کمانڈر رائل سعودی لینڈ فورسز کی فیلڈ مارشل سے ملاقات، دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
راولپنڈی ( ڈیلی پاکستان آن لائن ) کمانڈر رائل سعودی لینڈ فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجوھانی نے فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی جس میں خطے کی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر بات چیت ہوئی۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ ( آئی ایس پی آر) کے مطابق کمانڈر رائل سعودی لینڈ فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود الجوھانی نے جی ایچ کیو کا دورہ کیا اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر سے ملاقات کی ۔
آئی ایس پی آر کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کےامور، خطے کی سلامتی اور دوطرفہ دفاعی تعاون بڑھانے پر گفتگو کی گئی۔
اسلام آباد کچہری میں پولیس کی چیکنگ بہت اچھی تھی، خود کش حملہ آور کو اندر جانے کا موقع نہیں ملا: وزیر داخلہ
فریقین نے پاک ،سعودی مسلح افواج کے دیرینہ و برادرانہ تعلقات مزید مضبوط بنانے کے عزم کا اعادہ کیا۔
مزید :.
ذریعہ
ذریعہ: Daily Pakistan
پڑھیں:
سعودیہ کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت مشرقِ وسطیٰ میں تاریخی پیش رفت ہوگی، نیتن یاہو
عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق اسرائیلی وزیراعظم کا اپنے بیان میں کہنا تھا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔ اسلام ٹائمز۔ اسرائیلی وزیراعظم بنیامین نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اگر سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل ہو جاتا ہے تو یہ مشرقِ وسطیٰ میں امن کے لیے ایک "تاریخی جست" ثابت ہوگی۔ عالمی خبر رساں ادارے کے مطابق نیتن یاہو نے اپنے بیان میں کہا کہ سعودی عرب کی ابراہم معاہدوں میں شمولیت نہ صرف اسرائیل اور عرب دنیا کے تعلقات میں ایک نئے باب کا آغاز کرے گی بلکہ پورے خطے میں استحکام، تعاون اور امن کے امکانات بھی بڑھ جائیں گے۔
اسرائیلی وزیراعظم کا یہ بیان امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے سعودی عرب کے مجوزہ سول جوہری معاہدے کو اسرائیل سے تعلقات معمول پر لانے سے مشروط کیے جانے کے بعد سامنے آیا ہے۔ صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ٹروتھ سوشل پر کہا تھا کہ امریکا اور سعودی عرب کے درمیان مجوزہ سول جوہری معاہدے کی حتمی منظوری اس وقت تک نہیں دی جائے گی جب تک سعودی عرب ابراہم معاہدوں میں شامل نہیں ہو جاتا۔
ٹرمپ نے یہ بھی واضح کیا تھا کہ مجوزہ معاہدہ صرف پُرامن اور غیر فوجی مقاصد کے لیے ہوگا اور اس کے تحت سعودی عرب کو یورینیئم افزودگی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔واضح رہے کہ ایک روز قبل جب اس مجوزہ جوہری معاہدے کی ابتدائی منظوری کا اعلان کیا گیا تھا تو صدر ٹرمپ نے اسے سعودی عرب اور اسرائیل کے تعلقات معمول پر لانے کی شرط سے منسلک نہیں کیا تھا، تاہم بعد ازاں انہوں نے واضح کیا کہ دونوں معاملات ایک دوسرے سے وابستہ ہیں۔