Daily Mumtaz:
2025-11-29@09:08:40 GMT

طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ

اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT

طلاق 90 روز کی مدت پوری ہونے تک مؤثر نہیں ہوسکتی: سپریم کورٹ

اسلام آباد ( نیوزڈیسک) سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ مسلم فیملی لاز آرڈیننس 1961 کی دفعہ 7 کے تحت تین طلاق سمیت کسی بھی شکل میں دی گئی طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے۔

چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس یحییٰ آفریدی، جسٹس محمد شفیع صدیقی اور جسٹس میاں گل حسن اورنگزیب پر مشتمل 3 رکنی بنچ نے محمد حسن سلطان کی طلاق سے متعلق پٹیشن نمٹاتے ہوئے کہا کہ اگر خاوند نے بیوی کو طلاق کا حق بلا شرط تفویض کیا ہو تو بیوی کو طلاق واپس لینے کا حق بھی مکمل طور پر حاصل ہے۔

عدالت نے سندھ ہائیکورٹ کا 7 اکتوبر 2024کا فیصلہ درست قرار دیتے ہوئے کہا کہ فریقین نے 2016 میں شادی کی اور نکاح نامے کی شق 18 کے تحت خاوند نے بیوی (مورِیل شاہ) کو بلا شرط حقِ طلاق تفویض کیا تھا۔

بیوی نے 3 جولائی 2023 کو دفعہ 7 (1) کے تحت نوٹس جاری کیا لیکن 90 دن کی مدت پوری ہونے سے پہلے 10اگست 2023 کو یہ کارروائی واپس لے لی جس پر چیئرمین یونین/ آربیٹریشن کونسل نے طلاق کی کارروائی ختم کر دی۔

.

ذریعہ: Daily Mumtaz

پڑھیں:

صورتحال تو ایسی ہی ہے کہ تالے لگا دیں، آج عدالتیں مضبوط ہوتیں تو یہ سب نہ ہورہا ہوتا، جج ہائیکورٹ

اسلام آباد ہائی کورٹ میں لاہور اور بہاولپور سے کم سن بچیوں اور والدہ کے اغوا، سابق سی ای او پی آئی اے مشرف رسول کے شہری وقاص احمد، سہیل علیم کے ساتھ لین دین کے تنازع سے متعلق مقدمے کی سماعت ہوئی۔

وقاص احمد اور سہیل علیم کیخلاف درج مقدمہ خارج کرنے کی درخواست پر اسلام آباد ہائی کورٹ نے ڈی آئی جی انوسٹی گیشن اسلام آباد کو آئندہ سماعت پر طلب کرلیا۔

عدالت نے استفسار کیا کہ  ڈی آئی جی انوسٹی گیشن آکر بتائیں کیا لاہور پولیس کا بیان قلمبند کیا گیا، ڈی آئی جی بتائیں جنہوں نے خاتون کے گھر لاہور چھاپہ مارا، کیا ان کا بیان قلمبند کیا گیا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ کیا ان کے پاس سرچ  وارنٹ موجود تھے ، جنھوں نے خاتون اور بچیوں کو گھر سے اٹھایا، وکیل لطیف کھوسہ نے مشرف رسول کی چیف جسٹس پاکستان کے ساتھ ایک میٹنگ میں موجودگی کی تصویر عدالت کو دکھا دی۔

لطیف کھوسہ نے کہا کہ بیس نومبر کی تصویر ہے جس میں مشرف رسول جوڈیشل ریفارمز کی میٹنگ میں موجود ہیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی کا مشرف رسول کے وکیل سے مکالمہ ہوا،  وکیل شہریار طارق  نے کہا کہ سپریم کورٹ نے اس عدالت کا اکتوبر کا ایک آرڈر معطل کر رکھا ہے، جسٹس محسن اختر کیانی  نے ریمارکس دیے کہ اس کے بعد جو آرڈر ہوا تھا وہ معطل نہیں ہوا، آپ اس عدالت کو کام سے روک نہیں سکتے، ہم جو آرڈر کرینگے آپ اسے آئینی عدالت میں لے جائیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ ہم ایک واقعے کی سچائی میں جانا چاہتے ہیں جس میں ایک خاتون اور اسکی بچیوں کی تذلیل ہوئی ہے، اگر بغیر سرچ وارنٹ  کے کسی کو اٹھایا تو وہ اغوا سمجھا جائے گا، پولیس کچھ کر نہیں سکتی ، ایف آئی اے انوسٹی گیشن کرنا نہیں چاہتی۔ 

