنے درجہ حرارت پر زیادہ بجلی بناتا ہے؟
دوسری جانب پاکستان سولر ایسوسی ایشن کے سینیئر وائس چیئرمین حسنات خان کا کہنا ہے کہ قیمتوں میں کوئی بڑا اضافہ نہیں ہوا۔
ان کے مطابق صرف 3 سے 4 روپے فی واٹ کا معمولی اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے جو مارکیٹ کے نارمل اتار چڑھاؤ کا حصہ ہے اور اس سے کسی بڑے بحران یا نمایاں مہنگائی کا تاثر نہیں لینا چاہیے۔
قیمتیں آئندہ کچھ ہفتوں تک برقرار رہیں گیانجینیئر عدنان بٹ نے وی نیوز کو بتایا کہ اگرچہ بین الاقوامی مارکیٹ میں کبھی کبھار شپنگ لاگت یا ڈالر ریٹ میں ہلکی سی تبدیلی دیکھنے میں آتی ہے مگر مجموعی طور پر پاکستان میں سولر پینلز کی قیمتیں اس وقت خاصی حد تک مستحکم ہیں۔
انہوں نے وضاحت کی کہ عالمی سپلائی چین میں ایسی کوئی بڑی رکاوٹ موجود نہیں جو اچانک قیمتوں میں نمایاں اضافے کا سبب بنے اسی وجہ سے مارکیٹ ایک متوازن سطح پر چل رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیے: آسان اقساط پر سولر پینل لگوانے کے خواہشمند افراد کے لیے بڑی خوشخبری
عدنان بٹ کے مطابق روزانہ کی بنیاد پر قیمتوں میں معمولی اتار چڑھاؤ آنا ایک عام رجحان ہے جسے غیر معمولی نہیں سمجھنا چاہیے۔
انہوں نے بتایا کہ روزانہ کے حساب سے ایک سے 2 روپے فی واٹ کبھی بڑھ جاتے ہیں اور کبھی اتنے ہی کم بھی ہو جاتے ہیں اور یہ ایک نارمل مارکیٹ بیہیوئر ہے جس سے مجموعی قیمتوں کا تاثر متاثر نہیں ہوتا۔
مزید پڑھیں: سولر پینلز پر 10 فیصد ٹیکس، اب فی واٹ سولر پینل کی قیمت کیا ہوگی؟
ان کا کہنا تھا کہ موجودہ معاشی حالات میں نہ تو کوئی ایسا بڑا فیکٹر نظر آتا ہے جو قیمتوں کو اوپر دھکیلے اور نہ ہی کوئی ایسی وجہ ہے جو اس میں فوری کوئی کمی لے آئے لہٰذا آنے والے ہفتوں میں بھی سولر مارکیٹ کے اسی موجودہ مستحکم دائرے میں رہنے کی توقع ہے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
سولر پینل سولر سسٹم سولر سسٹم کی قیمتیں.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سولر پینل سولر سسٹم سولر سسٹم کی قیمتیں میں سولر پینلز سولر پینلز کی قیمتوں میں کے مطابق
پڑھیں:
عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت 100 ڈالر سے تجاوز، مزید اضافے کا خدشہ
اسلام آباد: مشرق وسطیٰ میں بڑھتی ہوئی کشیدگی کے باعث عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت میں نمایاں اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جہاں برینٹ کروڈ پہلی بار 100 ڈالر فی بیرل کی سطح عبور کر گیا، جبکہ امریکی خام تیل بھی 90 ڈالر فی بیرل سے اوپر پہنچ گیا۔
تازہ عالمی مارکیٹ رپورٹس کے مطابق خطے میں جاری غیر یقینی صورتحال اور سپلائی میں ممکنہ رکاوٹوں کے خدشات نے خام تیل کی قیمتوں کو نئی بلند ترین سطح پر پہنچا دیا ہے۔
ماہرین توانائی کا کہنا ہے کہ اگر مشرق وسطیٰ کی صورتحال مزید کشیدہ ہوئی اور تیل کی ترسیل متاثر ہوئی تو برینٹ کروڈ کی قیمت 120 ڈالر فی بیرل تک پہنچ سکتی ہے۔
تیل کی قیمتیں کیوں بڑھ رہی ہیں؟
تجزیہ کاروں کے مطابق ایران سے تیل کی سپلائی متاثر ہونے کے خدشات، بحیرہ احمر میں حوثیوں کی جانب سے بحری سرگرمیوں میں رکاوٹ اور اہم تجارتی راستوں پر بڑھتے ہوئے خطرات نے عالمی توانائی مارکیٹ کو شدید دباؤ میں ڈال دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایران کے اہم آئل ٹرمینل جزیرہ خارگ کو کسی بھی ممکنہ نقصان یا تیل کی صنعت میں ہڑتال کی صورت میں عالمی سطح پر سپلائی مزید متاثر ہو سکتی ہے، جس سے قیمتوں میں مزید تیزی آنے کا امکان ہے۔
پاکستان پر کیا اثر پڑ سکتا ہے؟
توانائی ماہرین کے مطابق اگر عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمت اسی رفتار سے بڑھتی رہی تو پاکستان میں بھی پیٹرول، ڈیزل اور دیگر پیٹرولیم مصنوعات مزید مہنگی ہونے کا امکان ہے۔ اس کے علاوہ ٹرانسپورٹ، بجلی کی پیداوار، صنعتی لاگت اور مہنگائی پر بھی اس کے اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ عالمی تیل منڈی میں جاری غیر یقینی صورتحال برقرار رہی تو نہ صرف توانائی کی قیمتیں مزید بڑھ سکتی ہیں بلکہ عالمی معیشت اور سپلائی چین بھی شدید دباؤ کا شکار ہو سکتی ہے۔