سپریم کورٹ: آئندہ ہفتے کی کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
سپریم کورٹ پرنسپل سیٹ اسلام آباد نے آئندہ ہفتے کے لیے کاز لسٹ اور ججز روسٹر جاری کر دیا ہے۔
مزید پڑھیں: 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
پرنسپل سیٹ پر 5 ریگولر بینچز معمول کے مقدمات کی سماعت کریں گے، جبکہ ایک شریعت اپیلیٹ بینچ جمعہ کو قذف سے متعلق مقدمات کی سماعت کرے گا۔
مزید پڑھیں: بنگلہ دیش سپریم کورٹ نے نگران حکومت کا نظام بحال کردیا
جسٹس شاہد وحید اس 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ کی سربراہی کریں گے، جس میں جسٹس شکیل احمد، جسٹس عقیل عباسی اور ایڈہاک ممبرز ڈاکٹر خالد مسعود اور ڈاکٹر قبلہ ایاز شامل ہوں گے۔
آپ اور آپ کے پیاروں کی روزمرہ زندگی کو متاثر کرسکنے والے واقعات کی اپ ڈیٹس کے لیے واٹس ایپ پر وی نیوز کا ’آفیشل گروپ‘ یا ’آفیشل چینل‘ جوائن کریں
ججز روسٹر سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ کاز لسٹ.ذریعہ: WE News
کلیدی لفظ: سپریم کورٹ شریعت اپیلیٹ بینچ کاز لسٹ سپریم کورٹ
پڑھیں:
دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
دہلی میں شدید فضائی آلودگی کے باعث سپریم کورٹ کے چیف جسٹس سوریا کانت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صبح کی سیر کے بعد خود کو بھی ناساز محسوس کررہے ہیں۔ اسلام ٹائمز۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے آج قومی دارالحکومت دہلی میں ہوا کے بگڑتے معیار سے متعلق ایک عرضی کی سماعت کے لئے رضامندی ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ اس مسئلے کی مستقل بنیادوں پر نگرانی کی ضرورت ہے۔ سپریم کورٹ آف انڈیا نے دہلی این سی آر کی خطرناک فضائی آلودگی کے مسئلے پر 3 دسمبر کو سماعت کرنے کی منظوری دے دی ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت اور جسٹس جویمالیہ باغچی پر مشتمل بنچ نے سینئر ایڈووکیٹ اپراجیتا سنگھ، جو بنچ کی معاون ہیں، کی عرضیوں کا نوٹس لیا، جس میں کہا گیا کہ دہلی-این سی آر میں ایک تشویشناک صورتحال ہے اور یہ ایک صحت کی ہنگامی صورتحال ہے۔ چیف جسٹس سوریہ کانت کی سربراہی والی بنچ نے کہا کہ صورتحال خطرناک ہو چکی ہے اور اس پر مسلسل نگرانی کی ضرورت ہے۔
بنچ نے کہا کہ ہم سب مسئلے سے واقف ہیں، سوال یہ ہے کہ عملی حل کیا ہے۔ جادوئی چھڑی عدالت کے پاس نہیں، حل تو ماہرین ہی دے سکتے ہیں۔ 19 نومبر کو عدالت نے کمیشن فار ایئر کوالٹی مینجمنٹ (سی اے کیو ایم) سے کہا تھا کہ وہ دہلی-این سی آر کے اسکولوں کو شدید فضائی آلودگی کی وجہ سے نومبر و دسمبر میں ہونے والے کھیلوں کے مقابلوں کو ملتوی کرنے کی ہدایت پر غور کرے۔ واضح رہے کہ 26 نومبر کو دارالحکومت دہلی میں شدید فضائی آلودگی کے باعث سپریم کورٹ کے چیف جسٹس آف انڈیا سوریا کانت نے تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ صبح کی سیر کے بعد خود کو بھی ناساز محسوس کر رہے ہیں۔