لطیف کھوسہ  نے کہا کہ مشرف رسول نے ساڑھے سولہ کروڑ کا گھر اسلام آباد میں بنایا، جو لین دین کا تنازع تھا دوسری طرف نیوی ہے، اب نیوی سے لین دین کریں تو ان کے پر جلتے ہیں۔

مشرف رسول کے وکیل شہریار طارق نے سپریم کورٹ کے فیصلے کا حوالہ دیا اور مؤقف اپنایا کہ ہم نے سپریم کورٹ سے رجوع کیا تھا لیکن اب وفاقی آئینی عدالت میں بھی درخواست دی یے۔

جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ مطلب یہ معاملہ آئینی عدالت، سپریم کورٹ، پولیس، ایف آئی اے اور مجسٹریٹ کے پاس التوا میں ہے، وکیل شہریار طارق  نے مؤقف اپنایا کہ جی بالکل ایسا ہی آئینی عدالت میں ابھی کیس مقرر نہیں ہوا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ معاملہ اتنی جگہ التوا میں ہے اور کوئی انوسٹی گیشن نہیں ہورہی تو پھر انجوائے کریں، آپ کہنا چاہتے ہیں پہلے ہم 27 ویں آئینی ترمیم پر بحث کرینگے پھر دائرہ اختیار فائنل ہوگا۔ 

وکیل نے کہا کہ نہیں ایسا نہیں ہے، ہم نے اسی عدالت کا بس ایک آرڈر چیلنج کیا ہے، وکیل لطیف کھوسہ نے کہا کہ اگر اس صورتحال میں ہائی کورٹ جو آئینی عدالت ہی ہے اگر ہاتھ باندھے تو معذرت ہی ہے،  پھر تو معزرت کے ساتھ ہائی کورٹ کو تالے لگا دیں۔

جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ صورتحال تو ویسے اس وقت  ایسی ہی ہے، اگر عدالتیں مضبوط ہوتیں تو آج یہ سب کچھ نہ ہو رہا ہوتا،  لاہور سے خاتون اور اسکی تین سالہ بچیوں کو اغواہ کیا گیا اور یہاں پولیس مقابلہ کیا گیا، معاملہ وزیر اعلیٰ پنجاب اور آئی جی کو بھیجا تھا۔

جسٹس محسن اختر کیانی  نے ریمارکس دیے کہ عورت اور بچیوں کے اغوا پر قانون کی بے بسی پر شرم آتی  ہے، ہم سب دیکھ رہے ہیں اور کچھ ہر نہیں سکتے، تین سال کی بچی کو چھ دن ماں سے دور رکھا گیا یہ انتہائی شرمناک حرکت تھی، اس لیے عدالت نے یہ کیس دیکھا 
معاملہ لاہور آئی جی اور وزیر اعلی کو بھیجا۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے ریمارکس دیے کہ  ساری عدالتیں اگر کچھ نہیں کر سکتیں تو پھر ہم کس لیے یہاں بیٹھے ہیں، اس کیس میں چوری کا مقدمہ خارج نہیں ہوسکتا ، ٹوٹل پانچ ایف آئی آرز ہیں۔

وکیل درخواست گزار  نے کہا کہ اب سات ایف آئی آر ہوگئی ہیں، جسٹس محسن اختر کیانی  نے کہا کہ اچھا اب سات ہوگئی ہیں ، آگے دس ہو جائیں  گی، جس پولیس پر الزام ہے اسی سے آپ نے تفتیش کروانی یے، جو ایس پی یہاں آئے تھے ان کو کیس کا ایک لفظ پتا نہیں تھا۔

