پاکستان معدنی وسائل، مقامی مواد اور نوجوانوں کے جوہر میں دنیا سے کم نہیں: ڈاکٹر طاہر عرفان
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان، وائس چانسلر ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (AUST) نے کہا ہے کہ پاکستان معدنی وسائل، مقامی مواد اور نوجوان افرادی قوت کے لحاظ سے دنیا کے کسی بھی ملک سے کم نہیں، مگر نصاب کی جدید سازی اور اختراعی سوچ کے بغیر ملک کا صنعتی اور تعلیمی سفر آگے نہیں بڑھ سکتا۔
ڈاکٹر طاہر عرفان کے مطابق دنیا کی بڑی تکنیکی تبدیلیاں مٹیریلز کی بدولت آئیں، اور بیسک مٹیریلز کے بعد اب سرامکس اور جدید کوٹنگز کی عالمی مارکیٹ میں وسیع طلب پیدا ہو چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ کینیڈا نے نینو اسٹرکچرل کوٹنگز پر کام کیا ہے، جس کی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت ہے، اور پاکستانی جامعات بھی اپنی مصنوعات تیار کر کے عالمی مارکیٹ میں حصہ ڈال سکتی ہیں۔
انہوں نے بتایا کہ پاکستان میں انڈیجنس مٹیریلز اور معدنی ذخائر کافی مقدار میں موجود ہیں، جن میں کوہستان کے ایلومینیم، کرومائیٹ، کاپر، کرومیم اور اسٹیل کے بڑے ذخائر شامل ہیں۔ تاہم مناسب پروسیسنگ مشینری کی کمی کے باعث قومی وسائل کا پورا فائدہ حاصل نہیں ہو رہا۔ ڈاکٹر طاہر عرفان نے کہا، “خام مٹیریل باہر بھیجنا نقصان دہ ہے، ہمیں اپنی پروسیسنگ خود کرنی ہوگی، اور اہم معدنیات کی اصل مقدار کا درست اندازہ ابھی موجود نہیں۔”
وائس چانسلر نے یورپ اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں فرق کی جانب بھی توجہ دلائی اور کہا کہ یورپی جامعات میں نصاب کی اپڈیٹ، انٹرنیٹ ریسرچ لنکیج اور انڈسٹری کے مضبوط روابط موجود ہیں، جس کی وجہ سے معیار 3.
ڈاکٹر طاہر عرفان نے بتایا کہ اپنے پہلے ٹینیور میں انہوں نے AUST میں ٹیکنالوجی سینٹر قائم کیا، جہاں طلبہ اور انٹرپرینیورز کے آئیڈیاز پر کام ہو رہا ہے اور کئی منصوبے کمرشلائزیشن کے مرحلے میں ہیں۔ یونیورسٹی میں تقریباً پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں، اور 2023 میں جامعہ کو مالی طور پر سرپلس حالت میں چھوڑا گیا تھا۔
انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عملی اور صنعتی بنیادوں پر تعلیم حاصل کریں اور اپرنٹس شپس کو سنجیدگی سے اختیار کریں، کیونکہ مستقبل انوویشن اور مقامی وسائل کے مؤثر استعمال میں ہے۔
ڈاکٹر طاہر عرفان نے اپنی اعلیٰ تعلیم جاپان، برونیل یونیورسٹی لندن اور یونیورسٹی آف کیلبری کینیڈا سے مکمل کی، اور دوحہ و برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈفورڈ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ کے مسائل موجود ہیں، مگر اگر ڈویلپمنٹ بجٹ فراہم کیا جائے تو مزید ترقیاتی منصوبوں پر کام کیا جا سکتا ہے۔
ذریعہ
ذریعہ: Daily Mumtaz
کلیدی لفظ: ڈاکٹر طاہر عرفان انہوں نے نے کہا
پڑھیں:
شازیہ مری کا گلگت بلتستان الیکشن میں وفاقی حکومت پر سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام
پاکستان پیپلز پارٹی کی سینئر رہنما شازیہ مری نے گلگت بلتستان کے الیکشن میں وفاقی حکومت پر اثر و رسوخ اور سرکاری وسائل کے استعمال کا الزام لگادیا۔
کراچی سے جاری بیان میں شازیہ مری نے کہا کہ گلگت بلتستان میں وفاقی وزراء کی انتخابی مہم میں موجودگی اور سرکاری مشینری کا استعمال تشویشناک ہے۔
چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی ( پی پی پی) بلاول بھٹو زرداری نے کہا ہے کہ دعا گو ہوں کہ جنگ کے خاتمے کےلیے فیلڈ مارشل کی کوششیں کامیاب ہوں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی عمل میں مداخلت شفافیت اور منصفانہ انتخابات پر سوالیہ نشان ہے، الیکشن کےلیے لیول پلینگ فیلڈ ناگزیز ہے۔
پی پی پی رہنما نے مزید کہا کہ بلاول بھٹو کے فارم 45 اور فارم 47 سے متعلق بیان کو سیاق و سباق سے ہٹ کر پیش کیا جا رہا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ بلاول بھٹونے عوام کو یاد دلایا کہ گزشتہ انتخابات میں پیپلز پارٹی کی 9 نشستیں چھینی گئی تھیں، پی پی چیئرمین نے عوام سے کہا تھا کہ اپنے ووٹ اور فارم 45 کی حفاظت کریں۔
شازیہ مری نے یہ بھی کہا کہ درست فارم 45 کی موجودگی میں کسی کو عوامی مینڈیٹ چرانے کا موقع نہیں مل سکتا، فارم 45 انتخابی نتائج کی بنیاد ہے، اسی کے بعد فارم 47 جاری کیا جاتا ہے۔