اسرائیل کے جنگی جرائم اور نسل کشی پر جوابدہی ناگزیر ہے ، وزیر خارجہ
اشاعت کی تاریخ: 1st, December 2025 GMT
اسرائیل کی بے دریغ بربریت نے غزہ کو انسانیت ،عالمی ضمیر کا قبرستان بنا دیا ہے
صورتحال کو برداشت کیا جا سکتا ہے نہ ہی بغیر انصاف کے چھوڑا جا سکتا ہے ، اسحق ڈار
نائب وزیراعظم و وزیر خارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ عالمی قانون کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے گئے جنگی جرائم اور نسل کشی پر جوابدہی ناگزیر ہے ،غزہ میں اسرائیل کی جاری اور بے دریغ بربریت نے اسے انسانیت اور عالمی ضمیر کا قبرستان بنا دیا ہے ، اس صورتحال کو نہ برداشت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بغیر انصاف کے چھوڑا جا سکتا ہے ۔ بین الاقوامی یوم یکجہتی برائے فلسطینی عوام کے حوالے سے وزارت خارجہ سے اتوار کو جاری پیغام میں نائب وزیراعظم و وزیرخارجہ سینیٹر محمد اسحاق ڈار نے کہا کہ نسل در نسل فلسطینی عوام منظم بے دخلی، جارحیت اور تشدد اور تباہ کن محرومیوں کا سامنا کرتے آئے ہیں، ان کے گھروں، سکولوں، ہسپتالوں اور بنیادی سہولیات نے اس مسلسل آزمائش کا سب سے زیادہ بوجھ اٹھایا ہے ۔انہوں نے کہا کہ فلسطین میں انسانی مصائب کی بے مثال شدت عالمی برادری سے فوری، مضبوط اور عدل و انسانیت کے اصولوں پر مبنی ردعمل کا تقاضا کرتی ہے ، بین الاقوامی قانون کے مطابق اسرائیل کی جانب سے کیے گئے جنگی جرائم اور نسل کشی پر جوابدہی ناگزیر ہے ۔انہوںنے کہاکہ غزہ میں اسرائیل کی جاری اور بے دریغ بربریت نے اسے انسانیت اور عالمی ضمیر کا قبرستان بنا دیا ہے ، اس صورتحال کو نہ برداشت کیا جا سکتا ہے اور نہ ہی بغیر انصاف کے چھوڑا جا سکتا ہے اس نازک مرحلے پر حالیہ سفارتی کوششیں خصوصاً دو ریاستی حل پر اعلیٰ سطحی کانفرنس اور غزہ امن منصوبہ، تشدد کے نہ ختم ہونے والے سلسلے کو روکنے اور پائیدار امن کے حصول کا ایک حقیقی موقع فراہم کرتی ہیں،اب ضروری ہے کہ عالمی برادری ایک مستقل جنگ بندی کو یقینی بنائے ۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Juraat
کلیدی لفظ: اسرائیل کی جا سکتا ہے
پڑھیں:
نابالغ بچے کا نان نفقہ کسی معاہدے سے ختم نہیں کیا جا سکتا: لاہور ہائیکورٹ
لاہور ہائی کورٹ---فائل فوٹولاہور ہائی کورٹ نے قرار دیا ہے کہ باپ نابالغ بچے کے مستقبل کے نان نفقے کا حق کسی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے ختم نہیں کر سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ کے جسٹس محسن اختر کیانی نے درخواست پر تفصیلی تحریری فیصلہ جاری کر دیا۔
عدالت نے معاہدے کی بنیاد پر بچے کا نان نفقہ ختم کرنے سے متعلق باپ کی اپیل خارج کرتے ہوئے ٹرائل کورٹ، فیملی کورٹ اور اپیلٹ کورٹ کے فیصلے برقرار رکھے ہیں۔
عدالت نے اپنے فیصلے میں کہا کہ درخواست گزار کے مطابق بورڈنگ کارڈ جاری ہونے کے بعد اچانک آف لوڈ کیا گیا اور صرف اس خدشے پر سفر سے روکا گیا کہ شاید دبئی سے واپس نہ آئے۔
عدالتی فیصلے کے مطابق فریقین کی شادی 2002ء میں ہوئی تھی جبکہ 2005ء میں طلاق ہو گئی، طلاق کے بعد خاندان کے بڑوں نے دونوں فریقین کے درمیان ایک معاہدہ کروایا جس کے تحت شوہر بچے کے نان نفقے کے حوالے سے 60 ہزار روپے ادا کرے گا۔
عدالتی حکم نامے کے مطابق خاتون نے 2019ء میں بچے کے نان نفقے کا دعویٰ دائر کیا جس پر درخواست گزار نے مؤقف اختیار کیا کہ معاہدے کے باوجود دعویٰ دائر کرنا غیر قانونی ہے تاہم عدالت نے قرار دیا کہ مالی تنگی بھی باپ کی نان نفقے کی ذمے داری ختم نہیں کر سکتی اور نابالغ بچے کا نان نفقہ باپ پر مستقل جاری رہنے والا فریضہ ہے۔
فیصلے میں کہا گیا ہے کہ کسی نجی معاہدے یا رضامندی نامے کے ذریعے نابالغ بچے کا نان نفقے کا حق ختم نہیں کیا جا سکتا۔
عدالت نے واضح کیا ہے کہ نان نفقہ باپ پر صرف قانونی ہی نہیں بلکہ اخلاقی اور مذہبی ذمے داری بھی ہے جبکہ غیر ادا شدہ نان نفقہ باپ پر قابلِ نفاذ قرض ہے جو ختم نہیں ہو سکتا۔
لاہور ہائی کورٹ نے باپ کی درخواست خارج کرتے ہوئے فیصلے کی کاپی لاء اینڈ جسٹس کمیشن اور وزارتِ قانون و انصاف کو بھی بھیجنے کا حکم دیا ہے۔