پروفیسر ڈاکٹر طاہر عرفان ایبٹ آباد یونیورسٹی آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی (AUST) کے وائس چانسلر نے کہا ہے کہ پاکستان معدنی وسائل، مقامی مٹیریل اور نوجوان افرادی قوت کے اعتبار سے دنیا سے کسی طور کم نہیں، تاہم نصاب کی ازسرِ نو ڈیزائننگ اور انوویشن کے بغیر ملک کا صنعتی اور تعلیمی سفر آگے نہیں بڑھ سکتا۔

ان کے مطابق دنیا کی تمام بڑی تکنیکی تبدیلیاں مٹیریلز کی وجہ سے آئیں، اور بیسک میٹیریلز کے بعد اب سرامکس اور جدید کوٹنگز کی عالمی سطح پر وسیع طلب پیدا ہو چکی ہے، کینیڈا نے نینو اسٹرکچرل کوٹنگ پر کام کیا، جس کی مارکیٹ میں بہت زیادہ قیمت ہے۔ ہماری جامعات بھی اپنی مصنوعات بنا کر آسانی سے مارکیٹ میں لاسکتی ہیں۔

ان خیالات کا اظہار انہوں نے ایکسپریس کو دیئے گئے خصوصی انٹرویو  کے دوران کیا، ڈاکٹر طاہر عرفان نے بتایا کہ پاکستان میں انڈیجنس مٹیریلز اور معدنی ذخائر کی بڑی مقدار موجود ہے، جن میں کوہستان کے ایلومینیم، کرومائیٹ، کاپر، کرومیم اور اسٹیل کے بڑے ذخائر شامل ہیں، تاہم مناسب پروسیسنگ مشینری نہ ہونے کے باعث قومی وسائل کا فائدہ مکمل طور پر حاصل نہیں کیا جا رہا۔"

ان کا کہنا تھا کہ خام مٹیریل نکال کر دوسرے ملکوں کو دینا نقصان دہ ہے، ہمیں اپنی پروسیسنگ خود کرنی ہوگی۔ ہمارے پاس اہم معدنیات کی اصل مقدار تک کا ابھی درست اندازہ موجود نہیں۔"

انہوں نے کہا کہ یورپ اور پاکستان کے تعلیمی نظام میں بڑا فرق نصاب کی تازہ کاری، انٹرنیٹ ریسرچ لنکیج اور انڈسٹری سے مضبوط روابط کا ہے۔ ان کے مطابق اگر پاکستان کا معیار 1.

5 ہے تو یورپین جامعات 3.8 پر کھڑی ہیں۔

وائس چانسلر نے بتایا کہ اپنے پہلے ٹینیور میں انہوں نے AUST میں ٹیکنالوجی سینٹر قائم کیا، جہاں طلبہ اور انٹرپرینیورز کے آئیڈیاز پر کام ہو رہا ہے اور کئی منصوبے کمرشلائزیشن کے مرحلے میں ہیں۔

انہوں نے کہا کہ یونیورسٹی میں تقریباً پانچ ہزار طلبہ زیر تعلیم ہیں اور 2023 میں جامعہ کو مالی طور پر سرپلس حالت میں چھوڑا گیا تھا۔ڈاکٹر طاہر عرفان کا کہنا تھا کہ پاکستان کا ماحول اب پہلے سے بہتر ہے اور انہیں یہاں کسی قسم کا خطرہ محسوس نہیں ہوتا۔

انہوں نے نوجوانوں پر زور دیا کہ وہ عملی و صنعتی بنیادوں پر مبنی تعلیم حاصل کریں اور اپرنٹس شپس کو سنجیدگی سے اختیار کریں، کیونکہ مستقبل انوویشن اور مقامی وسائل کے موثر استعمال میں ہے۔

ڈاکٹر ظاہر عرفان نے اپنی اعلیٰ تعلیم جاپان، برونیل یونیورسٹی لندن، اور کینیڈا کی یونیورسٹی آف کیلبری سے مکمل کی، جبکہ وہ دوحہ اور برطانیہ کی یونیورسٹی آف بریڈفورڈ میں بھی خدمات انجام دے چکے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ بجٹ کا مسئلہ ضرور ہے تاہم ڈویلپمنٹ بجٹ ملے تو مزید ترقیاتی منصوبوں پر کام کریں گے۔

ذریعہ

ذریعہ: Express News

کلیدی لفظ: ڈاکٹر طاہر عرفان انہوں نے

پڑھیں:

رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد

رحیم یارخان میں لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد کر لی گئی، ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 19 جولائی کو نوجوان کو طلب کیا تھا جس کے بعد نوجوان لاپتا ہو گيا تھا۔

ڈی پی او عرفان سموں کے مطابق مقتول نوجوان کے بھائی کی مدعیت میں ایس ایچ او سمیت 5 پولیس اہل کاروں کے خلاف مقدمہ درج کیا گیا تھا۔

مدعی کا کہنا تھا کہ ایس ایچ او کوٹ سمابہ تھانا نے بچی کے مبینہ قتل کیس میں 4 روز قبل بھائی کو طلب کیا اور تشدد کرکے قتل کردیا۔

پولیس نے تفتیش کے بعد گرفتار ملزم ایس ایچ او کی نشان دہی پر مقتول نوجوان کی لاش تھانہ صدر صادق آباد علاقہ رانجھی خان میں گنے کی فصل سے برآمد کر لی۔

متعلقہ مضامین

  • پاکستان کا بنگلہ دیش کے ساتھ تعلیمی تعاون بڑھانے کا عزم، ڈھاکہ یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں کمپیوٹر لیب قائم
  • نیٹ پیپر لیک: دہلی سے اٹھنے والا احتجاج بھارت بھر میں پھیل گیا، دہلی یونیورسٹی نے طلبہ کو جنتر منتر جانے سے روک دیا
  • عطا اللہ تارڑ نے اب تک معافی نہیں مانگی، وزیراعظم وزرا کے تضحیک آمیز رویے کا نوٹس لیں، سحر کامران
  • پاکستان بحریہ سعودی عرب کی خواہش پر حوثی باغیوں کو کنٹرول کرے گی، ایمبیسیڈر عمران علی
  • پاکستان ڈی ایٹ ممالک کے ساتھ مضبوط معاشی شراکت داری قائم کرنا چاہتا ہے، عرفان سومرو
  • رحیم یارخان: لاپتا نوجوان کی لاش گرفتار ایس ایچ او کی نشاندہی پر برآمد
  • مولانا محمد علی جوہر یونیورسٹی کو بچانے کیلئے طلباء کا احتجاج جاری، ہزاروں طلباء کا احتجاج
  • مریم نواز کا اربن فلڈنگ اور سیلاب سے نمٹنے کے لیے وسائل بروئے کار لانے کا حکم
  • حکومت نے نیشنل امیگریشن اینڈ ویلفیئر پالیسی 2026 کا اجرا کر دیا
  • آئی ایم ایف کی شرط پر ایکسپورٹ پروسیسنگ زونز کی مصنوعات مقامی مارکیٹ کو فروخت نہ کرنے کا فیصلہ