بی جے پی حکومت کی بھارتی حکومت نے کشمیریوں کو دیوار کیساتھ لگا دیا ہے، سیاسی ماہرین
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کی آڑ میں لوگوں کے گھروں پرچھاپے مار رہی ہیں اور بےگناہ لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال رہی ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ بھارت کے غیر قانونی زیر قبضہ جموں وکشمیر میں سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا ہے کہ بی جے پی کی بھارتی حکومت علاقے میں بدترین ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہی ہے اور اس نے کشمیریوں کو مکمل طورپر دیوار کیساتھ لگا دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے سرینگر میں ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ بی جے پی حکومت نے علاقے میں جبر، مظالم اور دیگرآمرانہ اقدامات تیز کرتے ہوئے کشمیریوں کی زندگی جہنم بنا دی ہے۔انہوں نے کہا کہ قابض بھارتی فورسز غیر قانونی سرگرمیوں کی روک تھام کے کالے قانون ”یواے پی اے“ کی آڑ میں لوگوں کے گھروں پرچھاپے مار رہی ہیں اور بےگناہ لوگوں کو گرفتار کر کے جیلوں اور عقوبت خانوں میں ڈال رہی ہیں۔ انہوں نے کہا کہ کشمیری ڈاکٹروں سمیت اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوانوں کو محض حق خودارادیت کا مطالبہ کرنے پر نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے سب سے بڑے جمہوری ملک ہونے کے دعویدار بھارت نے مقبوضہ علاقے میں انسانی حقوق کے عالمی چارٹر اور اصول و ضوابط کی دھجیاں اڑا کے رکھ دی ہیں۔ سیاسی ماہرین اور تجزیہ کاروں نے کہا کہ اگست 2019ء میں مقبوضہ جموں و کشمیر کی خصوصی حیثیت کے خاتمے کے بعد کشمیریوں پر بھارتی مظالم اور سیاسی ناانصافیوں میں تیزی آئی ہے، اس وقت آزادی پسند رہنماﺅں اور کارکنوں سمیت ہزاروں کشمیری جیلوں میں بند ہیں، کشمیریوں کے گھر، زمینیں اور دیگر املاک ضبط کی جا رہی ہیں، سرکاری ملازمین کو جبری طور پر برطرف کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے اقوام متحدہ اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں پر زور دیا کہ مقبوضہ علاقے میں انسانیت کے خلاف سنگین جرائم پر بھارت کو جواب دہ ٹھرائیں اور تنازعہ کشمیر کو اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق حل کرانے کے لیے ٹھوس اقدامات کریں۔
.
ذریعہ
ذریعہ: Islam Times
کلیدی لفظ: انہوں نے کہا کہ سیاسی ماہرین علاقے میں رہی ہیں
پڑھیں:
میٹا اے آئی سمیت چیٹ بوٹس کے ذریعے سوشل میڈیا اکاؤنٹس ہیک ہونے کا خطرہ، ماہرین کی وارننگ
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ مصنوعی ذہانت یا اے آئی پر مبنی چیٹ بوٹس کے خلاف ایک نئے قسم کے سائبر حملے سامنے آئے ہیں جن کے ذریعے ہیکرز سوشل میڈیا اکاؤنٹس اور ذاتی معلومات تک غیر مجاز رسائی حاصل کر سکتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: دنیا بھر کی اہم شخصیات کے انسٹاگرام اکاؤنٹس ہیک ہونے کا انکشاف، میٹا نے سب بتادیا
ماہرین کے مطابق جدید بڑی زبان کے ماڈلز(ایل ایل ایمز) جن میں میٹا اے آئی سمیت دیگر اے آئی چیٹ بوٹس شامل ہیں کو ایک تکنیک پرومپٹ انجیکشن‘ کے ذریعے دھوکا دیا جا سکتا ہے۔ اس طریقے میں حملہ آور چیٹ بوٹس کے حفاظتی نظام کو بائی پاس کرتے ہوئے انہیں ایسے احکامات پر عمل کرنے پر آمادہ کرتے ہیں جو عام حالات میں ممکن نہیں ہوتے۔
سائبر سیکیورٹی ماہر بروس شنائر کے مطابق ہیکرز اس مقصد کے لیے ’پرولیج ایسکلیشن‘ نامی حکمت عملی استعمال کرتے ہیں جس کے تحت اے آئی ماڈل کو ایسی فرضی شخصیت اختیار کرنے پر قائل کیا جاتا ہے جو حفاظتی قواعد کو نظر انداز کر دے یوں چیٹ بوٹ کی محدود صلاحیتیں وسیع ہو جاتی ہیں۔
رپورٹ کے مطابق حملہ آور یہ خفیہ ہدایات بظاہر بے ضرر مواد، جیسے ای میلز، ویب سائٹس یا آن لائن پیغامات میں شامل کرتے ہیں۔ اگر چیٹ بوٹ ان ہدایات کو قبول کر لے تو ہیکرز کو صارف کے منسلک اکاؤنٹس اور ڈیجیٹل سروسز تک رسائی حاصل ہو سکتی ہے۔
مزید پڑھیے: اوپن اے آئی نے ’سورا‘ ایپ لانچنگ کے چند ماہ بعد ہی اچانک کیوں بند کردی؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک بار چیٹ بوٹ کے متاثر ہونے کے بعد اسے ذاتی معلومات چرانے، حساس ڈیٹا باہر منتقل کرنے یا صارف کے اکاؤنٹس تک غیر مجاز رسائی حاصل کرنے جیسے اقدامات کے لیے استعمال کیا جا سکتا ہے۔
سائبر سیکیورٹی ماہرین نے خبردار کیا ہے کہ خطرہ اس وقت مزید بڑھ جاتا ہے جب صارفین اے آئی ٹولز کو اپنی ای میل، کیلنڈر یا دیگر ذاتی سروسز تک رسائی دے دیتے ہیں کیونکہ اس سے حملہ آوروں کے لیے نقصان دہ سرگرمیوں کے نئے راستے کھل سکتے ہیں۔
مزید پڑھیں: ’کوئی پڑھے نہ پڑھے اے آئی تو پڑھے گی‘: قدیم زمانوں کے محبت نامے، خفیہ تحریریں آشکار
ماہرین کے مطابق ہیکرز کا حتمی مقصد مالی فراڈ، شناختی معلومات کی چوری اور دیگر نقصان دہ سرگرمیوں کو انجام دینا ہوتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ رجحان ظاہر کرتا ہے کہ مستقبل میں مصنوعی ذہانت کی اپنی استدلالی صلاحیتیں بھی صارفین کے خلاف استعمال کی جا سکتی ہیں جس سے روایتی سائبر سیکیورٹی اقدامات کو مؤثر بنانا مزید مشکل ہو جائے گا۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
اے آئی مصنوعی ذہانت ہیکنگ