لطیف کھوسہ  نے مؤقف اپنایا کہ کسی قابل اعتماد ایجنسی یا ادارے سے معاملہ انوسٹی گیٹ کروالیں ،جسٹس محسن اختر کیانی  نے استفسار کیا کہ وہ ایجنسی کون سی ہے جو غیر جانبدار ہے جس پر ہم اعتماد کرسکیں آپ بتا دیں۔

لطیف کھوسہ نے جواب دیا کہ بدقسمتی سے یہ بس یہ مشکل کام ہے، ہم نے دیکھ لیا اپنی زندگی میں جو دیکھنا تھا، مستقل کے بچوں کا کیا ہوگا، عدالت نے ڈی آئی جی کو طلب کرتے ہوئے سماعت نو دسمبر تک ملتوی کردی۔

دوران سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ میں اہم قانون سازی کا تذکرہ ہوا،  پولیس تفتیش اور اخراج مقدمہ کے کیس میں ہائی کورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل آئینی عدالت دائر کرنے پر اہم مکالمہ ہوا۔

دوران سماعت وکیل کی جانب سے بتایا گیا کہ اس ہائیکورٹ کے فیصلے کے خلاف اپیل آئینی عدالت میں دائر کی ہے، جسٹس محسن اختر کیانی  نے ریمارکس دیے کہ اچھا آپ ہمارے فیصلے کے خلاف آئینی عدالت چلے گئے،  تو کیا اب سپریم کورٹ کا جو آرڈر ہے وہ برقرار رہے گا یا خارج سمجھا جائے گا۔ 

وکیل شہریار طارق  نے مؤقف اپنایا کہ نہیں سپریم کورٹ کا آرڈر برقرار رہے گا، وکیل لطیف کھوسہ  نے کہا کہ آج کل پتہ نہیں چلتا روز نیا قانون بن جاتا ہے ،  آج بھی قومی اسمبلی کا اجلاس ہے جس میں اہم قوانین پاس ہونے جا رہے ہیں،  اس دوران بھی آپ جیسے ججز موجود ہیں تو ہمیں جوڈیشری پر اعتماد ہے، آپ جیسے لوگ ابھی بھی ہیں ہم آپ کے ساتھ ڈٹے ہوئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

  • 90 دن کی مدت پوری کیے بغیر طلاق نافذ نہیں ہو سکتی، سپریم کورٹ کا فیصلہ
  • طلاق اس وقت تک مؤثر نہیں ہو سکتی جب تک 90 دن کی مدت پوری نہ ہو جائے: سپریم کورٹ
  • آئین لکھنے کا حق پارلمینٹ کو ہے، سپریم کورٹ کو نہیں، اسپیکر پنجاب اسمبلی
  • دہلی اور اسکے اطراف میں بدترین فضائی آلودگی، معاملہ پر غور کیلئے سپریم کورٹ میں سماعت ہوگی
  • صورتحال تو ایسی ہی ہے کہ تالے لگا دیں، آج عدالتیں مضبوط ہوتیں تو یہ سب نہ ہورہا ہوتا، جج ہائیکورٹ
  • نور مقدم قتل معاشرے میں پھیلتی’برائی‘ کا نتیجہ ہے جسے ’لیو ان ریلیشن‘ کہا جاتا ہے، جسٹس باقر نجفی
  • جسٹس طارق محمود جہانگیری ڈگری تنازع کیس سماعت کے لئے مقرر
  • اسلام آباد ہائیکورٹ: 190 ملین پاؤنڈ کیس کے جج کی ڈیپوٹیشن چیلنج، فیصلہ محفوظ
  • نور مقدم قتل کیس: ظاہر جعفر کی اپیل مسترد، جسٹس باقر نجفی کا اختلافی نوٹ سامنے آگیا