فیلڈ مارشل عاصم منیر سے مصری وزیر خارجہ کی اہم ملاقات، دفاعی تعاون پر گفتگو
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
راولپنڈی: پاکستان اور مصر کے درمیان دفاعی اور سفارتی تعاون سے متعلق انتہائی اہم ملاقات ہوئی، جس میں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے مصر کے وزیر خارجہ ڈاکٹر بدر احمد محمد عبدالعاطی کا خیرمقدم کیا۔
دونوں رہنماؤں کے درمیان ہونے والی ملاقات نہ صرف موجودہ صورتحال کے تناظر میں بلکہ مستقبل میں دوطرفہ تعلقات کے نئے امکانات کے لیے بھی اہم ہے۔ ملاقات کے دوران خطے کی مجموعی سیکورٹی صورتحال سے لے کر عسکری اشتراک کے مختلف پہلوؤں تک جامع گفتگو ہوئی، جس میں دونوں ممالک نے مشترکہ مفادات کے مطابق تعاون کو مزید وسعت دینے کے عزم کا اعادہ کیا۔
آئی ایس پی آر کے مطابق فیلڈ مارشل اور مصری وزیر خارجہ کے درمیان ہونے والی اس تفصیلی گفتگو میں دفاعی روابط، عسکری سطح پر قریبی رابطے، تربیتی تعاون، انسداد دہشت گردی حکمت عملی اور علاقائی امن سے متعلق متعدد نکات زیر بحث آئے۔
پاکستان اور مصر کے درمیان دیرینہ عسکری تعلقات کی بنیاد اس بات پر قائم ہے کہ دونوں ممالک نہ صرف خطے میں امن و استحکام کے خواہاں ہیں بلکہ نئی علاقائی صف بندیوں کے تناظر میں باہمی تعاون کو وقت کی اہم ضرورت سمجھتے ہیں۔ ملاقات میں اس بات پر بھی اتفاق کیا گیا کہ بدلتی ہوئی عالمی صورتحال کے پیشِ نظر دونوں ملکوں کا ایک دوسرے کے ساتھ اسٹریٹجک تعاون جاری رکھنا ناگزیر ہے۔
مصری وزیر خارجہ نے فیلڈ مارشل عاصم منیر کو اپنی قیادت کا خصوصی پیغام بھی پہنچایا اور پاکستان کے ساتھ تعلقات کو مزید مضبوط بنانے میں گہری دلچسپی کا اظہار کیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ مصر دفاعی، سفارتی اور اقتصادی شعبوں میں پاکستان کے ساتھ تعاون بڑھانے کا خواہاں ہے اور اس سلسلے میں اعلیٰ سطح کا مسلسل رابطہ دونوں ممالک کے لیے نہایت سودمند ثابت ہوگا۔ فیلڈ مارشل نے بھی اس موقع پر مصر کی جانب سے ظاہر کی گئی خواہش کا خیرمقدم کیا اور اس باہمی اعتماد کو علاقائی امن کے لیے اہم قرار دیا۔
اس ملاقات سے قبل مصری وزیر خارجہ نے صدرِ پاکستان آصف علی زرداری سے بھی الگ نشست کی، جس میں دوطرفہ تعلقات، اقتصادی تعاون اور خطے کی سیاسی صورتحال پر تفصیلی بات چیت کی گئی۔
صدر مملکت نے کہا کہ پاکستان مصر کے ساتھ اپنے دیرینہ، برادرانہ اور تاریخی تعلقات کو نہایت اہمیت دیتا ہے جو مشترکہ عقیدے، ثقافتی ہم آہنگی اور باہمی احترام پر قائم ہیں۔ انہوں نے زور دیا کہ دونوں ممالک کو چاہیے کہ ان تعلقات کو مستقبل پر مبنی تعاون میں تبدیل کرتے ہوئے تجارت، سرمایہ کاری اور عوامی سطح پر رابطوں کو مزید مستحکم کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Jasarat News
