چین نے نیا سستا ترین ہائپرسونک میزائل متعارف کر کے دفاعی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی
اشاعت کی تاریخ: 4th, December 2025 GMT
چین کی ایرو اسپیس کمپنی لِنگ کانگ تیان شِنگ نے نیا ہائپرسونک گلائیڈ میزائل YKJ-1000 متعارف کر کے دفاعی مارکیٹ میں ہلچل مچا دی ہے۔
1300 کلومیٹر رینج اور آواز سے سات گنا زیادہ رفتار رکھنے والے اس میزائل کو ’’سیمنٹ کوٹِڈ میزائل‘‘ بھی کہا جا رہا ہے کیونکہ اس کی بیرونی تہہ میں حرارت برداشت کرنے والا فوم کنکریٹ جیسا عام تعمیراتی مواد استعمال کیا گیا ہے۔
چینی میڈیا رپورٹس کے مطابق کامیاب جنگی آزمائشوں کے بعد یہ میزائل بڑے پیمانے پر تیار کیا جا رہا ہے، اور اس کی فی یونٹ ممکنہ قیمت صرف 99 ہزار ڈالر بتائی جا رہی ہے۔
یہ قیمت امریکی دفاعی نظاموں کے مقابلے میں حیران کن طور پر کم ہے، جہاں ایک SM-6 نیول انٹرسیپٹر کی قیمت تقریباً 41 لاکھ ڈالر اور THAAD انٹرسیپٹر کی قیمت ایک کروڑ 20 لاکھ سے ڈیڑھ کروڑ ڈالر کے درمیان ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ حملہ آور کم لاگت میزائل اور انتہائی مہنگے دفاعی نظاموں کے درمیان یہ نمایاں فرق مستقبل کی جنگی حکمت عملی میں بڑا کردار ادا کر سکتا ہے۔
عسکری ماہر وی ڈونگ شو کے مطابق اگر YKJ-1000 عالمی مارکیٹ میں آیا تو اس کی بڑی مانگ پیدا ہوسکتی ہے کیونکہ بہت سے ممالک اب تک اپنے ہائپرسونک میزائل بنانے میں ناکام رہے ہیں۔
تاہم کئی مبصرین نے میزائل کی انتہائی کم قیمت پر شکوک کا اظہار کیا ہے، خصوصاً یہ کہ ایندھن اور راکٹ انجن جیسے مہنگے حصے اس کم لاگت میں کیسے ممکن ہیں۔ کمپنی نے کہا ہے کہ وہ جلد تمام سوالات پر وضاحت جاری کرے گی۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ” بنانے کیلئے نیا سسٹم متعارف کرادیا۔۔؟؟
حکومت نے بجلی کی سبسڈی کو “ٹارگٹڈ”(targeted subsidy) بنانے کے لیے نیا سسٹم متعارف کرا دیا ۔ جس کے تحت اب صارفین کو اپنی شناخت اور گھریلو معلومات کی تصدیق کرنا ہوگی۔
صارف جب کیو آر کوڈ اسکین کرتا ہے تو اسے ایک آن لائن پورٹل پر لے جایا جاتا ہے۔ اس پورٹل پر شناختی کارڈ ، موبائل نمبر اور بجلی کے میٹر کی تفصیلات درج کرنا ہوتی ہیں۔ اس کے بعد ون ٹائم پاس ورڈ کے ذریعے تصدیق مکمل کی جاتی ہے۔
حکام کے مطابق اس نظام کا مقصد ایک ہی خاندان کے مختلف افراد کے نام پر موجود متعدد میٹرز کو چیک کرنا ہے ۔ یہ بھی دیکھا جا سکے گا کہ کم یونٹس استعمال کرنے والا صارف واقعی مستحق ہے یا نہیں ۔
ذرائع کے مطابق اس عمل میں نادرا ، بجلی تقسیم کار کمپنیوں اور دیگر سرکاری ڈیٹا بیسز سے حاصل معلومات کو ملا کر صارف کی معاشی حیثیت کا جائزہ لیا جائے گا۔ یعنی اب سبسڈی صرف بجلی کے استعمال پر نہیں بلکہ گھرانے کی مجموعی صورتحال پر دی جائے گی۔
پاور ڈویژن کے مطابق اس وقت2 کروڑ 95 لاکھ 70 ہزار یعنی 86 فیصد گھریلو صارفین کو سبسڈی فراہم کی جارہی ہے۔ سبسڈی کا حجم 199 ارب سے بڑھ کر 423 ارب روپے تک پہنچ گیا۔ زرعی اور گھریلو شعبے کو 527 ارب روپے کی سبسڈی مل رہی ہے۔
حکام کے مطابق کیو آر کوڈ سسٹم کے ذریعے اہل صارفین کو بلاتعطل سبسڈی کی فراہمی جاری رہے گی۔دوسری طرف اس نئے نظام پر سوالات بھی اٹھ رہے ہیں کہ کیا صارفین کا ذاتی ڈیٹا محفوظ ہے؟ اور کیا تصدیق نہ کرنے کی صورت میں سبسڈی ختم ہو سکتی ہے؟
مزید پڑھیں:کسی کی برائی کرکے نہیں کارکردگی پر ووٹ مانگتے ہیں، نوازشریف
ادھر حکومت نے صارفین کو خبردار کیا ہے کہ جعلی کیو آر کوڈز اور لنکس سے محتاط رہیں ۔ کسی بھی غیر مصدقہ پلیٹ فارم پر اپنی ذاتی معلومات ہرگز شیئر نہ کریں۔