انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کیلیے مقرر
اشاعت کی تاریخ: 29th, November 2025 GMT
اسلام آباد:
انتخابی نظام غیر اسلامی قرار دینے کا مقدمہ سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کرلیا گیا۔
ایکسپریس نیوز کے مطابق ملکی انتخابی نظام کو غیر اسلامی قرار دینے کا کیس عدالت عظمیٰ نے سماعت کے لیے مقرر کرلیا۔ جسٹس شاہد وحید کی سربراہی میں سپریم کورٹ کا 5 رکنی شریعت اپیلیٹ بینچ 5دسمبر کو کیس کی سماعت کرے گا۔
واضح رہے کہ شریعت اپیلیٹ بینچ کم و بیش ڈیڑھ سال بعد تشکیل دیا گیا ہے ۔
انتخابی نظام غیراسلامی قرار دینے کی درخواست 36سال قبل دائر ہوئی تھی ۔ شریعت کورٹ کے فیصلے کے خلاف حکومت نے 1989ء میں اپیلیں دائر کی تھیں۔
.ذریعہ: Express News
پڑھیں:
ٹرمپ کے خلاف انتخابی مداخلت کا مقدمہ خارج
data-id="863a0a8" data-element_type="widget" data-widget_type="theme-post-content.default">
امریکی ریاست جارجیا میں صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے خلاف انتخابی مداخلت کا مقدمہ غیر متوقع طور پر ختم کر دیا گیا۔
غیر ملکی میڈیا کے مطابق جج نے اس وقت کیس خارج کیا جب پراسیکیوٹر نے مقدمے میں شامل تمام فوجداری الزامات واپس لے لیے۔ پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ یہ مقدمہ ریاستی عدالتوں کے بجائے وفاقی دائرہ اختیار میں آتا ہے، اسی لیے اسے جاری رکھنا ممکن نہیں رہا۔
واضح رہے کہ جارجیا میں ٹرمپ اور ان کے متعدد ساتھیوں پر 2020 کے صدارتی انتخابات میں مداخلت کرنے کا الزام عائد تھا۔
استغاثہ یہ جانچنے کی کوشش کر رہا تھا کہ آیا صدر نے انتخابی نتائج کو تبدیل کرنے یا انہیں مسترد کرانے کے لیے کسی قسم کی سازش میں حصہ لیا تھا یا نہیں۔
اس مقدمے کو ٹرمپ کے خلاف اہم قانونی لڑائیوں میں سے ایک تصور کیا جا رہا تھا، تاہم پراسیکیوٹر کی جانب سے اچانک واپسی کے بعد یہ کیس اختتام پذیر ہوگیا۔ اس پیش رفت کو ٹرمپ کے لیے ایک بڑی قانونی کامیابی بھی قرار دیا جا رہا ہے۔