کلیدی لفظ: دونوں ممالک فیلڈ مارشل کے درمیان کے ساتھ مصر کے
پڑھیں:
دعا ہے فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، بلاول بھٹو زرداری
گلگت:پیپلز پارٹی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا ہے کہ فیلڈ مارشل امن کی کوششوں میں کامیاب ہوجائیں، امن کی کوششوں کا کامیاب ہونا ضروری ہے۔
گلگت بلتستان میں انتخابی جلسے سے خطاب میں انہوں نے کہا کہ ایران میں اسکول پر میزائل مار کر بچوں کو شہید کیا گیا اس جنگ میں ایران کے ساتھ ساتھ دنیا بھر کے عوام جنگ کا بوجھ اٹھا رہے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ ملک بھر میں کوئی سیاست دان نہیں جس نے میری طرح ملک بھر کے دورے کیے ہوں، میں گلگت بلتستان کی ہر تحصیل میں پہنچا ہوں، گزشتہ الیکشن میں خوشی کا ماحول تھا اس الیکشن میں سوگ کا ماحول ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بی آئی ایس پی ملک کا واحد پروگرام ہے جو ہر غریب کے گھر تک پہنچتا ہے، اس پروگرام کے خلاف سیاسی جماعتوں کی سازشیں ناکام ہوں گی۔
بلاول کا کہنا تھا کہ مشرف دور میں دیگر ممالک کےلیے فوجی بیسز بنے ہمارے دور میں نہیں، پاکستان کو ایٹم بم ذوالفقار علی بھٹو اور میزائل پروگرام بے نظیر نے دیا، ہم چاہتے ہیں پاکستان دفاعی و معاشی لحاظ سے مضبوط ہو، یہ کیسی معاشی پالیسی ہے کہ امیر، امیرتر ہوجائے اور غریب غریب تر ہوجائے، یہ تمام کام صرف ایک جماعت کراسکتی ہے اور وہ پیپلز پارٹی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ آپ نے ہر چیز کو اسلام آباد سے چلانا چاہا ہے، آپ پہلے گلگت بلتستان کو اس کا حق ملکیت دلادیں، یہ ماننا پڑے گا کہ کسی بھی پروجیکٹ میں مقامی لوگوں کو ملکیت دینی ہوگی جس طرح سندھ میں ہے جہاں تھر سے کوئلہ نکلا وہاں کے مقامی لوگوں کو بجلی دی گئی انہیں پروجیکٹس میں نوکریاں دی گئیں، انہیں شیئر کی بھی آفر کی گئی مگر انہوں ںے پیسہ لیا شیئر نہیں، تھرکول سے فائدہ سندھ کو نہیں پورے پاکستان کو ہورہا ہے مگر سب سے پہلے فائدہ مقامی لوگوں کو ہوا یہی پیپلز پارٹی چاہتی ہے۔
بلاول بھٹو زرداری کا کہنا تھا کہ میں صوبوں سے نہیں عالمی دنیا سے مقابلہ کرتا ہوں، سندھ میں جو ہاؤسنگ کا منصوبہ ہے یہ دنیا کا سب سے بڑا زلزلہ ہے، قبل ازیں یہ نیپال میں ریکارڈ تھا جہاں زلزلے کے بعد گھر بنے اور اب یہ ریکارڈ سندھ کے پاس ہے جہاں سیلاب کے بعد بیس لاکھ پکے گھر بنائے جارہے ہیں جو سیلاب آنے کے باوجود تباہ نہیں ہوں گے، یہ مکانات خواتین کے نام پر ہوں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ مجھے امید ہے کہ سات جون کو انتخابات میں یہاں کے عوام تیر کے نشان پر مہر لگائیں کہ تاکہ میں یہاں کے مقامیوں کو ان کا حق ملکیت دوں اور گلگت بلتستان میں اسپتالوں کا جال بچھادوں جہاں مفت علاج ہوسکے۔