اسحٰق ڈار: مسلم اُمہ کو متحد ہو کر عصری چیلنجز کا سامنا کرنا ہوگا
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
نائب وزیراعظم اور وزیر خارجہ اسحٰق ڈار نے کہا ہے کہ دنیا تیزی سے تبدیلی کے مراحل سے گزر رہی ہے، اس لیے مسلم اُمہ کو متحد ہو کر تمام عصری چیلنجز کا مقابلہ کرنا ہوگا۔
ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) کے مطابق ہفتہ کو بین الاقوامی قرات مقابلے کے شرکاء سے خطاب میں انہوں نے غزہ، مقبوضہ کشمیر، لبنان، عراق، شام، ایران اور قطر میں حملوں کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ مسلم دنیا مختلف مسائل اور مشکلات کا سامنا کر رہی ہے۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ مسلم اُمہ مشترکہ عقائد اور ایمان کی بنیاد پر متحد ہے اور علماء کرام کو چاہیے کہ اتحاد اور یکجہتی کی تعلیم دیں، کیونکہ یہی مسائل کا بہترین حل ہے۔
انہوں نے شرکاء سے کہا، “متحد رہیں، کیونکہ زمین پر کوئی طاقت ہمیں نقصان نہیں پہنچا سکتی اور اللہ تعالیٰ نے اُمہ کو وسائل سے نوازا ہے۔”
اسحٰق ڈار نے واضح کیا کہ اسلامی تعلیمات کسی قسم کی دہشت گردی یا انتہاپسندی کی اجازت نہیں دیتیں۔ انہوں نے کہا، “ایک انسان کو قتل کرنا پوری انسانیت کو قتل کرنے کے مترادف ہے، جبکہ ایک انسان کی جان بچانا پوری انسانیت کو بچانے کے مترادف ہے۔”
انہوں نے اپنے خطاب میں پاکستان میں دہشت گردی کے خلاف کامیابیوں کا بھی ذکر کیا، کہا کہ 2013 سے 2017 کے دوران نواز شریف کی قیادت میں ملک سے دہشت گردی کا خاتمہ کیا گیا، مگر 2018 میں کچھ غلطیوں کی وجہ سے 2021 سے 2025 کے دوران ہزاروں فوجی جوانوں نے قربانیاں دیں۔
انہوں نے مزید کہا کہ اب وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں پاک فوج کا عزم واضح ہے کہ دہشت گردی کا ایک بار پھر ملک سے خاتمہ کیا جائے گا۔
وزیر خارجہ نے شرکاء کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ یہ بین الاقوامی تقریب سالانہ بنیادوں پر منعقد کی جائے گی، اور نوجوانوں کو نصیحت کی کہ وہ قرآن و سنت کی تعلیمات سے رہنمائی حاصل کریں، ہمدردی، محبت، انسانیت، برداشت اور بین المذاہب ہم آہنگی جیسے اخلاقی اوصاف اپنائیں تاکہ مسلم اُمہ مضبوط اور ملک ترقی و خوشحالی کی راہ پر گامزن ہو۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
پڑھیں:
بلوچستان میں پیش آنیوالے پے درپے دہشتگردی کے واقعات افسوسناک ہیں، علامہ مقصود ڈومکی
اپنے بیان میں ایم ڈبلیو ایم رہنماء علامہ مقصود ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جسکا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ اسلام ٹائمز۔ مجلس وحدت مسلمین پاکستان صوبہ سندھ کے صوبائی صدر علامہ مقصود علی ڈومکی نے ببرلو بائی پاس پر پریا کماری سمیت لاپتا و مغوی بچوں کی بازیابی کے لئے جاری پرامن دھرنے پر پولیس کے کریک ڈاؤن، خواتین پر تشدد، ان کی بے حرمتی، بزرگ رہنماء لیاقت جلبانی، سوہنی پارس، صحافی ساحل جوگی اور متعدد مظاہرین کی گرفتاری کی شدید الفاظ میں مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اپنے بچوں کی بازیابی کے لئے سراپا احتجاج مظلوم والدین، خصوصاً ماؤں پر طاقت کا استعمال انتہائی افسوسناک، غیر انسانی اور قابل مذمت ہے۔ انہوں نے کہا کہ حکومت سندھ احتجاج کرنے والے مظلوم خاندانوں پر تشدد کرنے کے بجائے پریا کماری سمیت تمام مغوی بچوں اور بچیوں کی فوری اور محفوظ بازیابی کو یقینی بنائے، گرفتار افراد کو فوری رہا کرے اور صحافیوں کے آئینی و قانونی حقوق کا احترام کرے۔ انہوں نے کہا کہ پرامن احتجاج ہر شہری کا آئینی حق ہے اور اس حق کو طاقت کے ذریعے سلب نہیں کیا جا سکتا۔
علامہ مقصود ڈومکی نے بلوچستان کے ضلع مستونگ میں دہشت گردی کے افسوسناک واقعے کی بھی شدید مذمت کرتے ہوئے سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ اور ان کے پولیس محافظ کی شہادت پر گہرے رنج و غم کا اظہار کیا اور زخمی جج طارق علی لاشاری کی جلد و مکمل صحت یابی کے لئے دعا کی۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ کئی دہائیوں سے بلوچستان میں پیش آنے والے پے درپے دہشت گردی کے واقعات افسوسناک ہیں، اس ہفتے ژوب سے سفر کرنے والے خاندان پر حملہ، کوئٹہ سے کراچی جانے والی مسافر کوچ کا المناک سانحہ اور مستونگ میں سیشن جج عبدالحکیم کاکڑ کی شہادت شامل ہیں، صوبے میں امن و امان کی انتہائی تشویشناک صورتحال کی عکاسی کرتے ہیں۔
علامہ مقصود علی ڈومکی نے کہا کہ بلوچستان کا مسئلہ بنیادی طور پر ایک سیاسی مسئلہ ہے، جس کا حل طاقت، آپریشن اور جبر نہیں بلکہ بامعنی سیاسی مذاکرات، آئینی حقوق کی فراہمی، عوامی مینڈیٹ کے احترام اور عوام کے اعتماد کی بحالی میں مضمر ہے۔ گزشتہ کئی دہائیوں کے آپریشنز سے نہ امن قائم ہوا، نہ دہشت گردی ختم ہوئی اور نہ ہی مسائل کا مستقل حل نکلا، لہٰذا اب وقت آ گیا ہے کہ حکومت طاقت کی پالیسی ترک کرکے سیاسی مکالمے، مفاہمت اور سنجیدہ مذاکرات کا راستہ اختیار کرے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ پاکستان کے عوام کے حقیقی منتخب نمائندوں کو ان کا آئینی و جمہوری حق دیا جائے، عوامی مینڈیٹ کا احترام کیا جائے اور تمام سیاسی و سماجی اسٹیک ہولڈرز کے ساتھ نتیجہ خیز مذاکرات کئے جائیں۔ انہوں نے کہا کہ انصاف، سیاسی شمولیت اور عوام کے اعتماد کی بحالی ہی بلوچستان میں پائیدار امن کی ضمانت ہے، جبکہ دہشت گردی کے واقعات کی روک تھام کے لئے شہریوں کے جان و مال کا تحفظ ریاست کی اولین ذمہ داری ہے۔