فیلڈ مارشل عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز کی ملاقات، تعلقات کو مزید فروغ دینے کا عزم
اشاعت کی تاریخ: 3rd, December 2025 GMT
فیلڈ مارشل سیّد عاصم منیر سے کمانڈر رائل سعودی فورسز لیفٹیننٹ جنرل فہد بن سعود نے ملاقات کی ہے۔
پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کے مطابق ملاقات میں باہمی دلچسپی کے امور، علاقائی سیکیورٹی اور دو طرفہ دفاعی تعاون کو مزید مضبوط بنانے کے مواقع پر گفتگو کی گئی۔
دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور سعودی عرب کی مسلح افواج کے درمیان دیرینہ اور برادرانہ تعلقات کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
فیلڈ مارشل عاصم منیر نے دونوں ممالک کے درمیان مضبوط دفاعی تعاون پر اطمینان کا اظہار کیا اور تربیت، استعداد کار میں اضافے اور انٹیلی جنس شیئرنگ کے شعبوں میں مسلسل تعاون کی ضرورت پر زور دیا۔
کمانڈر رائل سعودی لینڈ فورسز نے پاک فوج کی پیشہ ورانہ صلاحیتوں کو سراہا اور علاقائی امن و استحکام میں پاکستان کے مثبت کردار کی تعریف کی۔
قبل ازیں جی ایچ کیو پہنچنے پر معزز مہمان کو گارڈ آف آنر پیش کیا گیا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
wenews دوطرفہ تعلقات سید عاصم منیر فیلڈ مارشل کمانڈر رائل سعودی فورسز ملاقات وی نیوز.
ذریعہ
ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: دوطرفہ تعلقات فیلڈ مارشل کمانڈر رائل سعودی فورسز ملاقات وی نیوز فیلڈ مارشل
پڑھیں:
امریکا، اسرائیل کو جارحیت کے دوران ایرانی فضائی دفاع نے بھاری نقصان پہنچایا، ایرانی کمانڈر
ایران کی ایئرڈیفنس کے جوائنٹ ہیڈکوارٹرز کے کمانڈر بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے کہا ہے کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ بندی سے قبل جارحیت کے دوران فضائی جنگی صلاحیت اور آلات کو بڑا نقصان پہنچایا۔
ایرانی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق بریگیڈیئر جنرل علی رضا الہامی نے ایک انٹرویو میں کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو جنگ کے دوران جدید ڈرونز سمیت جنگی آلات کی مد میں کروڑ ڈالر کا نقصان پہنچایا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ امریکا اور اسرائیل کو پہنچنے والے نقصانات سے انہیں ایران کے اندر اپنے اہداف کی نشان دہی اور نشانہ بنانے کی صلاحیت پر بدترین اثر پڑا اور اس کے نتیجے میں فضائی کارروائی کی صلاحیت محدود ہوگئی۔
انہوں نے کہا کہ ایران نے منفرد اور مؤثر جواب کے لیے ڈسپرشن، الیکٹرونک ڈسپشن اور درست نشانہ پر حملوں جیسی ذہین حکمت عملیوں کا استعمال کیا گیا، دشمن کے فضائی حملوں کے اثرات کو نمایاں طور پر کم کر دیا اور اس کی ڈرون صلاحیتوں کو بھی کمزور کر دیا۔
کمانڈر نے کہا کہ ایرانی ایئرڈیفنس نے امریکا اور اسرائیل کے ایئرکرافٹ، ایم کیو-9 ریپر، ہرمیس 900، آربیٹر، لیوکاس اور ہیرمس 450 اور جنگی لڑاکا طیاروں کی فلیٹ کا مقابلہ کرنے کے لیے ریڈار ڈیٹا پروسیسنگ اور دیگر ٹیکنالوجی کا استعمال کیا، دشمن کو اپنے فائر پاور اور جدید ٹیکنالوجی پر انحصار تھا۔
علی رضا الہامی نے کہا کہ ایران کے جدید اور مربوط فضائی دفاعی نیٹ ورک نے حملہ آور دشمنوں کی فضائی قوت کو ایسا بھاری نقصان پہنچایا جو فضائی جنگوں کی تاریخ کے بدترین نقصانات میں شمار ہوتے ہیں۔